غزہ پر ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت،جہادی کمانڈر،5سالہ بچی سمیت 24فلسطینی شہید

  غزہ پر ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت،جہادی کمانڈر،5سالہ بچی سمیت 24فلسطینی ...

  

      غزہ(نیوز ایجنسیاں)غزہ پر ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت، جیٹ طیاروں کی بمباری سے فلسطینی کمانڈر اور 5سال کی بچی سمیت مزید 24فلسطینی شہید اور 75 زخمی ہوگئے۔ ہفتہ کو غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طیاروں نے جہادی تنظیم کے کمانڈر تیسیر الجعبری کو نشانہ بنایا،صہیونی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینوں کی شہادت میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ مقامی وزارت صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک 5سالہ بچی بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں جمعہ کو بھی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے ڈرون حملہ بھی کیا تھا، جس کے نتیجے میں 2 فلسطینی شہید جبکہ 19زخمی ہوگئے تھے، ادھر اسلامک جہاد نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملے کو اعلان جنگ قرار دے دیا، جوابی کارروائی میں اسرائیل پر 100 سے زائد راکٹ فائر کئے گئے ہیں۔

 اسرائیلی جارحیت

 اسلام آباد (آن لائن)  ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، عاصم افتخار احمد  اسرائلی جارحیت کے نتیجے میں ایک 5 سالہ بچی سمیت متعدد بے گناہ فلسطینیوں کی شہید اور زخمی ہوئے، جاری بیان میں ترجمان دفترخارجہ  نے کہا  جارحیت کی تازہ ترین لہر بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے، ترجمان دفترخارجہ جارحیت کی تازہ ترین لہر دہائیوں سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم، غیر قانونی اقدامات اور طاقت کا اندھا دھند استعمال ہے۔پاکستان   عالمی برادری سے مطالبہ  کرتا ہے  کہ وہ اسرائیل پر زور دے کہ وہ طاقت کے بے دریغ استعمال کو روکے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہناتھا   پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرے۔ جارحیت کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہے۔ہم اقوام۔متحدہ اور او آئی سی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک قابل عمل، خودمختار، فلسطینی ریاست کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کرتے ہیں، عاصم افتخار احمد نے کہا   ایسی فلسطینی ریاست کہ جس کا دارلحکومت القدس الشریف ہو ہی مسئلہ فلسطین کا واحد، جامع اور دیرپا حل ہے۔

پاکستان

مزید :

کامرس -صفحہ اول -