دودھ،شہد،پتی اور شیمپو کی قیمتوں میں اضافہ،یوٹیلٹی سٹور بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام

دودھ،شہد،پتی اور شیمپو کی قیمتوں میں اضافہ،یوٹیلٹی سٹور بھی عوام کو ریلیف ...

  

        لاہور (عامر بٹ سے تصاویر  عمر شریف) حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،یوٹیلٹی اسٹورز صارفین کو ریلیف دینے میں ناکام، عوام الناس نے مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کی سیاسی لڑائی کو مہنگائی اور یوٹیلٹی اسٹورز کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا،برانڈڈ چائے، دودھ، مصالحہ جات، ٹوتھ پیسٹ، شہد، شیمپو اور دیگر اشیاء خورد ونوش عوام کی پہنچ سے دور ہو گئیں۔ روزنامہ پاکستان کے سروے کے دروان معلوم ہوا کہ 950 گرام برینڈڈ چائے کی قیمت میں 198 روپے تک اضافہ کیا گیا، جس کے بعد قیمت 697 روپے سے بڑھ کر 895 روپے ہوگئی۔ ایک لٹر برانڈڈ دودھ کی قیمت 20 روپے اضافے کے بعد 177 روپے سے 197 روپے کر دی گئی۔260 گرام شہدجار 115 روپے بڑھ کر  425 روپے کا ہو گیا۔ علاوہ ازیں مختلف برانڈز کے شیمپو کی قیمتوں میں 30 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔اسطرح  خشک دودھ کا ڈبہ90روپے اضافہ کے بعد 1450 روپے کا ہو گیا۔ اس حوالے سے ترجمان یوٹیلٹی سٹورز نے بتایا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کو سامان سپلائی کرنے والے مختلف نیشنل اور ملٹی نیشنل برانڈڈ کمپنیوں نے مختلف برانڈڈ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ مختلف دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، ان اشیاء کی قیمتیں مارچ، اپریل سے مستحکم رکھی گئی تھیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن خود مینوفیکچرنگ یا پروڈکشن نہیں کرتا بلکہ ملک کی مایہ ناز اور سرٹیفائیڈ برانڈڈ کمپنیوں سے خریداری کرتا ہے۔جب خام مال، پروڈکشن چارجز  اور ٹرانسپورٹیش چارجز میں اضافہ ہوتا ہے تو پروڈکٹ کی لاگت بھی بڑھتی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں پر نظر ثانی کرنی پڑتی ہے۔دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز پر آنیوالی خواتین اور بزرگ شہریوں میں شدید مایوسی پھیل چکی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس قدر مہنگائی ہوچکی ہے کہ جینا محال ہوگیا ہے مگر یہ دونوں جماعتیں اس مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے آپسی لڑائی جھگڑے میں مصروف ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -