بلاول کی غیر حاضری، زرداری کی وضاحتیں!

بلاول کی غیر حاضری، زرداری کی وضاحتیں!
بلاول کی غیر حاضری، زرداری کی وضاحتیں!

  

برطانوی اخبارات کی خبر تھی کہ پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری اپنے والد سے ناراض ہوکر بیرون ملک آ گئے اور انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔ بلاول کی پھوپھو فریال تالپور نے وضاحت کی تھی کہ لندن میں کشمیریوں کے ملین مارچ کے موقع دھکے لگنے سے بلاول کی کمر میں تکلیف ہوئی جس کے باعث وہ پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر پاکستان نہیں آ سکے۔ بلاول کے والد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری خود یوم تاسیس کی تقریبات میں حصہ لینے کے لئے لاہور آئے اور یہاں انہوں نے پارٹی کو متحرک کرنے کے لئے کارکنوں اور تنظیمی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور ورکرز کنونشنوں سے بھی خطاب کیا۔قدرتی طور پر ہر موقع پر ان کو بلاول کی غیر حاضری کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا، اکثر مواقع پر وہ اس سوال کو ٹال گئے، لیکن تنظیمی میٹنگوں میں بھی جب یہی سوال کیا جانے لگا تو انہوں نے واضح کر دیا اور بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری ان کی خواہش پر نہیں آئے کہ وہ نوجوان اور پرجوش ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریروں سے بہت سوں کو ناراض کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ بلاول بھٹو کچھ عرصہ سیاست سے دور ہی رہیں گے ان کو مناسب وقت پر بلایا جائے گا، ان کی ناراضی کے بارے میں سب خبریں غلط ہیں۔

اس کا پس منظرکچھ یوں ہے کہ بلاول بھٹو کو جب سیاست کے لئے بلایا گیا تو سب سے پہلے انہوں نے تنظیموں کو مکمل کرنے کی ہدائت کی اور یہ بھی کہا کہ جو روٹھے ہوئے ہیں ان کو منا لیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے دونوں بہنوں کے ساتھ مل کر جو سرگرمیاں شروع کیں وہ اعتدال پسند اور ترقی پسندانہ تھیں اور ان کی طرف سے پارٹی کے اساسی نعروں کی پیروی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے خطاب میں بھی تندی تھی اور قدم قدم پر احساس ہوتا تھا کہ وہ اپنے والد کی مفاہانہ سیاست سے متفق نہیں اور پارٹی کے کارکنوں کی کثیر اکثریت کے جذبات کے مطابق اصولی سیاست کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ ان کی طرف سے دیئے جانے والے پیغامات اور تقریروں سے عیاں تھا کہ وہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور بعض عہدیداروں کے کام سے مطمئن نہیں اور تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں۔

اسی حوالے سے 18اکتوبر کو کراچی کے جلسہ عام میں انہوں نے زور دار تقریر کر دی اور بعض سیاسی اکابرین کے بارے میں تنقیدی لہجہ اختیار کیا اور سخت الفاظ استعمال کئے ، والد بزرگوار کو یہ طرز عمل پسند نہ آیا حالانکہ 18اکتوبر والے جلسے میں صاحبزادے کی کارکردگی پر مطمئن ہو کر انہوں نے بلاول کا منہ بھی چوم لیا تھا، یہیں بلاول نے یوم تاسیس پر جوش انداز میں منانے اور مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان بھی کر دیا، ان کا یہ طرز عمل اور جارحانہ موڈ کارکنوں کو بہت پسند آیا، لیکن والد محترم آصف علی زرداری نے اس سرگرمی کو عجلت قرار دے کر ان کو روکنے کی کوشش کی اور مفاہمت کی پالیسی ہی اختیار کرنے کا مشورہ دیا، جو نوجوان بلاول کو پسند نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے تنقید بھی کی اور مزید سرگرمیوں کا طریقہ بھی وہی اختیار کیا، جوان سے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا تھا، آصف علی زرداری کے بقول ابھی اس سیاست کی ضرورت نہیں، کیونکہ ملک میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں اور جمہوریت سمیت قومی اداروں کا تحفظ بھی پیپلزپارٹی کی ذمہ داری ہے، بس یہی وجہ اختلاف ہے اور بلاول بھٹو زرداری نے وقتی طور پر سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی، ان کی کمی پوری کرنے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے لئے خود آصف علی زرداری نے بہت مصروف وقت گزارا اور میٹنگوں پر میٹنگیں کرتے چلے جا رہے ہیں اور اپنا نکتہ نظر واضح کرتے چلے جا رہے ہیں، انہی میٹنگوں کے دوران ان سے بلاول کے بارے میں ہی سوالات ہوتے رہے اور انہوں نے جواز پیش کر دیا اور پھر خود اجلاسوں کی صدارت کرکے عہدیداروں اور کارکنوں کو تسلی دی اور پارٹی کی سرگرمیوں اور موقف کے وقت ان کو جواب دہ ہونا پڑا۔

ہم نے واقعات بیان کر دیئے نتیجہ اخذ کرنا پیپلزپارٹی والوں کا اپنا عمل ہے جہاں تک تنظیم منظم اور فعال بنانے کا تعلق ہے تو کسی کو ان کی تکلیف نہیں بلکہ خوشی ہوگی کہ ایسا ہو لیکن یہاں بھی آصف علی زرداری نے مرکزی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کے خلاف اعتراضات کا بھی از خود جواب دے دیا اور واضح کر دیا کہ ان کے نزدیک میاں منظور وٹو اہل آدمی ہیں، یوں تنظیمی عہدیداروں کا دفاع کیا اور میاں منظور وٹو کی تعریف کر دی۔

آصف علی زرداری نے کارکنوں سے بار بار وعدہ کیا کہ وہ (آصف) خود کارکنوں سے رابطہ رکھیں گے ، ان کی یہ بات عقل مانتی ہے، لیکن پارٹی کے ساتھ اب تک جو سلوک کیا گیا اس کی مرمت اور بحالی میں وقت لگے گا، اس حوالے سے ہمیں محترمہ بے نظیر بھٹو یاد آتی ہیں جنہوں نے پارٹی کو پروان نہ چڑھا دیا تھا۔ اس سلسلے میں ہم دو باتیں عرض کرتے ہیں ایک تو یہ کہ بے نظیر بھٹو کارکنوں اور پارٹی والوں کے علاوہ عوام سے بھی براہ راست رابطہ رکھتی تھیں، وہ دن میں دو سے تین گھنٹے تک کمپیوٹر پر خود بیٹھتی تھیں اور ہر آنے والی ای میل کے پیغامات کا جواب خود دیتی تھیں، ہم نے خود کئی انٹرویو انٹرنیٹ کے ذریعے ہی کئے تھے۔ منور انجم معاونت کرتے تھے، اس کے علاوہ وہ پاکستان میں تھیں تو پارٹی کو بہت وقت دیا کرتی تھیں، انہوں نے مرکزی مجلس عاملہ تشکیل دی تو سینٹر حضرات کے لئے فیڈرل کونسل بھی بنائی تھی، ان کے اجلاس تواتر سے ہوتے، سب کو یاد ہوگا کہ لندن اور دوبئی میں بھی اجلاس ہوئے اور انہوں نے پارٹی والوں کو غیر حاضری محسوس نہیں ہونے دی تھی، اب ایک بات یہ بھی یاد رکھیں محترمہ نے خود ہمیں بتایا تھا کہ بچوں کی تربیت اور تعلیم کا بھی وہ خود دھیان رکھتی ہیں، یوں بلاول سے بختاور اور آصفہ تک والدہ کے اثرات ہیں، آصف علی زرداری متحرک ہوئے تو ان کو سب باتوں کا دھیان رکھنا ہو گا ان سے وہ واقف بھی ہیں، قارئین تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھیں۔

مزید : کالم