شہباز شریف ان بچوں کے لئے بھی وقت نکالیں 

شہباز شریف ان بچوں کے لئے بھی وقت نکالیں 
شہباز شریف ان بچوں کے لئے بھی وقت نکالیں 

  

 گڈ گورننس عوام کا بنیادی حق ہے تاکہ ملکی معیشت میں بہتری آئے اور ان کے مسائل حل ہوں اس ضمن میں اگر آرمی چیف بھی اپنا کردار ادا کرنے نکلے ہیں تو اس سے بڑھ کر خیر کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان بھی ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کے تناظر میں اعلان کریں کہ وہ اپنی سیاست اور طرز سیاست کو ایک سال کے لئے موخر کرکے میثاق معیشت پر دستخط ثبت کرنے کو تیار ہیں۔ 

تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ سیاست عمران خان کا بنیادی حق ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشی ابتری کا حل نئے انتخابات ہیں تو وہ ضرور اس کے لئے جائز کوشش کریں کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں معیشت کی بنیاد اتنی مضبوط ہوگئی تھی کہ ٹرن اراؤنڈ کے قریب تھی۔ لیکن اگر ایسی ہی بات ہے تو آرمی چیف ایک پروفیشنل سپاہی ہونے کے ناتے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے دوست ممالک سے معاشی تعاون کیوں مانگ رہے ہیں کیونکہ اگر واقعی ملکی معیشت انتخابات سے بہتر ہوسکتی ہے تو اس کا ادراک آرمی چیف کو کیوں نہیں ہو پا رہا ہے۔ 

دوسری جانب چیف جسٹس نے بھی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سمیت سیاسی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ نئے الیکشن کی طرف بڑھیں لیکن پوری سیاسی قیادت بشمول چیف الیکشن کمشنر نے متفقہ طور پر عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے، اس کے بعد عدالت عظمیٰ سے دو ایسے فیصلے آئے ہیں جن سے ملکی معیشت میں مزید اڑچن پیدا ہوگئی ایسا لگتا ہے کہ چیف جسٹس بھی عمران خان کی طرح معاشی مسائل کا حل نئے انتخابات کو سمجھتے ہیں اور اکیلے آرمی چیف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں ڈالنے کی بجائے ملک کو معاشی بحران سے نکالنا چاہئے۔ 

راقم کو دو بچوں کی ایک والدہ کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط کی نقل موصول ہوئی ہے جو قارئین کے لئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگی۔ یہ خط محترمہ مہوش نوید نے لکھا ہے جو ملت پارک کی رہائشی ہیں انہوں نے وزیر اعظم کو خادم پاکستان کے لقب سے مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے:

”جن کٹھن اور مشکل حالات میں آپ نے پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کی ذمہ داری قبول کی ہے اس پر مجھ سمیت پاکستانی قوم آپ کی مشکور ہے گزشتہ 4سالوں میں جو کچھ ہوا، عوام نے دیکھا، جھیلا اور خون کے آنسو پیتے ہوئے برداشت کیا۔ پاکستان کو اس وقت آپ کی اشد ضرورت تھی، اب دعا ہے کہ خدا آپ کو ثابت قدم رکھے اور پاکستان کی بہتری، خوشحالی اور ترقی کا سفر تیز ہو۔

آپ کے علم میں ایک بات لانے کی جسارت کر رہی ہوں۔ میری ایک بیٹی عقیدت نوید (کلاس دہم) اور بیٹا مورخ احمد (جی سی یونیورسٹی کا طالب علم) دنیا بھر میں عالمی امن اور بھائی چارے کے لئے عالمی رہنماؤں کو خطوط لکھتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی،، خواجہ آصف، مریم اورنگ زیب، رانا مشہود، حامد میر سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہاں مملکت میرے دونوں بچوں کی اس محنت کو سراہ چکے ہیں۔ 

میرے دونوں بچے یہ خطوط پوسٹ کرتے ہیں۔ 2018سے قبل یورپ، امریکہ، وغیرہ جیسے ممالک کی ڈاک ٹکٹ صرف 35 روپے میں آتی تھی جبکہ اب وہی ٹکٹ 300روپے تک پہنچ چکی ہے جو میرے بچوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ 

ایک اور ضروری بات بتانا چاہتی ہوں کہ میرے بچوں نے پی ٹی آئی حکومت میں 2018سے 2021کے درمیان کئی بار وزیر اعظم، صدر، وزیر اعلیٰ پنجاب اور کئی وفاقی وزراء کو مختلف موضوعات پر خطوط لکھے، صد افسوس کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی جبکہ 2018سے قبل آپ کی حکومت کے جس وفاقی وزیر کو بھی میرے بچوں نے خطوط لکھے تو دونوں کو جوابات موصول ہوئے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تین مرتبہ جواب لکھا۔ 

آخر میں ان بچوں کی والدہ وزیر اعظم شہباز شریف کو لکھتی ہیں کہ ان کے دونوں بچے جلد آپ کو مبارکباد کا خط تحریر کریں گے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ اپنے بے پناہ مصروف اور قیمتی وقت میں سے صرف 30منٹ میرے بچوں کے لئے عنائت فرمائیں تاکہ عالمی رہنماؤں کی جانب سے امن کے لئے انہیں لکھے جانے والے خطوط آپ کو دکھاسکوں۔“

اب اگر 35روپے والا ڈاک ٹکٹ 300روپے کا ہو چکا ہے جس کے سبب وہ بچے امن کے لئے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے ایک خط بھی پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں تو کیا عمران خان کے لئے سوچنے کا مقام نہیں ہے کہ ملکی معیشت کس ڈگر پر چل نکلی ہے۔ ملک میں لاکھوں بلکہ کروڑوں گھرانے ایسے ہیں جہاں کئی کئی ماہ بچوں کو فروٹ کا ذائقہ تو کجا خوشبو تک سونگھنے کو نہیں ملتی ہے حالانکہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی زرخیز زمین دی ہے کہ دنیا کے کئی نایاب پھل یہاں پیدا ہوتے ہیں  اگر تو عمران خان اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ عام انتخابات کے فوری انعقاد کے بعد ڈاک ٹکٹ 300روپے سے کم ہو کر دوبارہ 35روپے کا ہو جائے گا تو عوام کل کی بجائے آج انتخابات کے لئے تیار ہیں لیکن اگر اگلی بار بھی انہوں نے اپنی نااہلی کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈال کر ڈالر کے نرخوں میں اضافے کو ٹی وی پر ہی دیکھنا ہے تو بہتر ہے کہ وہ اکتوبر 2023تک انتظار کرلیں تاکہ ان کی نااہلی کے سبب معاشی بگاڑ کے ستائے عوام کچھ سکھ کا سانس تو لے لیں، آپ کو تو کچھ اور اے ٹی ایمز مل جائیں گی مگر عقیدت نوید اور مورخ احمد کا سوچئے جو ڈاک ٹکٹ مہنگے ہونے کے سبب عالمی امن کے لئے اٹھنے والی آوازوں میں اپنی آوازشامل کرنے سے قاصر ہیں!....وزیر اعظم شہباز شریف ان بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی وقت نکالیں!

مزید :

رائے -کالم -