ہمیں بیوقوفانہ لباس میں ملبوس ہونا پڑتا تھا،شوکے دوران ہمارے سیٹ گدلے ہوتے، اکثر روشنیوں کا نظام ناقص ہوتا لیکن ہماری کوریوگرافی بہترین ہوتی

 ہمیں بیوقوفانہ لباس میں ملبوس ہونا پڑتا تھا،شوکے دوران ہمارے سیٹ گدلے ...
 ہمیں بیوقوفانہ لباس میں ملبوس ہونا پڑتا تھا،شوکے دوران ہمارے سیٹ گدلے ہوتے، اکثر روشنیوں کا نظام ناقص ہوتا لیکن ہماری کوریوگرافی بہترین ہوتی

  

مترجم:علی عباس

قسط: 38

وہ سب قطعی طور پر غلط تھے۔ ہمیں بیوقوفانہ لباس میں ملبوس ہونا پڑتا تھا اور احمقانہ مزاح کے نظام اُلاوقات سے قہقہوں تک ریکارڈ کراناپڑتے تھے۔ یہ سب جھوٹ پر مبنی تھا۔ ہمارے پاس ٹیلیویژن کا اُستاد بننے یا اِس کے بارے میں کچھ جاننے کےلئے وقت نہیں تھا۔ ہمیں ڈیڈ لائن پر پورا اُترنے کےلئے ایک دن میں تین ڈانس نمبرز تخلیق کرنا پڑتے۔ دی نیلسن کی ہر ہفتے جاری ہونے والی ریٹنگ ہماری زندگیوں کا تعین کرتی تھی۔ میں اسے دوبارہ نہیں کروں گا۔ اس راستے کے اختتام پر منزل کا کوئی نشاں موجود نہیں ہے۔ جو کچھ ہوا، اُس کی کچھ وجہ نفسیاتی تھی۔ آپ ہر ہفتے لوگوں کے گھروں میں دیکھے جاتے ہیں اور وہ یہ محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ اس سارے احمقانہ مزاح سے لیکر شو کے دوران قہقہے بلند کرنے تک کا کام کر رہے ہیں اور آپ کی موسیقی پسِ پردہ میں چلی جاتی ہے۔ جب آپ دوبارہ سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے کیریئر کی جانب لوٹتے ہیں جہاں سے آپ نے اُسے چھوڑا تھا، تو آپ ناکام ہوجاتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کے سامنے بہت زیادہ عیاں ہو چکے ہیں۔ آپ کے بارے میں لوگ ایسے اشخاص کا تاثر تخلیق کر لیتے ہیں جو بیوقوفانہ اور احمقانہ حرکتیں کرتے ہیں۔ ایک ہفتے آپ سانتا کلاز بنتے ہیں، اگلے ہفتے آپ کا کردار خوبصورت شہزادے کا ہے، آنے والے دنوں میں آپ خرگوش بنتے ہیں۔ یہ پاگل پن ہے کیونکہ آپ نے یہ سارا کرنے کے دوران اپنی شناخت کھو دی ہے: آپ کا لوگوں کو مدہوش کر دینے والا تاثر تحلیل ہو چکا ہے۔ میں مزاحیہ اداکار نہیں ہوں۔میں شو کا میزبان نہیں ہوں۔میں ایک موسیقار ہوں۔ اسی وجہ سے میں نے گریمی اور امریکن میوزک ایوارڈز کی تقریبات کی میزبانی کرنے کی پیشکش کو ٹھکرایا تھا۔ کیا یہ میرے لئے باعث تفریح ہوتا کہ میں وہاں اوپر کھڑا ہو جاتا اور کچھ کمزور لطائف سناتا اور لوگوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کرتا کیونکہ میں مائیکل جیکسن ہوں، جب میں دل سے جانتا ہوں کہ میں مزاحیہ نہیں ہوں؟

میں یاد کر سکتا ہوں کہ ٹی وی شو کے بعد ہم نے چہار اطراف سے حاضرین میں گھرِے ہوئے تھیٹر میں کام کیا جہاں سٹیج گردش نہیں کیا کرتا تھا کیونکہ اگر اُس کا رخ مڑتا تو ہم کچھ خالی کُرسیوں کے سامنے گلوکاری کر رہے ہوتے۔ میں نے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا اور میں وہ تھا جس نے اگلی مدت کےلئے نیٹ ورک کے ساتھ معاہدے کی تجدید سے انکار کیا تھا۔ میں نے اپنے باپ اور بھائیوںکو بتایا تھا کہ میں اسے ایک بڑی غلطی خیال کرتا ہوں اور وہ میرا نقطہ نظر سمجھ گئے تھے۔ حقیقتاً میں ریکارڈنگز شروع ہونے سے قبل ہی شو کے بارے میں بہت سارے اندیشوں کا شکار ہو چکا تھا لیکن میں نے اِسے ایک کوشش کے طور پر مکمل کیا تھا کیونکہ ہر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ یہ تجربہ یادگار اور ہمارے لئے بہتر رہے گا۔

