سوشل میڈیا پر زہریلا پراپیگنڈہ

 سوشل میڈیا پر زہریلا پراپیگنڈہ

  

لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی منفی مہم پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ  میجر جنرل بابر افتخار نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس منفی مہم کا شہداء کے خاندان پر گہرا اثر ہوا ہے اور افواجِ پاکستان کے رینک اینڈ فائل میں بھی بہت غم وغصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی سوشل میڈیا مہم کی وجہ سے شہداء اوران کے لواحقین کی دِل آزاری ہوئی۔ یہ ایک انتہائی مشکل وقت ہے جس میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے لیکن  چند بے حس و بے عقل افراد نے سوشل میڈیا پرتکلیف دہ اورتوہین آمیز مہم چلائی جو کہ قطعاً قابل قبول نہیں بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ہیلی کاپٹر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے دوران حادثے کا شکار ہوا لیکن اس حساس موضوع پر بے بنیاد مہم چلائی گئی۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف محمد منیب کیانی نامی ایک نوجوان سمیت کئی افراد نے منفی مہم چلائی تھی اور غیر مناسب و غیر اخلاقی الفاظ میں  ٹویٹس کیے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ منیب کیانی پاکستان تحریک انصاف سٹوڈنٹ ونگ کے سابق ڈپٹی کنوینر ہیں۔ کھلے عام پراپیگنڈہ کرنے پر پاک فوج نے ان صاحب کا کھوج لگایا۔ منیب کیانی نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے ”دانشوروں“ کی گفتگو سے متاثر ہوکراور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی غیر مصدقہ اطلاعات پڑھ کر ٹویٹ کر دیے تھے۔ منیب کیانی کے والد فرحت منیب کیانی نے بھی بیٹے کی حرکت پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ محب وطن ہیں،ان کی رگوں میں بھی  پاکستان آرمی کا خون دوڑ رہا ہے، وہ دِل و جان سے اس کا احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ کاش کہ اس نوجوان میں ذرا برابر بھی عقل ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ نہ صرف اس کا پتہ لگا لیا گیا بلکہ اس نے سر عام معافی بھی مانگ لی، شاید اس طرح باقی لوگوں کو بھی کچھ نصیحت ہو جائے۔ یہی نہیں بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دِل جوئی کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر صدرِ مملکت عارف علوی کی شہداء کے جنازے میں عدم شرکت کو لے کر بحث کا آغاز کر دیا گیا، مختلف ٹرینڈز چلا دیے گئے، یہاں تک کہ تحریک انصاف کو بیان جاری کرنا پڑا کہ صدرِ مملکت عارف علوی تو شہداء کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن سوشل میڈیا پر جاری پراپیگنڈے کے بعد کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اداروں نے انہیں روک دیا۔ اس کے باوجود بھی بحث نہ تھمی تو صدر عارف علوی صاحب کو میدان میں اترنا پڑا، انہوں نے بیان جاری کیا کہ شہداء کے جنازے میں ان کی عدم شرکت کو  غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس سوال پر کوئی بھی گفتگو کرنے سے گریز کیا تواس پر بھی لوگوں کی تسلی نہیں ہوئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی اِس بات کو بھی اچھالنے کی کوشش کی گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے  پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈہ  زور و شور سے جاری ہے، دبے الفاظ میں انگلی تو پہلے بھی اٹھائی جاتی تھی لیکن جب سے وفاق میں حکومتی منظر نامہ بدلا ہے، تب سے پاک فوج کو کھلم کھلا معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ترجمان پاک فوج کو بار بار یہ باور کرانا پڑرہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ادارے کے خلاف مہم جوئی سے باز رہا جائے، شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی گفتگو میں متعدد بار اس کا ذکر بھی کیا۔ پاک فوج کا شکوہ، ان کا غصہ اور جذبات کا مجروح ہونا بالکل جائز ہے۔ ہمارے معاشرے میں کبھی یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی، یہاں تو کبھی کوئی حادثہ ہو جائے تو رنگ و نسل اور امیر وغریب ہر تفریق سے بالاتر ہو کر متاثرین کی مدد میں جُت جانے کا رواج تھا، لواحقین کی دِل جوئی اور داد رسی کو فریضہ اول سمجھا جاتا تھا، دوسرے کے دکھ کو اپنا سمجھا جاتا تھا۔ شہید کا کیا مقام ہے، کیا مرتبہ ہے، اس کو دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، یہ سبق تو ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے،ہر مسلمان شہادت کی آرزو رکھتا ہے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ گئی، جہالت کی انتہاء ہی ہو گئی، جو منفی پراپیگنڈہ کیا گیا،اس کی تو مثال ڈھونڈے بھی نہیں ملتی۔  

سابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کیا ہوئی، ان کے بعض نادان پیروکاروں نے ریاستی اداروں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا، سارا ملبہ ”نیوٹرل“ پر ڈال دیا۔  المیہ تو یہ ہے کہ اہل سیاست کی زبان بھی ان کے قابو میں نہیں ہے اورجب سیاست دان خود ہی غیر محتاط ہو جائیں تو ان کے چاہنے والے تو دو قدم آگے ہی نکلیں گے تاکہ شاہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ آئینی طریقے سے حکومت کی تبدیلی ہو یا عدالت کا رات کے وقت کھلنا، سپریم کورٹ میں زیر بحث پارلیمانی معاملات ہوں یا عدالت عظمیٰ میں ججوں کی تعیناتی کا مسئلہ،  پنجاب کے ضمنی انتخابات ہوں یا کابینہ کی تشکیل، الیکشن کمیشن کی طرف سے اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کا مسئلہ ہو یا سالوں بعد دیا گیا کوئی فیصلہ، سب کچھ سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتا ہے، کوئی ادارہ یا شخصیت سوشل میڈیا کی شر انگیزی سے محفوظ نہیں ہے۔ 

ہمارے اہل سیاست اپنے اختلافات میں ریاستی اداروں کی تکریم کو بھی نظر انداز کر چکے ہیں، آزادی رائے کے نام پر جو منہ میں آتا ہے بولتے چلے جاتے ہیں۔دوسروں پر بغیر سوچے سمجھے حملے کرنے کی روایت ہمارے سیاستدانوں ہی نے ڈالی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا سیل بنا لئے اور پھر انہیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔رواں سال مئی میں تحریک انصاف کینیڈا کے ایک انفارمیشن سیکرٹری طلعت کاشف کا ٹرینڈ کردہ سرگودھا کا رہائشی محمد صداقت پکڑا گیا۔ موصوف پر فوج کے سابق جنرل ہارون اسلم اور جنرل مرزا اسلم بیگ کی جعلی آڈیوز بنا کر وائرل کرنے کا الزام تھا، تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس نے نہ صرف کئی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں بلکہ متعدد اکاؤنٹس سابق آرمی افسروں کے نام پر ہیں۔ ایک شخص درجنوں بلکہ بسا اوقات سینکڑوں اکاؤنٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر فیک ٹرینڈ بناتا ہے۔ یہ بات ہر ایک کو سمجھنی چاہئے کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر اپنی مرضی نہیں ٹھونسی جا سکتی، کسی پر بھی بغیر ثبوت الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک زمانہ تھا جب سیاسی جماعتیں نوجوانوں کی تربیت کرتی تھیں،رہنما مثالی کردار رکھتے تھے جیسے قائداعظمؒ اور دوسرے قومی رہنما نوجوانوں کی شخصیت سازی پر یقین رکھتے تھے لیکن اب تو ایسے رہنما اور اہل سیاست ناپید ہوتے جارہے ہیں،سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو اپنے ہتھیار کے طور پراستعمال کرتی ہیں اور یہ کچے ذہن کے لوگ اپنے سیاسی رہنماؤں اور من پسند دانشوروں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر ہر حد پار کر جاتے ہیں۔یہ نوجوان جن کا کتاب سے بمشکل ہی کوئی تعلق رہا ہو گا، جنہوں نے تاریخ کے اوراق کبھی نہ پلٹے ہوں گے، جن کے پاس معلومات کا ذریعہ صرف سوشل میڈیا ہو گا، جن کا آئیڈیل بے لگام افراد ہوں تو پھر ایسے نوجوان تو ایسی باتیں ہی کریں گے، ایسے ہی ٹرینڈ چلائیں اور ایسی ہی بے سروپا گفتگو ہی کریں گے۔    

یہ بات سمجھنا سب پر لازم ہے کہ سوشل میڈیا اپنی روح کے مطابق آزادی کا متقاضی ہے لیکن یہ مادر پدر آزاد معاشرہ ہرگز نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کے کمیونٹی سٹینڈرڈز بنائے گئے ہیں جن پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا قوانین بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا گلا گھونٹ سکیں لیکن ان کمیونٹی سٹینڈرڈز کو خاطر میں نہیں لاتے۔اس وقت اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی تربیت کی جائے، انہیں سوشل میڈیا کے اسلوب  اور استعمال کے بارے میں بتایا جائے، اخلاقیات کا سبق پڑھایا جائے، سائبر قوانین کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ کمیونٹی سٹینڈرڈز جو کہ ہر پلیٹ فارم پر انگریزی زبان میں موجود ہیں ان کا اردو ترجمہ کرایا جائے تاکہ عام لوگوں کی سمجھ میں بھی بات آ جائے۔ جن تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل میڈیا ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں، حکومت انہیں اپنے ساتھ ملائے اورمعاشرے کی بہتری کے لئے کام کرے۔ سوشل میڈیا انفلوئینسرز سے متاثر ہونے کی بجائے انہیں موثر طریقے سے استعمال کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر کوئی بھی شخص یا جماعت ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کرے، ان کے بارے میں نازیبا گفتگو کرے تو اس کا کھوج لگانا چاہئے، اس کو جواب دہ ٹھہرانا چاہئے اور خاطر خواہ سزا بھی دی جانی چاہئے۔اگر ہم بروقت، درست سمت میں صحیح اقدامات نہیں کریں گے تو سوشل میڈیا نامی جن ہماری اقدار، ہمارے اخلاق، ہمارے کردار اور ہماری پہچان کو کھا جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -