قائد اعظم نے 2نومبر1945ءکو فرمایا ” ہمیں ہر حالت میں پاکستان حاصل کرنا اور اس میں رہنا ہے، ہماری بقاءاور زندگی کا مسئلہ پاکستان ہے“

قائد اعظم نے 2نومبر1945ءکو فرمایا ” ہمیں ہر حالت میں پاکستان حاصل کرنا اور اس ...
قائد اعظم نے 2نومبر1945ءکو فرمایا ” ہمیں ہر حالت میں پاکستان حاصل کرنا اور اس میں رہنا ہے، ہماری بقاءاور زندگی کا مسئلہ پاکستان ہے“

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (7) 

قائداعظم آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنما

قائد اعظم محمد علی جناحؒ صدر آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے کردار اور اُصول کی روشنی میں مسلمانانِ ہند کےلئے ایک آزاد منفرد اسلامی جمہوریہ مملکت کا تصوّر قائم کیا تھا۔اُن کا اُصول سیدھا سادھاتھا کہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ ہی ہند کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے ۔جو حصول آزادی کی حامی ہے اور جُدا مسلم ریاست اِس کا مشن ہے۔ کانگریس صرف ہندوﺅں کی نمائندگی کرتی ہے اور وہ مسلمانوں کی کسی طرح نمائندگی نہیں کرتی۔ حتیٰ کہ وہ دیگر ہند کے نچلی ذات کے ہندوﺅں کی بھی نمائندہ جماعت نہیں ، وہ صرف اُونچی ذات کے ہندوﺅں کےلئے ہے۔

آپ نے کانگریس کی اس پالیسی کو جانتے ہوئے حصولِ پاکستان کی کاوش کو تیز کردیا اور2نومبر1945ءکو فرمایا کہ” ہمیں ہر حالت میں پاکستان حاصل کرنا اور اس میں رہنا ہے اور اسی کےلئے وفا ہے۔ لہٰذا ہماری بقاءاور زندگی کا مسئلہ پاکستان ہے۔ اسی کےلئے کام کرنا ہے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ پاکستان کے حصول کےلئے کام کریں“۔ بلکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے تو 27اکتوبر 1945ءمیں احمد آباد کی پبلک میٹنگ میں یہ ارشاد فرمایاکہ ”پاکستان تو ہماری زندگی اور موت کا سوال ہے۔ میں زندہ بھی رہوں گا پاکستان کےلئے اور میری موت بھی پاکستان کےلئے ہو گی اور مجھے چاندی کی گولیاں چاہئیں تاکہ میں دشمن کا مقابلہ کرپاﺅں“۔

 قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار اور ارادہ مضبوط اور حوصلہ بلند تھا۔ اپنے اور خُدا کے اوپر مکمل بھروسہ تھا کہ کلکتہ کے بڑ ے جلسہ عام میں للکار کر کہا: 

 ہم انشاءاللہ جلد پاکستان حاصل کر کے اُس شاندار ملک میں زندگی گزاریں گے۔ بشرطیکہ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد اور ڈسپلن پیدا کریں۔ دُنیا کی کوئی طاقت ہمیں آزاد ملک سے انکار نہیں کرسکتی۔ کیونکہ پاکستان حاصل کرنے کے بغیر مسلمانانِ ہند کی موت ہے۔لہٰذا حصول پاکستان کے لیے قائد اعظم محمد علی جناحؒ مطمئن تھے۔وہ صرف اللہ اور جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔وہ بہت اونچے درجے کے سیاست دان تھے۔چنانچہ سٹینلے والپرٹ نے اُن کی سیاسی بصیرت اور دانائی کو یو ں بیان کیا :

 حکومت برطانیہ کی طرف سے کیبنٹ مشن جو23مارچ 1946ءکو لندن سے مذاکرات کےلےے پلان لے کرہندوستان آیا تھا محمد علی جناحؒ نے مذاکرات میں تقسیم ہند کے حق اور مسلمانوں کےلئے ایک علیٰحدہ وطن کےلئے ایسے دلائل دیئے اور ذہانت سے وہ نقطے اُٹھائے کہ سرپیتھک لارنس کو متعجب کر دیا۔سٹینلے والپرٹ اپنی کتاب قائداعظم کے صفحہ 260 پر لکھتے ہیں کہ جناح نے آئینی نقطے اور باریکیاں ایسے انداز میں پیش کیں کہ انگلستان کے چوٹی کے تینوں ممبران پیتھک لارنس، الیگزینڈر اور کرپس جناح کی ذہانت اور جواب کو رد نہ کر سکے۔ لہٰذاحصول آزادی کی جدوجہد میں جناح کی ذہانت ، دیانت، اُصول پرستی اور محنت شامل تھی۔

 قائد اعظم محمد علی جناحؒ قرار داد لاہور کے بعد بڑے مطمئن تھے کہ ہماری آزادی کی منزل قریب ہے۔ وہ اعلانیہ کہتے تھے ہم کسی صورت میں حصول پاکستان کو چھوڑ نہیں سکتے۔کیونکہ ہمارا راستہ صحیح ہے۔ میں مسلمانوں سے روپیہ نہیں مانگتا۔ صرف حصول آزادی کےلئے اساس دوقومی نظریہ ، جُداگانہ انتخاب چاہتا ہوں۔ (6اگست 1945ءبمبئی)

 پاکستان کے حصول کےلئے اُن کا ایک ہی مطالبہ تھا جو 3اگست1945ءکو کراچی میں ایک نعرہ دیا تھا کہ مسلمانانِ ہند مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے اکٹھے ہو جائیں اور یکجا ہو کرہی منزل ِ پاکستان پا سکتے ہیں۔مسلمانوں نے نعرہ بنایا تھا۔

مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ

 آپ نے کہا ہماری منزل پاکستان ہے اورآل انڈیا مسلم لیگ جماعت ہی صرف مسلمانوں کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ گویا حصول پاکستان کےلئے مسلم قومیت کا تصور اُجاگر ہوا۔ دوقومی نظریہ آگے بڑھانے کےلئے محنت ہوئی۔ لہٰذا قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کو فتح نصیب ہوئی۔ برٹش امپیریلزم اور کانگریس کو تقسیم ہند منظور کرنا پڑی ۔ یہ اُن دو بڑی طاقتوں کی بڑی شکست تھی اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒکو فتح نصیب ہوئی۔جب قائداعظمؒ نے 3جون 1947ءکو آل انڈیا ریڈیو سے تقسیم ہند کااعلان کرتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایاتو لفظ”پاکستان “دُنیا کے کونے کونے میں ریڈیو کی لہروں کے ذریعہ پہنچ گیا۔14اگست 1947ءکو پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آل انڈیا مسلم لیگ ،لیگی زعماءاور مسلمانانِ ہند کی جدوجہد کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔اس دن کی خوشی بیان کرنا مشکل ہے کہ ایک روز سورج کی کرنوں کی شعاعیں،تندی و تیزی کے ساتھ غلام ملک پر آگ برسا رہی تھیں۔ 14اگست کی صبح کو وہی کرنیں ایک آزاد ملک پر محبت ،یگانگت ، یکجہتی ، ایک قو م ، ایک ملک ، ایک کتاب کا درس دے رہی تھیں۔ گذشتہ رات چاند کی چاندنی چھپی ہوئی تھی اور مدھم طریقے سے ایک غلام ملک پر سے گزر رہی تھی۔ 

 15اگست کی رات چاندنے اپنی کرنیں اس پیار سے آزاد ملک پر بکھیر رکھی تھیں کہ ہرسمت نظارہ ہی نظارہ تھا اور نیا چاندعید الفطر کا پیغام لیکرآیا تھا۔ پاکستان لیلة القدر کو میسّر آیا اور عید کی خوشیوں کے ساتھ آزاد قوم ، آزاد ملک اور لازوال خوشیوں کے ساتھ آیا۔               

 آزادی کی سمت کو جاننے کےلئے ہمیں ذرا پیچھے1857ءکی جنگ آزادی کو بھی دیکھنا ہوگا۔جس میں 10مئی1857ءکو مرہٹ کے مقام پر مسلمانوں پر غداری کا الزام لگایا گیا اور انگریز کی حکومت نے مسلمانوں کو بڑی بڑی سزائیں،ایزائیںپولیس کے ذریعے دلوائیں۔1857ءکی جنگ آزادی کو غداری کا نام دیا گیا۔اس میں انگریز اور ہندو کی سازش شامل تھی۔بے شمار مسلمانوں کی لاشوں کو بے دردی سے درختوں پر لٹکایا گیا،بے حرمتی کی گئی،قتل کے بعد فوراً دفن نہیں کیا گیا تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ ہندوﺅں نے انگریز سے تعاون کیا اور مسلمانوں کےخلاف انگریز کے سامنے نفرت پھیلائی گئی۔ کیونکہ گذشتہ200سال سے مسلمان ہند پر حکومت کرتے آ رہے تھے۔15ویں صدی میں ہندوستان پر بابر نے بزور شمشیر قبضہ کیا تھا اور آخری مغل بادشاہ کی وفات 1707ءمیں ہوئی۔ مغل بادشاہ اورنگزیب کی وفات کے بعد مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا۔ بہادر شاہ ظفر اور اُن کے بیٹوں کے ساتھ انگریز نے بے دردی کا سلوک کیا۔ 

 ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال کے غداروں کو ساتھ ملا کرسراج الدولہ کی حکمرانی ختم کی۔بنگال پر قبضہ1753ءمیں کر لیا اور آہستہ آہستہ ہند پر قبضہ انگریز کاہوتا گیا۔شمال مغربی ہند کے حصہ موجودہ پاکستان پر انگریز آخر میں قابض ہوئے۔ پنجاب اور سرحد میں سکھوں کی حکمرانی تھی۔رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد انگریز نے 1849ءمیں موجودہ پاکستان پر قبضہ کرلیا اور اب انگریز ہی پورے ہندوستان پر قابض ہو گیا۔ ہندو ساتھ ملتے گئے۔ جاگیردار ریاستوں کے سربراہ بھی ساتھ ہو گئے۔ اس طرح انگریز نے ہندکے شمال مشرقی حصے پر 200سال تک حکومت کی اورشمال مغربی حصہ پر 100سال تک قابض رہے اور تقسیم ہند باﺅنڈری کمیشن غلط طریقے پر کرا کر چلے گئے ۔انگریز کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ تقسیم ہند1947ءمیں ہو جائے۔اس کےلئے بڑے حربے استعمال کیے گئے۔ محمد علی جناحؒ کو متحدہ ہندوستان کے وزیر اعظم کی کُرسی کی پیش کش ہوئی تاکہ تقسیم ہند نہ ہو لیکن وہ نہیں مانے۔ 

 تقسیم ہنداور دو قومی نظرئیے کے بارے میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی رائے بڑی پختہ ہوتی گئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دوقومی نظرئیے کی بنیاد تو اُسی وقت رکھی گئی تھی جب ہندوستان کا پہلا ہندو اپنی مرضی سے مسلمان ہو گیا تھا۔اس نے نہ صرف مذہب تبدیل کیا بلکہ زندگی کا سارا دھارا بدل لیا ۔مسلمان کا لباس مختلف ہو گیا۔ مسلمان کی خوراک ،کھاناپکانے کے طریقے مختلف مسلمان خوراک میں گوشت کھاتا ہے۔ خاص کر گائے کا گوشت شامل ہوگیا۔جسے ہندواسلام قبول کرنے سے پہلے پرستش کرتا تھا۔تمام سماج،عادات، اوقات، عبادات کے طریقے اور سوچ بدل گئی مگر برہمن کا کردار،مذہب اونچی ذات کی رٹ پر ہے اور بتوں کی پوجا ہے۔اسلام لانے کے بعد مسلمان کی ذات پات ختم ، بڑا چھوٹا امتیاز ختم۔ غریب چھوٹاکسی ذات کا انسان ہے اگر کردار میں بلند ہے اور تقویٰ دار ہے تو وہ امامت بھی کرسکتاہے۔جبکہ ہندو مذہب میں ایسا نہیں ہو پاتا۔صرف برہمن ہی پیروت ہوتا ہے۔ہر مسلمان بڑے آدمی کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہاں کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں اورنہ ہی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل ہے۔ مسلمان ایک برتن میں کھانا کھا سکتے ہیں۔

