منظور وٹو کا انتخاب سوالیہ نشان بن گیا،کسی بھی حلقے میں اَپ سیٹ کرنے میں ناکام رہے

منظور وٹو کا انتخاب سوالیہ نشان بن گیا،کسی بھی حلقے میں اَپ سیٹ کرنے میں ...

  

پنجاب میں پانچ دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے تمام امیداواوں نے دو ہزار آٹھ ہمیں ہونے عام انتخابات سے کہیں زیادہ ووٹ لئے ہیں جو اس امر کا غماز ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان مسلم لیگ (ق) کے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کی مقبولیت کم ہونے کے دعوے محض پراپیگنڈہ ثابت ہوئے ہیں۔پنجاب میں منگل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں کے ضمنی انتخابات کے اعدادو شمار وسے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ان ضمنی انتخابات کو انتہائی سنجیدگی اور منصوبہ بندی کے ساتھ لڑااور حمزہ شہباز شریف نے تقریباً تمام انتخابی حلقوں میں جلسے کرکے اپنے ووٹرز کو متحرک کیا جبکہ پی پی پی اور ق لیگ کنفیوژن کا شکار رہی اوردونوں جماعتیں مشترکہ طور پر اپنے امیدواروں کیلئے ہمدردیاں حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہیں ۔عمران خان کی تحریک انصاف بھی ایک طرح سے کنفیوژن کا شکار نظر آئی اورساہیوال میں اپنے اہم کارکن رائے حسن نواز کی اس انداز سے حمایت تو ضرو ر کی کہ ان کےلئے پی ٹی آئی کے پوسٹرز اورجھنڈے لہرائے جاتے رہے لیکن عمران خان تو کیا ان کے قریبی ضلع میں موجود مخدوم جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی جیسے پی ٹی آئی کے مرکزی راہنماو¿ں میں سے کسی نے بھی ان کے حلقے کا دورہ کرنا گوارا نہ کیا ۔شاید انہیں رائے حسن نواز کی شکست کا یقین تھا اوروہ ان کیلئے سیاسی جلسہ کرکے اپنی رہی سہی ساکھ بھی برباد کرنا نہیں چاہتے تھے ۔اعدادو شمار کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو باسٹھ ساہیوال سے کامیاب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار زاہد اقبال چوہدری نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے مقابلے میں پانچ ہزار تین سو بتیس ووٹ زیادہ لئے ۔دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں زاہد اقبال چوہدری پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے اورسات ہزار چھ سو چونتس ووٹ لے کر جیتے تھے جبکہ ضمنی انتخابات میں انہوں نے (ن) لیگ کے امیدوار کے طور پر پچتر ہزار نوسو چھیانوے ووٹ لئے ۔اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو سات گجرات سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ملک حنیف ایک لاکھ چھ ہزار نوسو چھانوے ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ہی جمیل ملک پچتر ہر ار دو سو پانچ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ یوں ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں اکتیس ہزا ر چارسو پچپن زیادہ ووٹ لئے ہیں۔ اسی حلقے سے پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار رحمن نصیر نے چھیتر ہزار دوسو ووٹ لئے جبکہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کے طور پر رحمن نصیر نے انتہرہزار ایک سو ایک اور پاکستان پیپلزپارٹی کے راجہ مسعود نے چودہ ہزار نو سو آرٹاتیلس ووٹ لئے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار نے دونوں پارٹیوں کے دو ہزار آٹھ کے امیدواروں سے مجموعی طور پر ساتھ ہزار آٹھ سوانچاس ووٹ کم لئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی دو سوچھبیس ساہیوال سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سیف جوئیہ نے دو ہزار آٹھ میں پندرہ ہزار ایک سو بہتر ووٹ لئے تھے جبکہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے محمد حنیف نے ستائس ہزار ایک سو بائیس زیادہ ووٹ لئے اور بیالیس ہزار دوسو چورانوے ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔یہ سیٹ مسلم لیگ (ق) کے اقبال لنگڑیال کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی‘ جنہوں نے دو ہزار آٹھ میں انتس ہزار پانچ سو پچپن اور پیپلزپارٹی کے امیدوار طالب لنگڑیال نے چو د نو سو چورانوے ووٹ لئے تھے۔ ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار نے بینس ہزار نو سو انتہر ووٹ لئے ہیں جو کدو ہزار آٹھ کے پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے مجموعی ووٹوں سے نو ہزار پانچ سو آٹھ کم ہیں۔ پی پی بانوے گوجرانوالہ سے ن لیگ کے نوازچوہان ‘ ن لیگ کے ہی دو ہزار آٹھ میں کامیاب ہونے والے اشرف چوہان سے گیارہ ہزار سا ت سو ستاسی ووٹ زیادہ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ نواز چوہان نے چھیتس ہزار چار سو انیس ووٹ لئے ہیں اشرف چوہان نے دو ہزار آٹھ میں چو بیس ہزار چھ سو بتیس ووٹ لئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے لالہ اسد نے سولہ ہزار نو سو اٹھاسی ووٹ لئے ہیں اور پیپلزپارٹی کے ہی لالہ شکیل نے دو ہزار آٹھ میں تیس ہزار آٹھ سو بانوے ووٹ لئے تھے۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں چھ ہزار نوسو چارووٹ کم لئے ہیں۔ یوں اس حلقے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن خاصی بہتر ہوئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی پوزیشن کافی کمزور ثابت ہوئی ہے۔صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی چھیبس جہلم میں کامیاب ہو کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے چوہدری خادم حسین نے انتا لیس ہزار ایک چون ووٹ لے کر دو ہزار آٹھ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہی ندیم خادم سے ستارہ سو ستارا زیادہ ووٹ لئے ہیں جو سینتس ہزار تین سو تراسی ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے محمد آصف نے صرف سو لہ ہزار آٹھ سو اکتالیس ووٹ لئے ہیں جبکہ دو ہزار آٹھ میں مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس نے سو لہ ہزار آٹھ ستاسی اور پیپلزپارٹی کے پرویزاختر نے گیارہ ہزار سات ووٹ لئے تھے۔ یوں اس حلقے سے پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار نے دو ہزار آٹھ میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے مجموعی ووٹوں سے دس ہزار چھ سو ترپن ووٹ کم لئے ہیں جو دونوں جماعتوں کی اس حلقے میں مقبولیت میں کمی کے رحجان کی طرف واضح اشارہ ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ ایک سو انتی سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے محسن اشرف کامیاب ہوئے ہیں ۔ دو ہزار آٹھ میں یہ سیٹ مسلم لیگ(ق) کے انصربریار نے بیس ہزار ایک سو اٹھتر ووٹ لے کر جیتی تھی اور پیپلزپارٹی کے عثمان گھمن نے سو لہ ہزار ستاون ووٹ لئے تھے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے مشترکہ امیدوار انصر بریار نے اکتیس ہزار ایک سو دو ووٹ لئے ہیں جودو ہزار آٹھ میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے ووٹوں سے پانچ ہزارایک سو تیتس کم ہیں۔ اس حلقے میں بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی مقبولیت کا گراف نیچے گیا ہے۔صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی ایک سو بائیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد اکرام ستائیس دو اکناوے ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار راجہ عامر نے صرف چار ہزار سات سو نرنوے ووٹ لئے ہیں۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے پیپلزپارٹی کے راجہ عامر نے گیارہ سو اٹھاسی اور ق لیگ کے عمر ڈار نے نو ہزار نو اکسٹھ ووٹ لئے تھے۔ دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے مجموعی ووٹ بیس ہزار نو سو نرنوے کے مقابلے میں دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار راجہ عامر نے سو لہ ہزار دو سو اٹھاسی ووٹ کم لے کر پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی سیالکوٹ کے اس حلقے میں مقبولیت کا پول کھول دیا ہے۔

پنجاب میں ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروںکا ہر انتخابی حلقے میں گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ ووٹ لینا اور پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدواروں کا دو ہزار آٹھ میں انتخابات کے دوران مجموعی ووٹوں کے مقابلے میں بھی انتہائی کم ووٹ لینا جہاں پنجاب کے عوام میں مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں پر اعتماد اور مقبولیت میں اضافہ ظاہر کر رہا ہے‘ وہاں پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے اتحاد اور ان کی کارکردگی کے بارے میں ناپسندیدگی کا بھی مظہر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار رائے حسن نواز کی شکست نے بھی عمران خان اور دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں جانے والی قد آور سیاسی شخصیات کی بصیرت اور کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔پنجاب میں چوہدری پرویزالٰہی اور پیپلزپارٹی پنجاب کے نئے صدر منظور وٹو کی سیاسی جوڑ توڑ کی سیاست کو ٹیسٹ کرنے کے لئے یہ ضمنی انتخابات ایک نادر موقع ثابت ہوئے ہیں جس میں منظور وٹو بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں اور کسی ایک حلقے میں بھی وہ اپ سیٹ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات نے آئندہ عام انتخابات میں ووٹرز کے رحجانات اور سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کی طرف واضح اشارہ دے دیا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -