ابار بار توہین رسالتﷺ اور امت مسلمہ کی ناکامی 

 ابار بار توہین رسالتﷺ اور امت مسلمہ کی ناکامی 

  

س حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ روز اول سے حق و باطل کے درمیان کشمکش کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور اس میں ہر گذرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ موجودہ دور میں کفار نے مسلم آئمہ کے ساتھ دو بدو جنگ چھیڑنے کی بجائے دور حاضر کی جدت کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلمانوں کے عقیدے کو کمزور کرنے کے لیے مختلفطریقے استعمال شروع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ دشمنان اسلام اپنے ان مذموم مقاصدکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاکو بطور ہتھیار استعمال کرتا  رہا ہے۔ غیر مسلم ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ادنی سے ادنی مسلمان بھی حرمت نبیﷺ کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ کرنے کاتصور بھی نہیں کر سکتا۔ مکار دشمن کواس بات کا مکمل ادراک ہے کہ بحیثیت مسلمان ناموس رسالتﷺ کے لیے ہر مسلمان اپنا تن،من دھن قربان کرنا اپنے لیے باعث توقیر خیال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام جو ہمیشہ امت مسلمہ کے دل کو سخت سے سخت اذیت دینے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اب بزدل دشمن نے مسلمانوں کی قوت ایمانی کو پرکھنے کے لیے  اپنے شرپسندوں اور شیطان صفت عناصر کے زریعے نبی آخرالزماں محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کروانا اپناوطیرہ بنا لیا ہے۔

اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام دشمن مودی حکومت کی شدت پسند ترجمان نوپور شرما توہین رسالت کرنے والی نہ تو پہلی خاتون ہے اور نہ ہی آخری کیونکہ اس سے پہلے بھی یہ گھناؤنا فعل یورپ کی آشیرباد اور پشت پناہی سے بار بار سرانجام دیا جاتا رہاہے۔ اگر ماضی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس شیطانی کھیل کو روکنے میں کوتاہی برتنے کی ذمہ داری مسلم ممالک کی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے ہربار ایسا واقعہ رونما ہو نے کے بعد ٹھوس اقدامات  کی بجائے اپنے دنیاوی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے صرف زبانی جمع تفریق اور قراردادیں پاس کرنے کی حد تک  اپنے آپ کو محدود رکھاجس سے اسلام دشمن طاقتوں کے مکروہ عزائم کو تقویت ملی۔اسلامی ممالک پر قابض اسی ٹولے کی مفاد پرستی کی بدولت دور حاضر میں کفرکا شر نقطہ عروج اور دین برحق مظلومیت کی آخری حدوں کو چھو رہاہے جس کی زندہ مثالیں عراق،افغانستان،فلسطین،لیبیا اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم ہیں۔ 

فرعونیت کا پیروکارامریکہ بہادر جب چاہے جس پر چاہے شدت پسندی کا جھوٹا الزام لگا کر لشکر کشی کر دے مجال ہے جو کوئی اس کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات کر سکے کیونکہ اپنے آپ کو اسلامی دنیا کا لیڈر کہلانے والے اس اشرافیہ کے تمام تر اثاثے،محلات اورناجائز ذرائع سے جمع کیے جانے والے دولت کے انبار انہیں اسلام دشمن ممالک میں موجود ہیں۔ اس گروہ کے لالچ اور زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی ہوس نے ان کے ضمیروں کو مردہ بنا دیا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دین اسلام ایک پرامن معاشرے کے قیام پر زور دیتا ہے لیکن  ہر بار کفار کی طرف سے ناموس رسالتﷺ پر یلغار ہونے کے بعد، چند دن احتجاج ہوتا ہے، سفراء کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھما دیا جاتا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے قائم کیا جانے والا ادارے  ''او آئی سی''کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جاتا ہے جس میں بلند و بانگ دعوے کر کے اس حساس ترین معاملے کو سردخانے کی نظر کر دیا جاتا ہے۔ایک بار پھر دہشت گرد اور اسلام دشمن مودی حکومت نے امریکہ اور اس کے حواریوں کی آشیرباد سے اپنی شدت پسندانہ سوچ کی حامل ترجمان نوپور شرما کے ذریعے توہین رسالتﷺ کے ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کے خلاف دنیابھر کے مسلم ممالک میں احتجاج کا سلسلہ ہر گذرتے دن کے ساتھ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مسلم امہ اور اپنے آپ کو اسلام کے ٹھیکیدار کہلانے والے حکمران طبقے کو اس حقیقت کو تسلیم کر نا ہوگا کہ اسلام دشمن طاقتوں کو صرف جلسے،جلوس اور احتجاجی ریلیوں کے زور پر روکنا ممکن نہیں بلکہ ان کو ایسیمذموم ارادوں سے باز رکھنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بناکر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ اپنے دنیاوی مفادات کو مقدم رکھنے کی بجائے سب سے پہلے دین برحق    ''اسلام''کوسامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔دنیاوی عیش و عشرت کے لیے ظالم کا ساتھ دینے کی بجائے اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لیے مظلوم کا ساتھ دینا ہو گا۔قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ''یہود و نصاری ''سے قطع تعلق کر نا ہوگا۔اسلام اور نبی ﷺ کی حرمت کی پاسداری کے لیے پوری مسلم امہ کو متحد ہو کر کفار عالم کے سامنے سینہ سپر ہو نا ہوگا۔نبیﷺ کی حرمت پر سب کچھ قربان کا نعرہ لگانے کی بجائے عمل کر کے دکھاناہو گا۔اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو یاد رکھیں جو مالک الملک ابابیل کیذریعے اپنے گھر کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اپنے حبیبﷺ کی ناموس کو بچانے کے لیے دنیا کی ہر چیزکو نیست و نابود کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔اللہ رب العزت کا فیصلہ صادر ہونے کی صورت میں نہ دنیاوی بادشاہت کام آئے گی نہ مال و زر حکم ربی میں رکاوٹ کا باعث بن سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -