حضرت شاہ حسینؒ ، بابا فریدؒ اور میاں میرؒ صلح کل بزرگ ہونے کے ناطے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پنجابیوں میں مقبول تھے

حضرت شاہ حسینؒ ، بابا فریدؒ اور میاں میرؒ صلح کل بزرگ ہونے کے ناطے تمام مذاہب ...
حضرت شاہ حسینؒ ، بابا فریدؒ اور میاں میرؒ صلح کل بزرگ ہونے کے ناطے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پنجابیوں میں مقبول تھے

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط (5)  

شاہ حسینؒ پنجاب بھر کے تمام لوگوں میں بلاتمیز مذہب و فرقہ معروف و مقبول شاعر اور صوفی بن گئے ہیں۔ کنہیا لال ہندی نے تا ریخ لاہور میں جو اس نے انیسویں صدی کے آخر میں تحریر کی شاہ حسینؒ کے مزار پر میلے بارے لکھا ہے ”اس خانقاہ پر سال بھر میں دو مرتبہ بڑا بھاری میلہ ہوتا ہے۔ ایک تو بروز بسنت میلہ ہوتا ہے اور ہندو مسلمان اس میلے میں آتے ہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وقت مہاراجہ خود بسنت کے روز یہاں آ کر دربار کرتا تھا۔ اور چاردیواری کے شمال مغرب میں چاندی کا بنگلہ مہاراجہ کے جلوس کے واسطے قائم کیا جاتا تھا اور قلعہ لاہور سے اس خانقاہ تک دوطرفہ فوج پرا باندھ کر کھڑی ہو جاتی تھی۔ دوپہر کے بعد مہاراجہ بڑے تزک و شان کے ساتھ قلعہ سے سوار ہو کر یہاں آتا۔ بنگلے میں اجلاس کر کے تمام امرائے دربار سے نذریں لیتا اور خلعتیں دیتا، 500روپیہ خانقاہ پر چڑھاتا تھا“غیر مسلموں میں بابا فریدؒ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کاسارا کلام سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کا حصہ ہے۔ اگر یہ کلام محبت و عقیدت کی بنا ءپر گرنتھوں میں شامل نہ کیا جاتا تو اب تک ضائع ہو چکا ہوتا کیونکہ یہ کسی اور جگہ محفوظ نہیں کیا گیا تھا۔ 

حضرت میاں میر لاہوری ؒبھی اس طرح کے صلح کل بزرگ ہونے کے ناطے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پنجابیوں میں مقبول تھے۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب سکھوں کے گورو ارجن دیو نے سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ یعنی امرتسر کے دربار صاحب کی تعمیر کرنا چاہی تو اس کا سنگ بنیاد میاں میر کے ہاتھ سے رکھوایا۔ اس طرح سے میاں میر مذہبی تنگ نظری کی بجائے رواداری کی علامت بن گئے۔ 

پنجاب کے صوفی شاعر اپنی شاعری میں اسلام کی اصل روح کو پیش کرتے ہیں۔ یعنی انسان سے بلاتمیز نسل و مذہب محبت۔ اس کے برعکس قتل و غارت، دوسروں کی املاک پر قبضہ، دوسرے کے علاقوں پر چڑھائی، مذہبی منافرت وغیرہ سے مکمل قطع تعلق۔ ان باتوں کو گھٹیا اور گندا سمجھنا اور انہیں ترک کرنے کی دعوت دینا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شاعر پنجاب کا ضمیر بنے اور ا ن کی شاعری نے ہر پنجابی کو خواہ وہ مسلمان ہویا ہندو، سکھ یا عیسائی ہو متاثر کیاہے۔ یہ لوگ مذہب کی تنگ نظر تعبیروں کو رد کرتے ہیں۔ ملاّ اس تنگ نظری کی علامت ہے چنانچہ ان سب شاعروں نے اسلام کی اصل روح کو پیش کرنے کےساتھ ساتھ ملا اور اس کی ظاہر پرستی کی کھل کر مخالفت کی۔ یہ ملاّ وہی اسلام پیش کرتا تھا جو حاکم کا دربار چاہتا تھا، لوگوں کو آپس میں لڑاتا تھا، تنگ نظر اور ظاہردار تھا۔

وارث شاہؒ خود امام مسجد ہونے کے باوجود اسی صلح کل اور انسان دوست نظرئیے سے متصف تھے جو پنجابی صوفیاءکا شعار عام ہے۔ وہ خود اسی روایت کے مطابق ظاہر دار ملاّﺅں اور قاضیوں کے فریب کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ وارث شاہ ؒکی ہیر میں وہ پنجابی ثقافتی وحدت اپنے بہترین روپ میں جلوہ گر نظر آتی ہے جو مذہبی اور فرقہ وارانہ علیٰحدگی کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس میں جوگی اور قطب اور ابدال کے درمیان کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔ زبان محاورہ اور تلمیحات ایسی ہیں جو ہندو، مسلمان اور سکھ سبھی کا مشترکہ ورثہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وارث شاہ ؒکی ہیر ہر پنجابی کے دل کی آواز بنی رہی ہے اور پنجاب میں رہنے والے ہر شخص کو بلا تمیز مذہب متاثر کرتی چلی آئی ہے۔ وارث شاہؒ کی ہیر پنجابی عوام کی وحدت اور مشترکہ قومیت کا نشان ہے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -