کچہ آپریشن، 11مغوی بازیاب، 15ڈاکو، 105سہولت کار گرفتار 

کچہ آپریشن، 11مغوی بازیاب، 15ڈاکو، 105سہولت کار گرفتار 

  

رحیم یارخان(بیورورپورٹ،نمائندہ پاکستا ن)ڈی پی او اختر فاروق کی زیر قیادت کچہ میں پولیس کی ٹارگٹڈ کارروائیاں تیزہوگئیں، پولیس سے فائرنگ کے تبادلہ5اغوا کار و ڈاکو ہلاک15زخمی حالت میں گرفتار،3پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے،11مغوی بازیاب17کو اغوا ہونے سے بچا لیا گیا، کچہ کے اہم داخلی خارجی راستوں کی ناکہ بندی جاری ہے۔105سہولت کار بھی گرفتار کرلیے گئے۔ تفصیل کے مطابق(بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

 ڈی پی او اختر فاروق کی زیر نگرانی عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے پولیس کچہ میں موئثر حکمت عملی کے ساتھ اپنی ٹارگیٹڈ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس میں رحیم یارخان پولیس کا راجن پور اور سندھ پولیس کے ساتھ بہترین کوآرڈینیشن موجود ہے، گزشتہ کچھ عرصہ میں پولیس اور اغوا کار اور ڈاکوں کے درمیان مختلف اوقات میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلہ میں 5 ڈاکو اغوا کار ہلاک، 15 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، پولیس نے اس دوران کچہ کے ڈاکوں کی مدد میں ملوث 105 سہولت کارروں کو بھی گرفتار کیا ہے، 38 ایلیٹ پولیس فورس کی ٹیموں سمیت 813 پولیس افسران و جوانوں نے 4 بکتر بند گاڑیوں اور جدید اسلحہ سے لیس ہو کرکچہ کا گھیرا کر  رکھا ہے جس سے پولیس کا رسپانس ٹائم بہتر ہوا اور پولیس نے کچہ کے 42 اہم داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت مسدود ہو کر رہ گئی ہے، پولیس نے موئثر حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11 مغویوں کا بازیاب کیا جبکہ ہنی ٹریپ و دیگر طریقوں سے اغوا کی خاطر بلوائے گئے 17 افراد کو پولیس نے بروقت اطلاعات پر کامیاب کارروائیاں کر کے اغوا ہونے سے بچایا، پولیس کی جانب سے خفیہ ناکہ بندی کا سلسلہ بھی جاری ہے، ڈی پی او اختر فاروق کا کہنا ہے کچہ میں تعینات اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں اورکی ویلفئیر کا مکمل خیال رکھا جا رہا پولیس کے تمام تر اقدامات اور موئثر حکمت عملی سے جہاں جرائم پیشہ عناصر کی نقل حرکت محدود ہونے سے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے وہاں پر عوام الناس میں احساس تحفظ بڑھا ہے پولیس کی موئثر کارروائیوں کو عوام کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور اس کا مثبت فیڈ بیک مل رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کچہ کے اخری اغوا کار اور ڈاکو کے خاتمے تک عوام الناس کے تحفظ کے لیے ان کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -