ای او بی آئی کے پنشنروں کی فریاد!

 ای او بی آئی کے پنشنروں کی فریاد!
 ای او بی آئی کے پنشنروں کی فریاد!

  

سیاسی سرگرمیوں میں ہی اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ کسی دوسری طرف دیکھنے کی فرصت نہیں ملتی ہر روز ایک نیا مسئلہ سامنے آتا ہے اور مجبوراً قلم ادھر رخ کر لیتا ہے۔ اس کار زار میں بعض بزرگ حضرات کا شکوہ بجا ہے کہ سیاست دان حضرات تو ایسا کرتے رہیں گے۔ لکھنے والوں کو تو عوامی مسائل کی طرف توجہ دینا چاہئے۔ ان بزرگوں کا تعلق معمر افراد کی پنشن سے ہے ایک بابے نے کہا ہمارے خون پسینے کی کمائی کا حصہ اور ہمارے آجر حضرات کی توجہ سے جمع ہونے والے اربوں روپوں پر غیر متعلقہ لوگ قابض ہیں ہمیں بمشکل ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہوار دیئے جاتے اور یہ خود نہ صرف لاکھوں کے حساب سے تنخواہیں لیتے ہیں بلکہ ان کو دوسری مراعات بھی حاصل ہیں ان میں کار، دفتر، رہائش علاج تک شامل ہیں۔

شکوہ کرنے والے ان حضرات کا تعلق ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ) سے ہے یہ ایک ادارہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں قائم کیا گیا اس کے مقاصد میں ان حضرات کی بہبود تھی جو اپنی ملازمت کا عرصہ پورا کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں ان کو سینئر سٹیزن قرار دیا گیا اور ایک قانون کے ذریعے طے کیا گیا کہ جن صنعتوں یا بڑے تجارتی اداروں میں 35 سے زیادہ ملازم ہیں ان اداروں کو رجسٹر کیا جائے گا۔ رجسٹریشن کے بعد ان اداروں کے ملازمین کے مشاہرے میں سے طے شدہ رقم کاٹی جائے گی اور اتنی ہی رقم ادارہ شامل کر کے دے گا جبکہ وفاقی حکومت بھی اپنا حصہ دے گی۔ اس جمع شدہ رقم کا مصرف یہ ہوگا کہ جب حاضر سروس ملازم ریٹائر ہو جائے تو اسے اس جمع شدہ رقوم میں ماہوار پنشن دی جائے تاکہ بڑھاپے میں وہ کچھ گزر بسر کر سکے۔ بتدریج ادارے رجسٹر ہوئے اور جمع شدہ رقم کروڑوں سے نکل کر اربوں تک پہنچ گئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ رقم انہی ریٹائرڈ لوگوں کے کام آتی لیکن صد افسوس کہ ایسا نہ ہوا پندرہ سو ماہوار والی پنشن قریباً 35 تا 40 سال بعد ساڑھے آٹھ ہزار پر پہنچی ہے۔

اس وقت بڑھاپے والی پنشن کے کھاتے میں اربوں روپے ہیں اور یہ بڑی رقم خورد برد والوں کو بھی متوجہ کرتی ہے۔ اس مالی انتظام کے لئے ایک بورڈ آف ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ متعدد ڈائریکٹر اور ایک چیئرمین ہے۔ اس کے بعد مرکزی سطح پر مختلف شعبے بنا کر جنرل مینجر لگائے گئے ہیں جن کی کم از کم تعداد چار ہے ان سب کے مشاہرے سرکاری (سی ایس پی) افسروں اور نجی اداروں کے حوالے سے مقرر ہیں اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا مقصد یہ بتایا گیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر جمع ہونے والی رقم سے ایسے منافع بخش منصوبے بنائے گا جن سے آمدنی میں معقول حد تک اضافہ ہو جائے تاکہ رقم منجمد نہ ہو اور سرمایہ بڑھتا رہے اسے نیک مقصد بتایا گیا لیکن یہ نیک مقصد نیت میں خرابی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ چیئرمین حضرات نے بعض بڑے بڑے گھاٹے کے سودے کئے۔ مثلاً ایسی زمین خریدی گئیں جو فروخت کے قابل نہ تھیں اور ان کے نرخ مارکیٹ سے زیادہ ادا کئے گئے اور اپنا حصہ وصول کر لیا گیا۔ اسی طرح کے کئی اور گھپلے بھی ہوئے۔ ایک چیئرمین نیب کی زد میں آئے اربوں روپے کی خورد برد کا کیس بنا گرفتار ہوئے برآمد کچھ نہ ہوا اور ان کی ضمانت ہو گئی کہ ”انصافیئے“ ہو گئے تھے اب ان کی ضمانت منسوخ ہے۔ وہ آزاد ہیں کسی کو کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ اس کے علاوہ وفاقی حکومت دو طرح اس ادارے کی مقروض ہے ایک تو اس کا اپنا حصہ نہیں دیا گیا دوسرے اس ادارے سے ادھار لیا گیا تھا تو واپس نہیں کیا گیا معاملہ عدالت عظمٰے تک بھی گیا وہاں اس مسئلہ یا ایشو کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو عام مقدمات کا ہوتا ہے۔ کاش اس کو بھی اسی سطح کا سمجھا جائے جس کے لئے عدلیہ کو فکر ہوتی ہے۔ عدالت عظمےٰ کو غور کرنا ہوگا کہ ای او بی آئی کے پاس جو رقم ہے وہ محنت کشوں اور آجروں کی مشترکہ رقوم ہیں اور یہ ان بابوں کا حق ہے جو ریٹائر ہو کر معمر شہری بن جاتے ہیں۔ ان کے نصیب میں صرف ساڑھے آٹھ ہزار ہیں اور بورڈ والے لاکھوں کے مشاہرے لے رہے ہیں اس کے علاوہ ضلعی دفاتر کے نام پر بھرتیوں کا بھی سلسلہ شروع کیا گیا۔ اب یہ ضلعی دفاتر بھی سرکاری سکیلوں کے مطابق اہل کاروں کو تنخواہ اور مراعات دیتے ہیں۔ جن حضرات کا یہ قانونی حق ہے ان کو ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہوار پر ٹرخایا جاتا ہے اور مہنگائی کے دور میں یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے بھی مترادف نہیں۔

اگر عدالت عظمےٰ پورا ریکارڈ منگوائے تو معلوم ہوگا کہ 2016ء میں یہ طے پا گیا کہ ملک میں مزدور کی کم از کم تنخواہ کے برابر بڑھاپے کی پنشن ہو گی۔ اس پر آج تک عمل کی نوبت نہیں آ سکی ان پنشنروں میں سے زیادہ تر بوڑھے، بیمار ہیں اور گزر اوقات کیا ہو گی ان کو ادویات کے لئے بھی اتنے پیسے ناکافی ہیں۔ ہر بدلتی حکومت کی توجہ دلائی جاتی ہے لیکن ادھر سے آنکھیں بند ہیں البتہ چیئرمین اور ڈائریکٹر من پسند لگائے جاتے ہیں تاکہ ان کا تو بھلا ہو اور یہ سب سیاسی تقرریاں ہوتی ہیں عدالت عظمےٰ کے سامنے ادارے میں ناجائز بھرتیوں کا کیس ہے۔ بوڑھے حضرات کا مطالبہ ہے کہ عدالت عظمےٰ سارے پہلوؤں پر غور کرے اور نیب کا ریکارڈ بھی دیکھے۔ بہتر عمل تو یہ ہے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ کا ڈھونگ ختم کر کے ادارہ اخوت جیسا نظام رائج کیا جائے کہ جائز کمائی سے جمع ہونے والی رقوم خورد برد ہونے سے بچیں۔

اس سلسلے میں آجر حضرات کو بھی توجہ دینا چاہیے کہ وہ تو کارکنوں کی بہبود کے لئے کارکنوں کی کٹوتی سے زیادہ حصہ خود ادا کرتے ہیں، ان کو اپنے دیئے گئے مال کی خورد برد کا تو احساس ہونا چاہیے۔ آجر چاہیں تو عدالت عظمیٰ کے روبرو کیس میں فریق بھی بن سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -