انسان صرف ارادی افعال کا ذمہ دار ہوتا ہے اور انہی کے لیے اس کی تعریف یا خدمت کی جاتی ہے

 انسان صرف ارادی افعال کا ذمہ دار ہوتا ہے اور انہی کے لیے اس کی تعریف یا خدمت ...
 انسان صرف ارادی افعال کا ذمہ دار ہوتا ہے اور انہی کے لیے اس کی تعریف یا خدمت کی جاتی ہے

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 37

 اس مسئلہ کی فضیلت جذبہ یا عمل میں دو انتہائی حدوں کے مابین ایک معتدل و متوسط حالت ہوتی ہے۔ مثالیں درج ذیل ہیں۔

 زیادتی   اوسط    کمی

تہور   شجاعت    بزدلی

 عیاشی   عفت    ترک لذت

فضول خرچی  کشادہ دلی   بخل

بدمزاجی   خوش مزاجی   چاپلوسی

خوشامد   خوش خلقی    کج خلقی

 عدالت خاص معنی میں اوسط امر ہے یعنی اس کے ایک طرف تو اپنے حصے سے زیادہ لے لینا عیب ہے اور دوسری طرف اپنے حصے سے کم لینے کا عیب ہے۔ ارسطو یہ بھی کہتا ہے کہ اس نظریہ کو ہر جگہ کھینچ تان کر نہیں لانا چاہیے کیونکہ یہ تو گویا علامتی کھمبا ہے جو فضیلت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس کی کوئی قطعی تعریف نہیں۔ نیز بعض عیوب ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے کوئی اعتدالی حالت نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی یہ کہہ سکتے کہ یہ عیوب عیاشی، غضب، کینہ وری یا طمع جیسے شدید جذبات کے نتائج ہوتے ہیں۔

 جب فاعل فعل کا اصلی باعث ہوتا ہے اور خارج سے اس پر دباﺅ نہیں پڑتا تو اس وقت فعل ارادی ہوتا ہے۔ اس کے متعلق ارسطو کوئی عمیق اور دقیق بحث نہیں کرتا۔ وہ فرض کر لیتا ہے کہ انا یا ذات افعال کا باعث ہو سکتی ہے اور یہ نظریہ ایسا ہے جو کانٹ کے نظریہ آزادی ارادہ(اختیار) کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان صرف ارادی افعال کا ذمہ دار ہوتا ہے اور انہی کے لیے اس کی تعریف یا خدمت کی جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کو عادات حسنہ پیدا نہ کرنے کے متعلق الزام دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے جذبات کی شدت ممکن ہے اب اس کو ارادی عمل کے ناقابل کر دے لیکن ایک وقت ایسا تھا جب کہ اس میں اپنے اندر ضبطِ نفس کی فضیلت پیدا کرنے کی صلاحیت تھی۔ جو افعال و جذبات اخلاقی نقطہ نظر سے اچھے اور جو اخلاقی نقطہ نظر سے برے ہوتے ہیں ان کی تعریف و مذمت ہوتی ہے کیونکہ ان سے اس سیرت کا اظہار ہوتا ہے جو فاعل اپنے آپ میں ارادی افعال کے ذریعے سے پیدا کرتا ہے۔ 

فضائلِ اربعہ ارسطو کے نزدیک افلاطون (جمہوریہ) کی نسبت بہت محدود معنی رکھتے ہیں۔ وہ صرف مسلمہ معانی پر اکتفا کرتا ہے برخلاف اس کے افلاطون فلسفیانہ وحدت وار تباط پیدا کرنے کے لیے تعمیم کرتا ہے۔

 اعتدال سے ارسطو کی مراد لذتِ جسمانی میں اعتدال ہے خصوصاً ان جسمانی لذات میں جو انسان و بہائم میں مشترک ہیں۔ پرہیز گاری کا اعتدال سے بہت قریبی تعلق ہے۔ لیکن اس میں اور پرہیز گاری میں یہ فرق ہے کہ پرہیز گار کو شدید خواہش ہوتی ہی نہیں یا ہوتی ہے تو وہ اس کو عموماً دبا لیتا ہے۔ پس پرہیز گاری نسبتاً ادنیٰ درجے کی فضیلت ہے۔ اس سے تجاوز یعنی عدم ضبط، عیاشی سے زیادہ قابل عفو ہے جو اعتدال سے تجاوز ہے کیونکہ غیر ضابطہ شخص اپنی مرضی کے خلاف جذبہ کی شدید قوت سے مجبور ہو جاتا ہے۔ برخلاف اس کے عیاش آدمی کی قوت ارادی خراب ہو جاتی ہے اور وہ حد سے زیادہ لذات کا خواہشمند ہوتا ہے۔

 شجاعت یا بہادری بزدلی اور تہور کے مابین اعتدالی حالت ہے۔ شجاعت کے لیے یہ شرائط پوری ہونی لازمی ہیں۔ خوف کے لیے واقعی سبب موجود ہو اور خوف کا احساس بھی واقعاً ہوتا ہے اور اس کو کسی شریفانہ کام کے لیے دبایا جائے اور اس طرح سے دبایا جائے کہ صحیح قسم کے فعل میں خوف سے رکاوٹ واقع نہ ہو اور انسان اپنا فریضہ بلا جھجک اور بلاکسی پس و پیش کے انجام دے نیز یہ کہ انسان غیر ضروری خطرات میں بھی پڑنے کے لیے تیار نہ ہو کیونکہ یہ تہور کی طرف لے جاتا ہے۔ اس فضیلت کے اظہار کا لڑائی کے وقت سب سے بڑا موقع ہوتا ہے۔ حقیقی شجاعت بلکہ تمام اخلاقی فضائل کی علامت یہ ہے کہ ان کا محرک شریفانہ ہو۔ مثلاً شجاعت کی وہ اشکال جو بار بار خطرہ میں پڑنے کی عادت پر مبنی ہوں۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -