صدرِ مملکت نے ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

صدرِ مملکت نے ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر ایف بی آر سے وضاحت ...
صدرِ مملکت نے ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی
سورس: Twitter

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شہری سے ناانصافی اور بدانتظامی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی۔  صدر مملکت نے وضاحت وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف غیرضروری طور پر اور بغیر کسی مضبوط قانونی جواز کے مالی طور پرمعمولی کیس کو طول دینے اورملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر طلب کی۔

ترجمان ایوانِ صدر کے مطابق ایبٹ آباد کے ایک دکان کے مالک کو ایف بی آر نے"درجہ 1 ریٹیلر" کے طور پر رجسٹر کیا تھا حالانکہ دکان مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تھی،  شہری نے اس ناانصافی پر وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا جس نے شہری کے حق میں احکامات جاری کیے،  ایف بی آر نے اس فیصلے کی تعمیل کی بجائے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کی۔

 صدر مملکت  نے  ایف بی آر کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دکان کی غیر منصفانہ رجسٹریشن ختم کرنے اور  45 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر  بتائے کہ ناجائز طور پر ایک کپڑے کی دکان کو "درجہ-1 ریٹیلر" کے طور پر کیوں رجسٹر کیا گیا؟ دکان صرف 594مربع فٹ پر مشتمل تھی، سیلز ٹیکس رولز کے تحت لازمی رجسٹریشن قانون، قواعد کے خلاف، غیر منصفانہ اور غیر متعلقہ بنیادوں پر مبنی اور بدانتظامی کے مترادف ہے،  ٹیکس محتسب کا حکم ٹھوس بنیادوں پرتھا، اصل حکم میں مداخلت کاکوئی معقول جوازنہیں ہے۔

 صدر مملکت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ  ایف بی آر وجوہات بتائے کہ انصاف میں تاخیر کیوں ہوئی اور ملک کے اعلیٰ ترین فورم کی کوشش اور وقت کیوں ضائع کیا گیا؟ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ چھوٹے اورمالی طور پر معمولی ٹیکس دہندگان کے معقول اور قانونی وجوہات کے بغیر تعاقب سے ایف بی آر کے تاثر پر منفی اثر پڑتا ہے اورعوامی ناراضگی بھی پیدا ہوتی ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -