ملتان کا مخدومی معرکہ 

 ملتان کا مخدومی معرکہ 
 ملتان کا مخدومی معرکہ 

  

 سوال تو یہ بھی ہے کہ کپتان اگر 9 حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں تو اُنہوں نے ملتان کے قومی حلقے 157 سے انتخاب کیوں نہیں لڑا یہیں سے وہ اس روایت کا آغاز کر دیتے کہ جہاں جہاں قومی اسمبلی کی نشست خالی ہو گی وہ خود انتخاب لڑیں گے، ملتان میں تو ویسے بھی ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیٹے زین قریشی سے یہ نشست خالی کروائی پھر انہیں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لئے میدان میں اتارا، اب اس خالی نشست پر اپنی بیٹی بانو قریشی کو سامنے لے آئے ہیں شور مچا ہوا ہے کہ تحریک انصاف تو موروثی سیاست کے خلاف تھی، میڈیا چینلز عمران خان کے وہ کلپس چلا رہے ہیں جن میں کپتان زرداری اور نوازشریف پر اس لئے تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے موروثی سیاست کو فروغ دیا لیکن شاہ محمود قریشی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ عمران خان کی منظوری سے ہوا ہے۔ گویا کپتان نے یہاں بھی یوٹرن لے لیا ہے سچی بات ہے مجھے تو آج سے پہلے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ مخدوم صاحب کی کوئی دختر نیک اختر بھی ہے۔ سیاست میں ان کا عمل دخل تو کبھی دیکھا نہ سنا۔ اچانک ایک دن مجھے سینئر صحافی اور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری نثار احمد اعوان نے بتایا تھا کہ شاہ محمود قریشی اپنے بیٹے کی خالی ہونے والی سیٹ پر بیٹی کو امیدوار بنا رہے ہیں، اس وقت مجھے حیرت ہوئی تھی اور میں نے کہا تھا یہ صرف افواہ ہو سکتی ہے حقیقت نہیں کیونکہ جس بیٹی نے کبھی سیاست کی ہی نہیں اسے عام انتخاب جیسے مشکل مرحلے میں کیسے اتاراجا سکتا ہے۔ مگر ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی اور مہربانو قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں۔

اب صورتحال خاصی دلچسپ ہے ایک طرف یوسف رضا گیلانی ہیں اور دوسری طرف شاہ محمود قریشی دونوں کی ایک تاریخ ہے سیاست میں مد مقابل رہنے کی، انتخابات بھی ایک دوسرے کے خلاف کئی مرتبہ لڑ چکے ہیں اب اپنی اگلی نسل کو پہلی بار ون ٹو ون میدان میں اتار دیا ہے۔ جب سید یوسف رضا گیلانی نے علی موسیٰ گیلانی کے امیدوار ہونے کا اعلان کیا تو اس حلقے میں موجود مسلم لیگ (ن) کے ووٹروں میں تشویش دوڑ گئی، اس حلقے کو وہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھتے ہیں ملک عبدالغفار ڈوگر جو یہاں سے ممبر قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں، اس بات پر ڈٹ گئے کہ الیکشن لڑیں گے۔ دوسری شرط انہوں نے یہ رکھی کہ اگر علی موسیٰ گیلانی شیر کے نشان پر انتخاب لڑیں گے تو وہ ان کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے انہوں نے کاغذات نامزدگی بھی حاصل کر لئے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا تھا، مسلم لیگ (ن) نے اس کا حل یہ نکالا کہ انہیں وزیر اعظم کا ایڈوائزر تعینات کر دیا اس طرح انہوں نے پی ڈی ایم کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی کی حمایت کا اعلان کر دیا، اب دیکھنا یہ ہے دونوں روائیتی خاندانوں کے درمیان یہ معرکہ کیا رنگ دکھاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے پہلے اپنے بیٹے زین قریشی کی دھواں دار مہم چلائی تھی، اب بیٹی کی چلائیں گے تاہم اس بار مقابل سلمان نعیم نہیں جس پر لوٹے کا لیبل لگایا گیا بلکہ گیلانی خاندان کا چشم و چراغ علی موسیٰ گیلانی ہے۔

اس دور میں بھی کہ جب سیاسی شعور بہت بیدار ہو چکا ہے عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نوجوانوں نے سیاست میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ موروثی سیاست اپنے پورے کروفر سے جاری ہے،  شاہ محمود قریشی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ملتان کی دو قومی اور ایک صوبائی نشست ان کی خاندانی میراث ہے۔ تحریک انصاف میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جو ان نشستوں پر ان کی جگہ لے سکے اسے سیاست کی خوبی کہیں یا بدترین خامی، کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس نشست پر سید یوسف رضا گیلانی اپنے بیٹے کو امیدوار کھڑا نہ کرتے تو شاید شاہ محمود قریشی کسی اور کو امیدوار بنا دیتے، مگر اب چونکہ معاملہ خاندانی مخاصمت کا ہے، اس لئے قریشی خاندان سے کسی کو امیدوار بنانا ضروری تھا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ شاہ محمود قریشی نے خود اس حلقے سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا اپنی نشست سے تو وہ استعفا دے ہی چکے ہیں، اگر کپتان 9 نشستوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں تو شاہ محمود قریشی بھی ملتان کی اس نشست سے میدان میں آ سکتے تھے؟ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے قریبی ذرائع اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی اپنے دیرینہ حریف یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سے مقابلہ کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی اگلی نسل کو مقابل اتارا ہے وہ اپنی بیٹی کو کسی مخصوص نشست پر بھی ممبر قومی اسمبلی بنوا سکتے تھے۔ مگر معاملہ حلقے میں اپنے سیاسی اقتدار کو قائم رکھنا ہے جس کے لئے یہ راہ نکالی گئی ہے۔

جس طرح صوبائی حلقہ 217 کا انتخاب پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا، اب اس قومی حلقے 159 کا یہ ضمنی انتخاب بھی دو مخدوموں کی انتخابی معرکہ آرائی کے باعث پورے ملک کی نظروں میں رہے گا۔ شاہ محمود قریشی کو اگرچہ پارٹی کے اندر سے مزاحمت کا سامنا ضرور ہے تاہم کپتان کا ملتان میں ایک جلسہ پانسہ پلٹ دے گا اور وہ ناراض کارکن جو موروثی سیاست کی وجہ سے مزاحمت کر رہے ہیں مہر بانو قریشی کی جیت کے لئے سرگرم ہو جائیں گے۔ مسئلہ علی موسیٰ گیلانی کے لئے ہے حقیقت یہ ہے کہ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کا ووٹ زیادہ نہیں ہے، صرف پیپلزپارٹی کے ووٹوں سے تحریک انصاف کو ہرانا ممکن نہیں ہوگا، اگر مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز علی موسیٰ گیلانی کو ووٹ نہیں دیتے۔ مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ آج بھی پیپلزپارٹی سے الرجک ہیں اگرچہ عبدالغفار ڈوگر کو مسلم لیگی قیادت نے دستبردار کرا دیا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنے حامیوں کو علی موسیٰ گیلانی کی انتخابی مہم چلانے پر آمادہ کر سکیں گے۔ مسئلہ شاہ محمود قریشی کا نہیں، اصل مسئلہ سید یوسف رضا گیلانی کا ہے اگر ان کا بیٹا اپنے دیرینہ حریف قریشی خاندان کی بیٹی سے ہار گیا تو یہ ایک بڑا سیاسی داغ ہوگا جسے آسانی سے مٹانا ممکن نہ ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -