بابری مسجد کی شہادت امت مسلمہ کے لئے عظیم سانحہ ہے

بابری مسجد کی شہادت امت مسلمہ کے لئے عظیم سانحہ ہے
بابری مسجد کی شہادت امت مسلمہ کے لئے عظیم سانحہ ہے

  

ہندوقوم کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ امن سے نہیں رہی ،کیونکہ شیطانیت ان کی فطرت میں شامل ہے اور یہی چیز انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر اکساتی رہتی ہے اس لئے انہیں جب بھی موقع ملتاہے ،اس تعصب اورنفرت کا اظہار کرتے ہیں۔اسی نفرت کے پیش نظر 6 دسمبر 1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں نے قوم پرست ہندو تنظیموں کے اکسانے پربابری مسجد کو شہید کرکے عارضی طورپر ایک مندر بنادیا تھا، جس کے بعدسارے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے ،جن میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راؤ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راؤ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا ۔جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی، نرسمہا راؤ سوتے رہے ،کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی ،بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راؤ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راؤ کو کہا جاتا ہے۔

مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کے لئے اشتعال انگیز اقدام تھا، اس لئے پوری دنیا میں مسلمان ہندوؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوؤں کے کے خلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اوراندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی، لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی، منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اورایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوں لیڈر مسجد کے سامنے واقع ’’رام کتھا کنج‘‘ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا اس رپورٹ نے جہاں ہندوؤں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا، وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں ،لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لئے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔

ہندوؤں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی۔اس واقعے کے بعد ہندوستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورتحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔ 30 ستمبر 2010ء کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا ،جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لے کر سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حصول حق کے لئے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جو اصولی بھی ہے اور جمہوری بھی،لیکن اس قضیے میں امریکہ کی بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور ایک امریکی کمپنی کا نام سامنے آنے کے بعد کہ جس کا انکشاف ایودھیا کے مہنت یوگل کشور شاستری نے بابری مسجد شہادت کیس کی سماعت کے دوران اسپیشل جج وریندر کمار کی عدالت میں کیا، کم از کم ایک بات عیاں ہوگئی ہے کہ امریکی سی آئی اے انتہا پسندوں کو اکسانے، نوازنے اور پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے اور وشوا ہندو پریشد والوں اور اس وقت کی کانگریس حکومت سے اسے کوئی دلچسپی ہو نہ ہو، مسلمانوں کے ساتھ اس کی دشمنی بابری مسجد کی مسماری کا باعث بنی تھی۔

بھارتی عدلیہ کے فیصلے کے بعد بھارت میں آباد 26 کروڑ سے زائد مسلمان شدید مایوسی اور اضطراب کا شکارہوئے، جبکہ دوسری طرف انتہا پسند ہندو خوشی سے بھنگڑا ڈال رہے تھے ،کیونکہ عدالت کے اس فیصلے نے مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کردی ہے۔ مسلمانوں کا عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کی شہادت میں جو لوگ ملوث ہیں ،انہیں سزائیں دی جائیں اور مسجد کی ازسرنو تعمیر کی اجازت دی جائے ،نہ کہ مسجد کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے ہندوؤں کو دے دیئے جائیں۔ بھارتی عدلیہ نے قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر فیصلہ کیا جوہندوؤں کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہے، جن کے مطابق یہ جگہ رام کی جائے پیدائش تھی، جس کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔فیصلے میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے انتہا پسند ہندوؤں کی خوشنودی حاصل کی گئی ہے، جبکہ دوسری طرف مسجد کا ایک حصہ مسلمانوں کو دے کر انہیں بھی خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ بھارتی عدالت کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ عدالتوں کے فیصلے اگر سیاسی بنیاد پر ہونے لگیں تو پھر ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔

بابری مسجد کا متعصب اور انصاف سے مبرا فیصلہ آنے کے بعد ہمارے ان دوستوں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں جو بھارت اور دیگر غیر مسلم اقوام سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ انہیں اب سمجھ جانا چاہیے کہ کفار کبھی ’’ امن کی آشا ‘‘ والی بھاشا نہیں سمجھتے ،بلکہ یہ صرف ڈنڈے کے سامنے ’’ رام رام ‘‘ کرنا ہی جانتے ہیں۔ ہم اپنی طرف سے جتنی مرضی دوستی کی ٹرینیں چلائیں یا بسیں دوڑائیں ،چاہے تو ان کے قدموں میں گریں یا پھران سے بغلگیر ہو کر دوستی نبھائیں، لیکن یہ ’’ رام وام ‘‘ کے پجاری کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے، کیونکہ یہ ہم نے نہیں ،بلکہ اللہ تعالیٰ نے روز اول ہی سے طے کر دیا تھا کہ کافرکبھی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا۔

مزید : کالم