ہولوکاسٹ کی کہانی (5)

ہولوکاسٹ کی کہانی (5)

  

ایک بہت اہم حوالہ جو باربا ردیا جاتا ہے، وہ ہولو کاسٹ میں آدم سوزی کی بھٹیاں Gas Chambers ہے، جہاں Zyclone B جیسی مسموم گیس کا استعمال کیا گیا اور نازیوں نے اس مخصوص ہتھیار سے یہودی قوم کی نسل کشی کی۔ جب اس حوالے سے پروفیسر فوریسن سے سوال کیا گیا تو انہوں نے تفصیل سے وضاحت کی کہ مذکورہ زہر موذی حشرات ،مثلاً کھٹمل، جوﺅں اور چچڑیوںکے خاتمے کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا، کیونکہ قیدیوں کی ایک کثیر تعدار کیمپوں میں جمع تھی اورصفائی کے حالات ناگفتہ بہ تھے، بقول پروفیسر فوریسن، لیکن سرکاری مورخین نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جنگ کے زمانے میں جرمنی والوں نے یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار نے کے لئے گیس کے کمروں کی اصطلاح میں اسی زہر سے استفادہ کیاتھا۔

مَیں نے اس سلسلے میں ایک سوال اٹھایا تھا جو” لوموند“ میں شائع ہونے والے مقالے میں شامل تھا۔ زیکلون بی وہی ہائیڈروسینک ایسڈ ہے جو بے حد طاقتور زہر ہوتا ہے ،لہٰذا مَیں آپ سے استد عا کرتاہوں کہ مجھے وضاحت کے ساتھ بتایا جائے کہ گیس کے کمرے کی مکمل تفصیلات کیا تھیں اور غیر معروف ہتھیار کے استعمال کا طریقہ کار کیا تھا ؟مَیں نے اس مقالے میں لکھا تھا کہ میرا یہ سوال ایک ایسا نکتہ ہے جو کبھی میری سمجھ میں نہیں آتا ۔ سرکاری تاریخ کی روایت کے مطابق خصوصاً نازی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مقدمات جو نورمبرگ کی عدالت میں چلائے گئے تھے، اس میں پیش کئے گئے خصوصی اسناد میں کہا گیا ہے کہ ہر بار گیس کے کمروں کو استعمال کرنے کے ایک گھنٹہ بعد جرمن فوجی کمروں میں مرجانے والے افراد کی لاشوں کو نکال کر مذکورہ کمروں کو خالی کرنے کے لئے ان کمروں میں نہایت بے اثری سے بغیر ماسک کے داخل ہوتے۔ وہ بھی اس طرح کہ ان کے ہونٹوں میں جلتے ہوئے سگریٹ موجود ہوتے تھے۔مَیں نے اپنے مذکورہ مقالے میں سوال کیا تھا کہ یہودیوں کوموت کے گھاٹ اتارنے کے لئے مذکورہ مہلک گیس کو استعمال کرنے کے بعد کس طرح نازی لوگ ان گیس کے کمروں میں داخل ہوسکتے ہیں : ہائیڈروسینک ایسڈ نامی زہریلی گیس کاانخلا بیحد مشکل کام ہے، پھر وہ نازی کس طرح ان لاشوں کو ہاتھ لگا سکتے تھے جو اس مہلک اور قوی زہر سے پوری طرح آلودہ ہوچکی ہوتی تھیں ؟

پروفیسر فوریسن کامذکورہ انٹریو بے حدچشم کشاحقائق کا حامل ہے ۔وہ محض کتابی شواہد کو کافی سمجھ لینے کے بجائے ان تمام فوجی کیمپوں میں بھی گئے، جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کو قید کیا گیا تھا ،وہ کہتے ہیں : ”بالکل میں آشویٹنر فوجی کیمپ بھی گیا تھا، دوسری جنگ عظیم کے تین سال بعد 1948ءمیں تاسیس ہونے والے ”آشویٹنر“ کے نیشنل میوزیم کا بھی دورہ کیا جس کو کئی ملین افراد نے دیکھا ہے۔ اسی طرح ان کمروں کا جس کے لئے گیس کے کمروںکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے،معائنہ کیا اور نہایت تیزی سے مجھ پر یہ بات منکشف ہوگئی کہ وہ گیس کے کمرے جعلی ہیں ۔“

وہ مزید بیان کرتے ہیں:

” اس لئے کہ چھت کنکریٹ میں لوہے کی سلاخیں دبا کر بنائے گئے ہیں، جبکہ ان میں موجود سوراخ بیحد معمولی اور سادہ ہیں ،جنہیں آہنبستہ کنکریٹ سے تیار شدہ چھتوں میں کدال کے ذریعے کھود ااور سوراخ کیا گیا ہے۔پروفیسر فوریسن نے اپنے اس مصاحبے میں واضح کیا کہ وہ آشویٹزAuschwitzاور دخاﺅDachaiuنامی فوجی کیمپوں میں نہ صرف گئے، بلکہ وہاں کے مشاہدات وتاثرات اور حقائق کو تحریر بھی کیا، مگر ان اعتراضات یا سوالات کا کبھی کوئی جواب متعلقہ احباب کی طرف سے نہ دیا گیا اور سماجی مقاطعے اور ظلم وتشدد کے ذریعے انہیں سچ کہنے کی سزادی گئی ۔

 اعدادو شمار اورتاریخ کا وسیع مطالعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چھ ملین یہودیوں کے قتل عام کی جو کہانی گھڑی گئی ہے، اس میں بھی سچائی نہیں۔6لاکھ یہودی جوجرمنی میں آباد تھے، ان میں سے چار لاکھ کو ہٹلر کے حکم سے جرمنی سے نکالا جاچکاتھا اور یہ بات دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے سے قبل کی ہے۔ گویا جنگ کے وقت جرمنی میں کل دو لاکھ یہودی موجود تھے اور ان میں سے بھی زیادہ ترشدید سردی، ناکافی غذا، پریشانی ، ضعیف العمری اور حفظان صحت کی ناکافی سہولتوں کے سبب انتقال کرگئے، سواگر 6 ملین یہودیوں کے قتل کو افسانہ یا مبا لغہ آرائی سمجھا جائے تو یہ امر حقیقت سے قریب تر نظر آتا ہے ۔

 ایک اور مو¿رخ کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ تھوڑی بہت ریاضی کی شدبد رکھنے والا بھی سمجھ سکتاہے کہ آج سے چھیا سٹھ برس قبل 6 ملین افراد کو قتل کرڈالنا ممکن نہیں تھا۔وہ مثال دیتے ہیں کہ بالفرض ایک لاش کو ٹھکا نے لگانے میں کم از کم ایک لٹر پٹرول اور تقریبا20منٹ کاوقت درکار ہوتو 6 ملین افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں کئی برس اورکئی سو لٹر ایند ھن درکار ہوگا اور نازی افواج کے پاس یہ موجود نہیں تھا “۔

 دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کا پروپیگنڈ اکا وزیر گوئبلز کہا کرتاتھا کہ جھوٹ اتنے تواتر سے بولو کہ وہ سچ محسوس ہونے لگے۔ یہی معاملہ صہیونیت کی پراپیگنڈہ مشینری کاہے ۔ بن گور بان نے نصف صدی قبل کہاتھا:

 We must save the remnants of Israel in the Diaspora We must also save their possessions Without these two things we shall not build this country.

(ختم شد)  ٭

مزید :

کالم -