ادارہ جاتی تباہی میں کیمروں کا کردار 

 ادارہ جاتی تباہی میں کیمروں کا کردار 
 ادارہ جاتی تباہی میں کیمروں کا کردار 

  

 وہ ایک چیف کہ جان نثار جن کے ہزاروں ہوا کرتے تھے، مسند عدل پر نہیں گویا یونین کونسل کا انتخاب لڑنے آئے ہیں۔ ملازمین بتایا کرتے تھے کہ جب تک مختلف زاویوں سے ٹی وی کیمرے  نصب نہ ہو جاتے، عدالتی کارروائی کا آغاز محال تھا۔ اور اب تو سپریم کورٹ پر ایک ایسے آسیب نے ڈیرا ڈال رکھا ہے کہ جسٹس منیر فرشتہ لگتے ہیں جن سے اختلاف سہی لیکن ان کے فیصلے سے کوئی شخص جھول تو دکھائے۔ ایک وہ چیف جنہیں نامعلوم وغیرہ نے وہ شہہ دے رکھی تھی کہ عدل چھوڑ کر وہ ڈیم بنانے نکل پڑے اور بالشتیے تالیاں پیٹ رہے ہوتے تھے۔ ویڈیو کلپ اور اخبارات دیکھ لیں، معزز چیف صاحب کبھی کسی کالج کی معطر ٹائلٹوں کے "اچانک" سوو موٹو کے متعاقب تو گاہے "اچانک" دورہ کسی وائس چانسلر کی عزت نفس کو تار تار کر رہا ہوتا تھا. ناطقہ سر بگریبان کہ  "اچانک" دورے سے قبل کیمروں کا لشکر کیسے موجود ہوتا ہے۔

 برصغیر میں مسلمانوں نے عالمگیر سطح کا ایک ادارہ وضع کیا ہو تو اس کا ذکر کیا جائے۔ لیکن چلیے تقدس کے ہالے میں لپٹی اپنی تبلیغی جماعت ہی سہی۔ یہ مقدس جماعت کیمرہ تو کیا، ذرائع ابلاغ  سے بھی بیزار ہے۔ اپنے کام میں گم اس جماعت میں پروفیسر، جرنیل، ارب پتی اور سیاستدان تک خاموشی سے آخرت سنوارنے میں لگے ہیں۔ یہ جنونی خرقہ پوش  ہر طبقے تک جاتے ہیں لیکن کہیں کوئی کیمرے والا آ جائے تو انگوچھے سے منہ چھپا لیتے ہیں۔  افسوس! کیمرے کی لت میں مبتلا ایک مولانا یہاں بھی پہنچ گئے۔ کیمروں میں گھرے وزیراعظم کی بیوی فوت ہو تو حضرت نماز جنازہ پڑھانیکو حاضر! وزیر اعظم کے سابق ہوتے ہی کیمرے غائب ہوں تو قبلہ گاہی کیمروں کے تعاقب میں نئے وزیراعظم کے ساتھ کوچہ اقتدار میں موجود۔ جہاں مامتا وہاں ڈالڈا، جہاں کیمرا وہاں مولانا! اور یہ سب تبلیغی جماعت کے نام پر! حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ جماعت نہ تو انہیں اپناتی ہے اور نہ ازراہ مروت نظر انداز کرتی ہے۔ چند قریبی متعلقین جماعت کا فرمان ہے کہ اگلے بنے نہ نگلے بنے۔

 آپ شکریہ والے وہ صاحب یقینا نہیں بھولے ہوں گے۔ بجلی کا کون سا کھمبا ہے جس پر شکریے والی ان کی تصویر نہیں ہوتی تھی(جو ہراول دستوں کا کام تھا)۔ پھر میمنہ اور میسرہ کے کیمرا مین ویڈیو بنا کر شام کو ٹی وی پر پیش کرتے۔ موصوف کے نامعلوم کارناموں کا شکریہ اور جمہوری حکومتوں سے موازنے کے بعد ان سے قدم بڑھانے کی گزارش کی جاتی تھی۔ گزشتہ سال کابل پر طالبان کا قبضہ ہوا تو آپ نے ذرائع ابلاغ پر ایک اور صاحب کو ہوٹل میں چائے کا کپ  لیے کھڑے دیکھا ہوگا۔ یہ تصویر ذرائع ابلاغ کو کیوں جاری کی گئی؟ پیشہ ورانہ نزاکت کے اعتبار سے ان کی حیثیت  یہ ہے کہ اہل خانہ اور گنتی کے چند متعلقین انہیں پہچان پائیں تو ٹھیک، ورنہ انہیں تو ہمہ وقت سات پردوں میں ملفوف و مستور رہنا چاہیے۔ لیکن کوئی دن نہیں جاتا تھا کہ موصوف کسی ٹی وی چینل پر رونق افروز نہ ہوتے۔ شکر ہے کہ ان کے جانشین اس لت سے محفوظ ہیں۔ ہم میں سے کتنوں کو ان کا نام معلوم ہے۔ الحمدللہ!

