فصلوں کی مخلوط کاشت وقت اہم ضرورت ہے، زرعی ماہرین 

فصلوں کی مخلوط کاشت وقت اہم ضرورت ہے، زرعی ماہرین 

  

   فیصل آباد (اے پی پی):ٓری فیصل ٓبادکے زرعی ماہرین نے قابل کاشتہ رقبہ میں مسلسل کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے فصلوں کی مخلوط کاشت کووقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ایک ہی کھیت میں ایک ہی وقت پر دو یا دوسے زیادہ فصلوں کو اکٹھا کاشت کرنا فصلوں کی مخلوط کاشت کہلاتا ہے۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ وراثتی رقبوں کی تقسیم درتقسیم سے کاشتہ رقبوں میں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اسلئے ہمارے کاشتکار فصلوں کی مخلوط کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی محنت اور توجہ سے فی ایکڑ زیادہ آمدن حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کاشتکار مخلوط فصلوں کی کاشت کیلئے ایسی فصلوں کا انتخاب کریں جن میں سے ایک کی جڑ زیادہ گہری جبکہ دوسری کی کم گہری ہوتاکہ یہ فصلیں زمین، ہوا، پانی، روشنی اور خوراکی اجزا کا بہتر طورپر استعمال کرسکیں۔انہوں نے بتایاکہ دوسری فصلوں کے ساتھ پھلی دار فصلوں کی مخلوط کاشت سے فی ایکڑ آمدن میں اضافہ کے ساتھ زمین میں غذائی عناصر اور نامیاتی مادہ کی مقدار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ گزشتہ دوتین سالوں سے ستمبر کاشتہ کماد میں چنے اور مسور کی کاشت، بہاریہ کماد اور کپاس میں مونگ اور ماش کی کاشت ہمارے کاشتکاروں میں مقبول ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ فصلوں کی مخلوط کاشت سے فضائی آلودگی میں کمی ہوگی کیونکہ دوسری فصل کیلئے زمین کی تیاری نہیں کرنی پڑے گی۔

جس سے ڈیزل اور پٹرول جو فضا کو آلودہ بناتے ہیں ان کی مقدارمیں کمی آئے گی۔ مزید برآں کاشتکاروں کواس سے جڑی بوٹیوں، کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک میں بھی فائدہ  حاصل ہوگا۔انہوں نے کاشتکاروں کو سفارش کی کہ وہ گندم اور سرسوں کی مخلوط کاشت، کماد میں لہسن، گاجر اور سرسوں کی مخلوط کاشت، مکئی اور رواں کی مخلوط کاشت، جوار اور جنتر کی مخلوط کاشت، باجرہ اور گوارا کی مخلوط کاشت کو فروغ دیں۔

مزید :

کامرس -