 پھر اسلام لانے کے بعد ہند وکی مسلمان لڑکی یا لڑکے سے شادی نہیں ہو سکتی۔ تاوقتیکہ وہ لڑکی مسلمان ہو جائے۔ آئیے عبادت گاہوں کو دیکھیں ۔ مند ر کی بناوٹ ، طریقہ ، آرکیٹیکچرمختلف ہے۔ مسجد کے محراب ، گنبد ، طریقہ جُدا ہے۔ مندر میں بتوں کی پوجا ہوتی ہے۔ دیوی کی عبادت کی جاتی ہے۔ ڈھولک اور ڈانس کی اجازت ہے۔ ننگے پن کی اجازت ہے۔ مگر اسلام میں ایسے معاملات تو نہیں ہو سکتے ۔ مسجد میں کوئی بت نہیں ۔ خُدا کے علاوہ کسی شخص کے سامنے جھکنا نہیں۔ صرف اللہ ہی کے سامنے سجدہ جائز ہے۔ لہٰذاہندوستان میں ہندو مسلم دونوں جُدا قومیں ہیں۔ ہندوﺅں کے نام سنسکرت سے ہیں۔ مسلمانوں کے اسماءگرامی عربی،فارسی اور اپنے پیغمبروں کے نام پر ہیں۔ مسلمان کے ہاں بچہ پید اہو تواس کے کان میں اذان دی جاتی ہے پھر اس کا ختنہ کیا جاتا ہے۔ یہ میڈیکل گراﺅنڈ پر مبنی اُصول ہے۔ جبکہ ہند ومذہب میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہندو اور مسلمان ایک ہندوستان میں تو بستے ہیں مگر نظریات ،عقیدے دونوں کے جُدا ہیں۔ ہندو مسلمان کا کھانا نہیں کھا سکتے۔ برہمن کو مسلمان ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ دونو ں ایک چارپائی پر بیٹھ نہیں سکتے تو وہ کیسے ایک قوم ہو سکتے ہیں۔ 

 قائداعظم محمد علی جناحؒ کا مطالعہ اسلام پر بہت تھا۔ اُن کو سپین کے مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی بداخلاقی اورظلم وستم کا علم تھا۔مسلمانوں نے سپین کو 712ءمیں فتح کیا۔تقریباً600سال سپین پر غلبہ رہا۔ سلطان آف غرناطہ عیسائیت کا مقابلہ 450سال تک کرتے رہے اور بڑی جنگ کے بعد فرڈیننڈ بادشاہ اور ملکہ اسبلا کے سامنے 1492ءمیں ہتھیار ڈالے اور سپین کے مسلمانوں سے 1502ءمیںکہا گیا کہ وہ عیسائی بن جائیں یا ملک چھوڑ دیں۔لہٰذا بہت سارے مسلمان امریکہ چلے گئے۔کچھ نے اسلام پر عمل کر لیا اور کچھ عیسائی ہو گئے اور کچھ جو اپنے آپ کو مراکش والے کہتے تھے۔ مگر 1609ءمیں ان کو بھی موت سامنے نظر آئی اور عیسائیوں کے وعدے ختم ہوئے۔قا ئداعظم نے اس بناءپر ہندوﺅں پر اعتبار نہیں کیا۔

 قائد اعظم محمد علی جناحؒ صدر آل انڈیا مسلم لیگ کے سامنے 1905ءکی بنگال کی تقسیم کی مثال بھی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف ہندﺅوں نے تقسیم بنگال کی تنسیخ کروائی۔ آپ نے ہندو کی سیاست کے داﺅپیچ سے پوری واقفیت حاصل کرنی تھی ۔ تقسیم بنگال سے مغربی بنگال کے ہندو تو الجھ پڑے۔ہڑتالیں کیں ،جلسے جلوس نکلنا شروع ہوگئے۔ مسلمانوں کےخلاف فسادات ہوئے ۔ وجہ یہ بھی تھی کہ اس تقسیم سے ہندوﺅں کو ڈر پڑ گیا تھا کہ مسلمان اُن کے قبضے سے نکل جائیں گے۔ کیونکہ مسلمان زیادہ تر مزدور تھے اور کاریگر بھی تھے۔ ہندوﺅں کو ڈر تھا کہ مشرقی بنگال مسلم بنگال ہو جائے گا۔ان میں تعلیم کی ابتداءہو جائے گی اور مشرقی بنگال کے مسلمان پڑھ لکھ جائیں گے۔ لہٰذا ہندوﺅں کے مفاد کے لیے لارڈ ہسٹنگرڈ وائسرائے ہند نے تقسیم بنگال1911ءمیں منسوخ کی گویا انگریز کو صرف ہندوﺅں اور اونچی ذات کے برہمن کا خیال تھا ۔ وائسرائے ہند لارڈ ہسٹٹنگرڈ نے دہلی دربار میں ملکہ کی تاجپوشی کی اوراس رسم کے موقع پر تنسیخ تقسیم بنگال کا اعلان کیا تھا۔ 