کیمرے کی اس لت نے ہر وہ ادارہ مفلوج کر کے رکھ دیا ہے جسے کیمرے سے دور کام کرنا ہوتا ہے۔ عدلیہ کو لے لیجئے۔ عام لوگوں کے ہزاروں  مقدمات اعلی عدالتوں میں عشروں سے پڑے ہیں۔ لیکن کیمرے کی کشش انہی مقدمات کو قابل سماعت گردانتی ہے جن میں ذرائع ابلاغ کے لیے قابل قبول مرچ مسالہ ہو،  معزز جج صاحبان کی چٹخارے دار گفتگو اور کاٹ دار انقلابی جملے ہوں۔ ایسے مقدمات سیاسی مقدمات ہی ہوسکتے ہیں۔  تعجب کیا کہ رات گئے پنجاب اسمبلی میں ایک آئینی فیصلہ ہوتا ہے جو  فریق ثانی کو قبول نہیں تھا۔ وہ جتھے کے ساتھ آدھی رات کو سپریم کورٹ کی چار دیواری پھلانگ کرداخل ہوتا ہے بینچ سب کام چھوڑ کر سماعت شروع کر دیتا ہے۔

ایسے متعدد ادارے ہیں جنہیں پارلیمان کی فوری توجہ درکار ہے۔ لیکن نظام عدل کو ریڑھ کی ریاستی ہڈی کہیں، یا اسے مغز کہہ لیں، کچھ بھی کہیں لیکن اس میں ضعف آتے ہی معاشرتی تلپٹ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ وہ ادارہ ہے جو ہر ریاستی عہدیدار کو طلب کر سکتا ہے۔ لیکن کیسے؟ اس پر کوئی تفصیلی قانون موجود ہی نہیں. ہر طرف چیف جسٹس کی صوابدید ملتی ہے جن کے سامنے 16 معزز جج صاحبان گم سم کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ تو پھر عدلیہ کی آزادی؟ کس کو ترقی دینا ہے اور کس کو معزول کرنا ہے۔چیف جسٹس چاہے تو اپنے ہی کسی جج کے فیصلے کو سالہا سال تک گوشہ التوا میں ڈال دے۔ فیض آباد دھرنے کے فسادیوں سے معاہدہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے حکم پر مبنی دو معزز ججوں کا فیصلہ یاد کرلیں، پانچواں سال ہے کسی کو یاد ہی نہیں۔ لیکن ججوں کی تقرری کرنا ہو تو ارکان کی عدم موجودگی میں بھی چیف جسٹس کمیشن کا اجلاس بلا لیتا ہے۔

سپریم کورٹ سترہ ججوں کا نام ہے. لیکن حالت یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے بعد افسر تعلقات عامہ کے اعلامیہ سے تین معزز ارکان کمیشن اظہار لاتعلقی کر چکے ہیں۔ اتنے اہم اور معزز ترین ادارے کی حالت یہاں تک کیسے پہنچی؟ ایک وجہ یہ ہے کہ تفصیلی قانون موجود نہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں نے کیسے کام کرنا ہے، یہ طے کرنا پارلیمانی مسئلہ ہے جسے پارلیمان ہی نے طے کرنا ہے۔ اس کا عدلیہ کی آزادی سے مطلقاً تعلق نہیں ہے۔ لیکن تفصیلی قانون نہ ہونے کے سبب اعلی ترین سطح پر نظام عدل آج افسر تعلقات عامہ اور معزز ججوں کے مابین تماشا بنا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے ان معزز ججوں میں سے سچا کون ہے, کیا اس کا فیصلہ ہم آ پ اب سڑکوں پر کیا کریں گے؟ کیا آئین کی روشنی میں پارلیمان ان امور پر تفصیلی قانون سازی کرے گا؟ کیا ہمارا مقدس نظام عدل کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا جا سکتا ہے؟ ہاں! عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی پر دکھانا۔اور مسئلہ ہے جس کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ عدالتی انداز کار پر قانون سازی کے بعد عدلیہ کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ امید ہے کہ پارلیمان اس نازک مسلے پر فوری اور تفصیلی قانون سازی کرے گا۔

مزید :

رائے -کالم -