ٹی وی کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز محدود سے وقت کے دوران مکمل کرنا پڑتی ہے، آپ کے پاس کسی چیز کو قطعی طور پر درست کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ نظام الاوقات۔۔۔ سخت نظام الاوقات۔۔۔ آپ کی زندگی پر حکمرانی کر رہے ہوتے ہیں۔اگر آپ کسی چیز سے خوش نہیں ہیں تو آپ کو محض اُسے فراموش کرنا ہوتا ہے اور اگلے ایکٹ کی جانب بڑھنا ہوتا ہے۔ میں فطرتاً حتمی درستگی کا قائل ہوں۔ میں چیزوں کو اُن کی بہترین شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں جہاں تک وہ بہتر ہو سکتی ہیں۔ میں چاہتا ہوں لوگ وہ دیکھیں اور سنیں جو میں نے کیا ہے اور محسوس کریں کہ میں نے اُس میں ہر وہ چیز شامل کر دی ہے جو مجھے دستیاب تھی۔ میں شائقین کی نوازشات پر خود کو اُن کا مقروض تصور کرتا ہوں۔ شو کے دوران ہمارے سیٹ گدلے ہوتے تھے، اکثر روشنیوں کا نظام ناقص ہوتا لیکن ہماری کوریوگرافی بہترین ہوتی۔ مختصراً شو زبردست کامیاب ہوتا تھا۔ وہاں ہمارے مقابل ایک دوسرا مقبولِ عام شو ہو رہا ہوتا اور ہم نیلسن ریٹنگ میں انہیں شکست سے دوچار کر دیتے۔ سی بی ایس ہمیں اپنے ساتھ وابستہ رکھنا چاہتا تھا لیکن میں آگاہ تھا کہ وہ شوکرنا ایک غلطی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے ہمارے گیتوں کی فروخت کو متاثر کیا اور اس نقصان کو پورا کرنے میں ایک طویل وقت صرف ہوا۔ جب آپ آگاہ ہوتے ہیں کہ آپ کےلئے کوئی چیز غلط ہے تو آپ کو مشکل فیصلے اور اپنے وجدان پر اعتماد کرنا پڑتا ہے۔

میں نے اس کے بعد بہت کم ٹی وی پر کام کیا”دی موٹون 25سپیشل “وہ واحد شو ہے جو میری یادوں کے اوراق میں محفوظ ہے۔بیری نے مجھ سے اس شو میں کام کرنے کا پوچھا اور میں نے انکار کی کوشش کی لیکن بالآخراُس نے اس بارے میں مجھ سے بات کی۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں ” بِلی جین“ کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ یہ شو میں شامل واحد گیت تھا جسے موٹون نے پروڈیوس نہیں کیا تھا لیکن وہ فوری طور پر رضامند ہوگیا۔ ”بِلی جین“ اُس وقت موسیقی کے چارٹس پر نمبرایک پر براجمان تھا۔ میں اور میرے بھائی شو کی ریہرسلیں کیا کرتے تھے، میں اپنی پرفارمنس کو کوریوگراف کرتا، چنانچہ میں ان گیتوں کو کامیابی سے مکمل کر لیتا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تصور موجود تھا کہ میں’ ’ِبلی جین“ کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ جب میںدوسرے کاموں میں مصروف ہوں گا تو اس دوران رقص کے حوالے سے خاکہ تشکیل پاتا رہے گا۔ میں نے کسی کو کہا کہ وہ بلیک فاڈورا خرید کر یا کرائے پر لا دے۔۔۔ یہ سراغرسانوں سے منسوب ہیٹ ہے۔۔۔ اور شو والے دن میں نے ڈانس کے حوالے سے خیالات کو یکجا کیا تھا۔ میں اُس رات کو نہیں بھول سکتا کیونکہ جب میں نے اختتام پر اپنی آنکھیں کھولیں تو لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے۔ میں اس ردِعمل سے سرشار ہو گیا تھا۔ یہ بہت اچھا محسوس ہوا تھا۔)جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -