ہندوستان سے ہجرت،ہزاروں خاندان آج بھی در بدر

ہندوستان سے ہجرت،ہزاروں خاندان آج بھی در بدر

  

ملتان(سٹی رپورٹر)بھارت کے ضلع کرنال تحصیل پانی پت گام جلوانہ سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے 82سالہ اسلام الدین جلوانے والا ہے کہا ہے کہ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ان کی عمر تقریبا7برس تھی ہمارا گاؤں کیونکہ شہر سے بہت دور تھا اس لئے ہمارے بزرگوں کو تحریک پاکستان کی جدو جہد میں پیش آنے مشکلات کا اندازہ نہیں تھا بس اتنا ضرور معلوم تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت خان مسلمانوں کے لئے علیحدہ اور(بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

 ہندوؤں سے آزادی کے لئے ملک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم لوگ جن زمینوں پر آباد تھے اور کاشتکادی کرتے تھے ان تمام زمینوں کا مالک نواب لیاقت علی خان تھے وہ اکثر اوقات  ہمارے گاؤں میں بھی آتے تھے میری بھی ایک بات لیاقت علی خان سے ملاقات ہوئی تھی انہوں نے کہا ہے جیسے ہی پاکستان کا اعلان ہوا تو ہندو اور سکھ طیش میں آگئے انہوں نے مسلم آبادیوں پر حملے اور لوٹ مار شروع کر دی ہم رات ہی رات اپنے گاؤں سے نکل کر پانی پت پہنچے بعد ازاں کرنال سے ہوتے ہوئے ریل گاڑی کے ذریعے کلور کوٹ پاکستان پہنچے راستے میں جگہ جگہ ٹرین پرحملہ کرنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے کئی افراد شہید ہو گیانہوں نے کہا ہے کہ کلور کوٹ میں ہمیں ایک پرانی حویلی آلاٹ کی گئی جہاں ہم نے رہاہش اختیار کی بعد ازاں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے کلورکوٹ سے ہجرت کرکے جام پور ضلع راجن پور چلے گیئے وہاں سرکاری بولی کے ذریعے میرے والد نے نیلامی میں مکان حاصل کیا جسے ہمارے قریبی عزیز نے زیادہ پیسے دیکر اپنے نام کر والیا۔کچھ عرصہ بعد میرے والدین سندھ کے علاقے ٹنڈو آدم کے قریب ایک گوٹھ میں شفٹ ہو گے جہان کھیٹوں میں محنت مزدوری کرتے رہے اور ہم لوگ وہاں سیٹ ہو گئے لیکن1985میں اندرون سندھ میں سندھی مہاجر فساد شروع ہو گئے جس  کی وجہ سے رات ہی رات اندرون سندھ چھوڑ لر کراچی منتقل ہو گئے اور آج بھی وہیں آباد ہیں انہوں نے کہا ہے کہ لوگو ں کو صرف1947کی ہجرت یاد ہے۔آج75سال گزرنے کے باوجود بھی ہزاروں خاندان آج تک بھی سیٹ نہ ہو سکے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -