آپ اپنی ولایت ہوں۔۔۔درگاہ بھی، مخدوم بھی

آپ اپنی ولایت ہوں۔۔۔درگاہ بھی، مخدوم بھی
آپ اپنی ولایت ہوں۔۔۔درگاہ بھی، مخدوم بھی

  

برصغیر میں انگریز راج سے قبل زمین و جاگیر کی ملکیت کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔ حکمران اپنے پسندیدہ افراد کو ان کی وفاداری کے عوض جاگیر عطا کرتے تھے اور جاگیردار کے مرنے کے بعد یہ ضروری نہ ہوتا تھا کہ زمین و جاگیر کی ملکیت مرنے والے کے وارثان ہی کو عطا کی جائے۔ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کسی ایک وارث کو ہی ساری جاگیر دے دی جاتی تھی، لیکن یہ بھی ہوتا تھا کہ وارثان سے ہٹ کر کسی نئی وفادار کو اس کی وفاداری کا انعام دے دیا جائے۔

انگریز حکمرانوں نے اپنے وفادار ٹولے اور خاندان بنانے کا آغاز کیا۔ انگریز حکمران سوچ سمجھ اور باقاعدہ خدمات کے بعد اپنے وفاداروں کو زمین و جاگیر عطا کرتے تھے اور بعد میں خاندان در خاندان یہ وفاداری بھی قائم رہتی تھی اور جاگیر اور زمین کی ملکیت بھی۔ انگریز حکمرانوں نے اس حوالے سے جاگیرداروں کا ایک نیا گروپ بھی قائم کیا اور یہ تھا مشہور درگاہوں اور بزرگان دین کے مزاروں کے سجادہ نشینوں کا گروپ۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے انگریز حکمرانوں نے بزرگان دین کے مزاروں کے سجادہ نشینوں کو نہ صرف بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں، بلکہ انہیں ضلعی، صوبائی اور مرکزی درباروں میں بھی جگہ دی۔ پاکستان میں جنوبی پنجاب اور سندھ میں موجود تمام بڑی درگاہوں کے سجادہ نشین نہ صرف اپنے اپنے علاقے کے بڑے جاگیردار ہیں، بلکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سیاسی طور پربھی مضبوط ہیں۔

گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصہ اور تین بار کی زرعی اصلاحات کے باوجود نہ تو ان سجادہ نشینوں کی جاگیر میں کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ہی ان کے سیاسی اثررسوخ میں کسی قسم کی کمی آ سکی ہے، کیونکہ یہ گدی نشین سینکڑوں سالوں سے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرتے آئے ہیں۔ حکومت کسی کی آئے، یہ حکومت کے ساتھ ہیں، اس طرح گدی بھی محفوط اور جاگیر بھی۔ سندھ کے مشہور سیاستدان سردار غلام محمد مہر سے منسوب ایک جملہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں گدی نشینوں کے اثرورسوخ کے بارے ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مہر صاحب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب سید صاحبان سندھ تشریف لائے تو سارے سندھ کے ہم مالک تھے اور سید صاحبان صرف اپنے ہاتھ میں قرآن لے کر سندھ میں داخل ہوئے تھے، لیکن آج ہم مقامی سرداروں کے پاس صرف قرآن بچ گیا ہے اور سارے سندھ کے مالک سید صاحبان ہیں۔ ٹھٹھہ سے لے کر ڈہرکی تک سندھ کی ساری سیاست اور جاگیرداری مخدوم صاحبان اور شاہ صاحبان کے گرد گھومتی ہے۔

ملتان کی سیاست بھی گزشتہ ایک صدی سے دوگدی نشین خاندانوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ گیلانی اور قریشی خاندان دونوں خاندان آپس میں ہی سیاست کو بانٹتے رہے ہیں ۔ کسی اور خاندان کے فرد نے سیاست میں آگے بڑھنے کی اگر کوئی کوشش بھی کی یہ دونوں خاندان اکٹھے ہو کر اپنی سیاست کو بچانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ لیکن یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بن جانے پر پہلی مرتبہ ہے کہ گیلانی اور قریشی خاندان نے سیاسی لڑائی سے ہٹ کر ذاتی لڑائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حال ہی میں بہاء الدین زکریاؒ کے عرس کے موقع پر گدی نشین شاہ محمود قریشی کے چھوٹے بھائی مرید حسین قریشی نے جو الزامات سے بھرپور پریس کانفرنس کی تھی اس کی تیاری اور ریہرسل بھی گیلانی ہاؤس میں کرائی گئی اور پریس کانفرنس کے بعد اس کی مبارکباد بھی بلاول ہاؤس لاہور میں جناب زرداری کی جانب سے گیلانیوں اور قریشیوں کو مشترکہ طور پر دی گئی۔ اگرچہ اس سے قبل بھی جناب شاہ محمود کی سجادہ نشینی کے حوالے سے ان کے خاندان کے مختلف افراد سوال اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اس حوالے سے شاہ محمود قریشی کا ردعمل کبھی بھی اتنا شدید نہیں آیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ گھر سے چھوٹے بھائی نے ہی الزام لگایا اور الزام بھی شدید۔

باقی الزامات ایک طرف سب سے بڑا الزام مرید حسین قریشی کی جانب سے 50لاکھ روپے ماہانہ چندہ جو غوثیہ جماعت کی جانب سے ملک بھر سے اکٹھا کیا جاتا اور پھر اس کا شاہ محمود قریشی کی ذاتی سیاست میں خرچ کئے جانے کا ہے۔ الزامات میں کتنی حقیقت ہے یہ تو بعد کی بات ہے، لیکن شاہ محمود قریشی نے جس طرح جواب میں یہ کہا کہ یہ حملہ ان کی ذات پر نہیں، بلکہ درگاہ پر حملہ ہے، یہ بالکل پاکستان کی سیاسی روایت کے عین مطابق تھا، کیونکہ یہاں یہی دستور ہے کہ اگر حکمرانوں کی غلط روی کی طرف اشارہ کیا جائے یا ان سے پالیسی اختلاف کیا جائے تو اسے ذاتی اختلاف کے بجائے مملکت پاکستان سے اختلاف قرار دیا جاتا ہے۔ حسین شہید سہروردی سے لے کر اکبر خان بگٹی تک کیا بھٹو اور کیا نوازشریف جس نے بھی اختلاف کیا غدار اور ملک دشمن کا لقب اس کا نصیب ٹھہرا۔ اختلاف کرنے والے کے الزامات اور اختلاف ایک طرف پہلے اسے پاکستان سے وفاداری ثابت کرنے اور غدار نہ ہونے کے لئے وہ جتن کرنے پڑتے ہیں کہ سب اختلاف دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بھی یہی وطیرہ اختیار کیا۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی سیاست میں درگاہ کے حوالے سے لگنے والے الزامات اور خاص طور پر 50لاکھ روپیہ ماہانہ کا جواب دیتے انہوں نے اسے اپنی ذات سے بڑھ کر درگاہ پر حملہ قرار دے دیا۔ ساتھ ساتھ الزامات کے پیچھے سیاسی قوت کو بھی باز رہنے کی دھمکی دے ڈالی۔

ملک عزیز میں یہ کھیل نیا نہیں، یہاں جب بھی کسی طاقتور سے حساب مانگا گیا، وہ اپنے آپ کو کبھی مملکت، کبھی اداروں اور کبھی درگاہوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔کبھی اپنی ذات کو پاکستان کے ساتھ نتھی کرکے مخالف کو پاکستان کے خلاف ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے تو کبھی شاہ محمود قریشی کی طرح اپنی ذات سے اختلاف کرنے والے کو درگاہ اور غوث پاک کا دشمن گردانا جاتا ہے۔ اسی لئے پاکستان میں الزامات کی گرد تو اڑائی جاتی ہے ، الزامات کی صفائی نہ کوئی دینے کو تیار ہے اور نہ ہی الزامات کے حوالے سے کسی کو پشیمانی اور شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بھی روایت کے عین مطابق اپنی سجادہ نشینی کے معاملات کے حوالے سے لگنے والے الزامات کا جواب دینے کے بجائے اسے ایک سازش قرار دیا۔ موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ یہ سجادہ نشینی عطیہء خداوندی ہے اور عوام مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، اس لئے چندہ دیتے ہیں۔ مَیں کسی کو حساب دینے کا پابند نہیں، اب شاہ محمود قریشی کو کون سمجھائے کہ یہ سجادہ نشینی ان کے بزرگوں کو انگریزوں سے کتنی محنت سے حاصل ہو سکی تھی اور اس سجادہ نشینی کے پیچھے کتنے مجاہدین آزادی کا خونِ ناحق ہوا ،یہ کیونکہ آج کا موضوع نہیں، اس لئے اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ لیکن شاہ محمود قریشی صاحب آپ اور آپ کا کپتان جب کنٹینر پر سوار ہوکر روزانہ رات کو سارے پاکستان پر الزامات لگاتے ہیں اور اس کا جواب مانگتے ہیں تو پھر آپ کو بھی جواب تو دینا ہوگا اور یہ الزامات تو آپ کے گھر سے لگائے گئے ہیں۔ خاص طور پر غریب مریدوں کی کمائی سے غوث پاک کے نام پر اکٹھی کی گئی رقم۔ ایک طویل عرصے سے یہ چندہ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ یہ کہاں خرچ ہوتا ہے، کون کون اس سے فیض یاب ہوتا ہے۔ اس رقم کا حساب کتاب کون رکھتا ہے۔صاحب مزار کے نام پر جاگیر کامزہ تو ایک طرف یہ ماہانہ کمائی کا حساب تو آپ کو دینا ہوگا۔آخر انصاف مانگنے والوں کو انصاف دکھانا بھی ہوگا۔ درگاہ اور صاحب مزار کے پیچھے چھپنے سے بات نہیں بنے گی۔ سازش کس نے کی اور مقصد کیا ہے، سب ایک طرف۔ الزامات کا جواب تو آپ کو اپنے اور اپنے کپتان کے بنائے گئے اصولوں کے مطابق دینا ہوگا۔

مزید :

کالم -