  30دسمبر1906ءمیں بنگال کے سرکردہ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی بنیاد سر نواب سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پر رکھی اور اس وقت بیرسٹر محمد علی جناح ؒجو کانگریس کے سرگرم اور اُبھرتے ہوئے مسلمان رہنما تھے کلکتہ میں کانگریس کے پلیٹ فارم سے تقریر کر رہے تھے۔ 1910ءاور 1911ءکے بعد قائد اعظمؒ اور دیگر مسلمان رفقاءسمجھنے لگے کہ کانگریس صرف ہندوﺅں کی جماعت ہے۔ لہٰذا مسلم قومیت کا اُصول پختہ ہو گیا اور قرار داد لاہور23مارچ 1940ءاور3جون 1947ءکے اعلانات پاکستان کی خوشخبری تھی۔

 پاکستان کے آئین کے بارے میں قائد اعظم نے اعلان کر رکھا تھا کہ نہ تو وہ اسلامی فقہ کے ماہر ہیں نہ ہی سکالر ہیں وہ موٹے موٹے اسلام کے اُصول سمجھتے تھے۔ اسلام کے اُصول جمہوریت، مساوات، برداشت، مذہبی آزادی پرہیں۔پاکستان کا آئین اسلامی اُصولوں کے مطابق ہو۔ انصاف ہو، سماج میں برابری اور انصاف ہو۔ قائداعظمؒ کہتے تھے کہ یہ اُصول ہم نے خود سے نہیں لیے بلکہ یہ توآج سے 14سو سال پہلے ہمارے پیغمبر اسلام نے دیئے۔ اِن اُصولوں پر اسلام آ جانے کے بعد کوئی ڈیر ھ صدی تک عمل ہوتارہا۔ آپ کی 11اگست 1947ءکی تقریر آئین ساز اسمبلی میں اسی اُصول کی غمازی کرتی ہے۔ آپ نے کہا کہ ملک میں لاءاینڈ آڈر مضبوط ہونا چاہیے ۔رشوت،سفارش ،اقربا پروری کا خاتمہ ہو اور سیاسی اعتبار سے ہر شہری برابر ہو۔ مذہبی اعتبار سے ہر ایک کا اپنا عقیدہ ہے۔ آئین کی تیاری ہونی چاہیے۔ 

 آپ مذہبی حکومت کے حق میں نہ تھے۔ آپ نے اپنے ایک انٹرویو میں امریکن نشریاتی ایجنسی کے نمائندے کو فروری1948ءمیں کہا تھا کہ پاکستان کا آئین بننا ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ تاہم مجھے یقین ہے ملک کا آئین جمہوری طرز کا ہوگا۔ جس میں اسلام کے سنہری اُصول موجود ہوں گے کیونکہ اسلام کے اُصول جو 14سوسال پہلے تھے وہ آج بھی اسی طرح لاگو ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اسلام کی روح اور نظریہ جمہوریت ہے۔ اسلام ہمیں انصاف،صاف ستھرا طریقہ زندگی سکھاتا ہے۔ ہم اس شاندار طریقہ کے وارث ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو اپنائیں۔ 

 ہمارے ملک میں بے شمار غیر مسلم پارسی،ہندو، سکھ اور عیسائی ہیں۔ مگر وہ سب کے سب پاکستانی ہیں۔ آزاد ملک میں ان کے حقوق اسی طرح کے ہوں گے جس طرح دوسرے کسی شہری کے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کا وجود ایک بے پناہ حوصلہ والی شخصیت اور مستقل مزاج رہنما کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے حاصل کیا۔قائداعظمؒ کی پختہ سیاسی بصیرت اور سمجھ بوجھ ہمارے لیے روشن مینار کی طرح ہے۔خدا کی طرف سے ملک عطا ہوا۔ ہم نے اس کو مضبوط کرنا ہے۔ قائداعظمؒ نے 14اپریل1943ءکو پشاور میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”ہمار ے لیے قرآن سب سے بڑا پیغام ہے۔ جو ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔ صرف ہم نے اپنے آپ کو پہچاننا ہے۔ اور آنکھیں کھول کر دیکھنا ہے کہ ہم میں کتنی صلاحیتیں اور طاقت ہے۔ ہمیں کامیابی تک صرف کام اور کام کرنا چاہیے۔“

 ایک اور مقام پر قائد اعظمؒ محمد علی جناح نے فرمایا:

” ملک پاکستان کی سرزمین مختلف ذرائع سے مزّین ہے۔ اس میں ذخائر ہیں۔ لیکن ملک کی تعمیر کےلئے ایک مسلمان قوم کے مطابق ہمیں اپنی ہر انرجی جو جو ہمارے اندر ہے اس کو استعمال کرنا ہے اور اگر ساری قوم خوداعتمادی سے دل لگا کر کام کرے تو ہم پاکستان کے مقاصد حاصل کرلیں گے“۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -