کوٹ ادو، دریائے سندھ میں سیلاب، متعدد مکان منہدم، فصلیں تباہ 

کوٹ ادو، دریائے سندھ میں سیلاب، متعدد مکان منہدم، فصلیں تباہ 

  

کوٹ ادو،دائرہ دین پناہ(نامہ نگار) در یا ئے سندھ ہیڈ تونسہ بیراج میں طغیانی،بیٹ چھجڑے والا،نشان والا،لومڑ والا  اور سپر نمبر 3 میں کٹاؤ شدت اختیار کر گیا۔ بیسوؤں مکان منہدم،کئی بستیاں متاثرہوئیں۔دریائے سندھ ہیڈ تونسہ بیراج کے مقام پر سیلابی صورتحال اور طغیانی کے باعث کچے کے مواضعات بیٹ چھجڑے والا،نشان والا، لو مڑبوالا کے علاوہ سپر نمبر 3 پر کٹاؤ شدت اختیار کر گیا جس سے تنیوں مواضعات(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 میں بیسؤوں مکانات منہدم ہونے کے ساتھ ساتھ کئی بستیاں بھی دریا بر د ہو گئیں۔چاول،گنا، تل، کپا س اور چارہ پر مشتمل فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ دوسروں طرف کچے کے علا قوں میں سیلابی صورت حال کے باعث کھلے آسمان تلے پڑے بے یاروو مددگار متاثرین کی مدد کیلیے اسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو عامر محمود،محکمہ محال کے اہلکاروں اور ریونیو افسران کے ہمراہ متاثرہ موا ضعا ت کشتیوں پر پہنچ گئے۔ اور سیلاب میں پھنسے سینکٹر و ں متاثرین کو ریلیف فراہم کرایا۔متاثرین کی سہولت اور رہائش کیلیے گورنمنٹ ہائی سکول دائرہ دین پناہ میں فلڈ ریلیف کیمپ بھی قائم جر دیا گیا جہاں پر متاثرہ لوگوں کو منتقل کردیا گیا۔ڈی سی مظفر گڑھ نے بھی فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملے اور ان سے مسائل دریافت کیے۔ مکانات تعمیر کرانے کی درخواست پر ڈی سی مظفر گڑھ نے کہا کہ مکانات کی رقم بزریعہ چیک دی جائیگی تاکہ متاثرین مکانات تعمیر کراسکیں۔جبکہ فصلات کے معاوضہ کا بھی ڈی سی مظفرگڑھ نے وعدہ کیا۔ڈی سی مظفر گڑھ نے ریونیو افسران،اسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو اور محکمہ محال کے افسران کو متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔علاوہ ازیں سپر نمبر 3 پر  محکمہ ایری گیشن کی ناقص پالیسی کی باعث کٹاؤ میں شدت آگء ہے۔ایمرجنسی کے نام پر لوٹ مارکا سلسلہ اپنے عروج پرہے۔ کٹاؤ کے باوجود محکمہ ایری گیشن کی ملی بھگت سے نیا پتھر ڈالنے کی بجائے پرانا پتھر لگایا جارہا ہے۔ مذید برآں ہاکی سپر پل کے دونوں طرف کٹاؤ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ کشتی مالکان کے کشتیوں کے کرایوں میں بھی دوگنا اضافہ کردیا ہے۔متاثرین علاقہ غلام محمد،عاشق حسین، غلام قاسم، محمد ہاشم،محمد سلیمان،فداحسین، نذیر بی بی بیوہ خدا خش،عزیز بیوہ اصغر وغیرہ نے  وزیر اعظم پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب سے متاثرہ مواضعات کو آفت زدہ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -