نوکر شاہی، شاہ کی غلامی

نوکر شاہی، شاہ کی غلامی
نوکر شاہی، شاہ کی غلامی

  

بیوروکریسی یا بابو کریسی کا اُردو ترجمہ نوکر شاہی ہے۔ حالانکہ بیورو کریسی کا لفظی مطلب دفتری حکمرانی ہے یعنی صاحبِ اقتدار کی طرف سے قاعدے اور قانون کے مطابق اختیاراور احکامات کے بجا لانے کو نوکر شاہی کہتے ہیں۔ نوکر شاہی کی اصطلاح ہندوستان کے ترک حکمرانوں کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے۔ مغل بادشاہوں نے نوکر شاہی کو باقاعدہ یہ نام دیا۔ اُس وقت حکومتی کا رندے کو منصب دار کہتے تھے۔ منصب دار وں کے چھوٹے بڑے رُتبے ہوتے تھے۔ اُن کو آج کے زمانے کی طرح مشاہرہ یعنی تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ منصب داروں کو جاگیریں عطا کی جاتی تھیں۔ جاگیر کا رقبہ منصب دار کی درجہ بندی پر ہوتا تھا۔ منصب دار کی وفات یا منصب سے علیحدگی کی بنا پر جاگیر واپس لے لی جاتی تھی، یعنی جاگیر موروثی نہیں ہو سکتی تھی۔موروثی جاگیر کا تصّور تو انگریزی راج میں انیسویں صدی میں شروع ہوا۔ انگریزی راج کے آنے سے پہلے چونکہ بادشاہت ہوتی تھی اس لئے بادشاہ یا نواب کا حکم ہی قانون ہوتا تھا اور اُس حکم کے مطابق حکومتی کارندے اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ چونکہ اُن حکومتی کارندوں کے پاس کسی قسم کا خصو صی قاعدہ اور قانون نہیں تھا کہ جس کے تحت وہ اپنے اختیارکو استعمال کرتے اس لئے ان کا رندوں کو شاہ کے نوکر یا نوکر شاہی کا خطاب مِلا۔

باقاعدہ منظم اور تنخواہ دار حکومتی کارندوں کا تصّور انگریزی راج کے آنے پر ملتا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے ہی نوکر شاہی کا تصّور دفتری حکمرانی (Bureaucracy) کی شکل میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا تھا، لیکن ملکہ برطانیہ کی سلطنت میں ہندوستان کے شامل ہونے کے بعد سرکاری کارندوں کو ملکہ کی سر کار کے ملازم کہا جانے لگا۔ سر کاری ملازموں کی درجہ بندی کی گئی، اُن کے چھوٹے بڑے رُتبوں کو خصوصی نام دئیے گئے، چپڑاسی ، کلرک، ہیڈ کلرک ، ریڈر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور گورنر کے عہدے بنائے گئے۔ اسی طرح پولیس کی بھی درجہ بندی کی گئی۔ محکمہ مال گذاری میں درجہ بندی تو ضرور کی گئی لیکن محکمہ مال کے ملازمین کے رُتبوں کے خصوصی نام راجہ ٹوڈرمل کے زمانے کے ہی رہے جیسے پٹواری، گرداور، تحصیلدار وغیرہ۔ تحصیل دار سے اُوپر کا درجہ گورے صاحب کے پاس ہوتا تھا جو کلکٹر کہلاتا تھا۔ برصغیر کا وہ علاقہ جو پاکستان کہلاتا ہے یہاں ڈپٹی کمشنر اور کلکٹر کے فرائض ایک ہی ملازم انجام دیتا تھا لیکن بقیہ ہندوستان میں کلکٹر اور ڈپٹی کمشنر کا عہدہ الگ الگ ملازمین کے پاس ہوتا تھا۔ انگریزی راج میں سب سے اعلیٰ ملازمت کو Imperial civil service کہتے تھے جو باقاعدہ سخت مقابلے کے امتحان کے بعد ذہین گوروں کو دی جاتی تھی جو ہندوستان پر ملکہ برطانیہ کے مکمل اقتدار کے ذمے دار ہوتے تھے۔ ان گورے اعلیٰ ملازموں کی تعداد ہندوستان میں کبھی بھی 1000 سے زیادہ نہیں رہی۔ یوں سمجھ لیں کہ ہر 3 لاکھ ہندوستانیوں پر ایک گورا ICS ہوتا تھا کیونکہ اُس وقت پورے ہندوستان کی آبادی صرف 30 کروڑ تھی۔

پاکستان بنتے وقت مسلمان ICS کی تعداد صرف 43 تھی اور ہندو ICS تقریباً 153 سے اُوپر ہی تھے۔ مسلمان ICSکی نصف تعداد تو مقابلے کے امتحان پاس کر کے آئی تھی بقیہ تعداد انگریز حکمرانوں کی صوابدید پر چناؤ کے ذریعے لی جاتی تھی۔ مثلاً فوج کے کمشنڈ افسروں میں سے، انگریز کے وفادار وڈیروں، چوہدریوں اور سرداروں کے نوجوان لڑکے بشرطیکہ وہ تعلیمی معیار پر پورے اُترتے ہوں۔ جب پاکستان بنا تو اس کے حصے میں جو اعلیٰ افسران آئے وہ اکثر اُترپردیش، بنگال اور پنجاب سے تھے۔ اُن کا رہن سہن ، معیار ، طور طریقے انگریزوں والے ہی تھے فقط اُن کے چہرے کا رنگ دیسی تھا۔ چونکہ وہ انگریز کی حکمرانی کے عادی تھے، Rule of law یعنی قانون کی حکمرانی کو نہ صرف سمجھتے تھے بلکہ اُسے لاگو بھی کرتے تھے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود ، پاکستان 1958 ء تک اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا تھا۔ کرپشن کا کوئی خاص چلن نہیں تھا۔ البتہ اقربا پروری، سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ اور ریشہ دوانیاں زوروں پر تھیں۔ ہماری بیوروکریسی ابھی نوکر شاہی نہیں بنی تھی لیکن سیاست دانوں کے نفاق اور جتھے بندی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہمارے اعلیٰ سرکاری ملازم صاحبِ اختیار سے صاحبِ اقتدار بن گئے۔ ملک غلام محمد ،چوہدری محمد علی اور سکندر مرزا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

جب بیوروکریسی صاحبِ اقتدار بھی ہو گئی تو طالع آزما جرنیل بھی اقتدار میں حصہ لیتے لیتے خود بھی مکمل طور پر صاحبِ اقتدار ہو گئے یعنی مارشل لا آ گیا۔ جرنیلوں کو معلوم تھا کہ سفید کپڑوں والے \"دیسی صاحب \"لوگ اصل اقتدار کے حامل تھے۔ اس لئے انہوں نے سب سے پہلے پنجابی محاورے کی طرح ان دیسی صاحبوں کا گھونٹ بھرا۔ 1300 اعلیٰ افسروں کا بلیدان دیا گیا اور ہماری بیورو کریسی پھر ’’نوکر شاہی‘‘ میں تبدیل ہو گئی ۔ اب بادشاہ کے فرمان کی بجائے خاکی وردی والے کا فرمان لاگو ہوگیا۔ اگر ’’دیسی صاحب‘‘ نے چوُں چرا کی تو وہیں اُس کی گردن ناپ لی گئی۔ پہلے مارشل لا نے ہماری صاف ستھری لیکن اکڑی ہوئی گردن والی بیورو کریسی کی کمر توڑ دی تھی، رہی سہی کسر دوسرے مارشل لا نے توڑ دی اور اس دفعہ 300 افسر نکالے گئے۔ بیورو کریسی جوکافی حد تک نو کر شاہی بن چکی تھی ، پھر بھی کچھ شا ن و شوکت رکھتی تھی ۔ لیکن اس منہ زور گھوڑے کو مکمل طور پر پالتو خچر بنانے کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے جس نے اعلیٰ سرکاری افسروں کو جو آئینی تحفظ ملا ہوا تھا وہ بالکل ختم کر دیا۔ سول سروس ریفارمز 1973ء کے بعد ہمارے دیسی صاحب مکمل طور پر شاہ کے غلام بنا دئیے گئے۔ مارشل لا ؤں کے دور میں ہمارے ان ’’صاحبوں‘‘ کی پھر بھی عزت اور احترام تھا لیکن جب یہ ’’صاحب‘‘ لوگ سیاستدانوں کے ہتّھے چڑھے تو کھیل ہی دوسرا ہو گیا۔ہمارے اکثر سیاستدان کم پڑھے لکھے گھامڑ تھے جو زیادہ تردیہاتی پس منظر سے آئے۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سیا ست کاری مہنگا سودا ہوگیا تھا۔سیاست میں اب زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ حکومتی ذرائع سے روپیہ کمانے کے طریقے سیاستدانوں کو بالکل نہیں آتے تھے۔ وہ تو اپنے ڈیروں ، حجروں اور اوطاقوں سے نکل کر پارلیمنٹ میں آن بیٹھے تھے۔ ووٹر اُن کے اپنے گھر کے ہوتے تھے۔ اقتدار تو ان وڈیروں، سرداروں اور چودھریوں کو مل گیا تھا لیکن اختیار استعمال کرنے کے حربے نہیں آتے تھے۔ یہاں نوکر شاہی کام آئی۔ نوکر شاہی جو سیاستدانوں سے پوری طرح سے ’’تعاون‘‘کرنے کے لئے تیار تھی، اپنے چمسکار دِکھانے لگی۔ نوکر شاہی کے گھاگ نمائندوں نے سیاستدانوں کو ’’اختیارات‘‘میں حصہ دار بنا لیا۔پھر تو خزانوں کے منہ کھل گئے لیکن مال پانی کا زیادہ حصہ نوکر شاہی لیتی تھی اور سیاست دان تھوڑے پر ہی راضی ہو جاتے تھے۔ بھٹو نے سول سروس ریفارمز کے ذریعے ہماری اعلیٰ سروس کے کیڈر کی ریڑھ مار دی اور اُس کے ساتھ اُس نے بینکوں اور صنعتوں کو قومیانے کے بعد اُن اداروں پر ٹوٹی ہوئی کمر والے اعلیٰ سرکاری افسر بیٹھا دیئے۔ اِن افسروں نے خوب لوٹ مچائی۔ جب ملازمت عدم تحفظ کا شکار ہو جائے اور ایک چھوٹی سی سیاسی شکائت پر ’’ صاحب‘‘ کو اعلیٰ سے ادنیٰ بنا دیا جائے تو پھر کارکردگی کا نام ختم ہو جاتا ہے اور خوشامد کا کام شروع ہو جاتا ہے۔

گر م و سردچشیدہ ارکان نوکر شاہی نے حالات سے سمجھوتا کر لیا لیکن کوئی نوجوان سر پھرا ا علیٰ سرکاری ملازم اڈے نہیں چڑھتا تھا تو اُسے OSD بنا کر دُور دراز تعیناتی کر کے یا کم تر پوسٹنگ دے کر دوسروں کے لئے نشان عبرت بنا دیا جاتا تھا۔ جنرل ضیاء کے دور سے ہی سیاست میں شہری لوگ بھی آنا شروع ہو گئے۔ ان میں سے اکثر تاجر اور صنعت کار تھے۔ وہ دفتری رُموز کو سمجھتے تھے۔ نوکر شاہی سے نہ صرف بہتر کام لے سکتے تھے بلکہ اپنی دولت کی چمک دمک اور چرب زبانی سے نوکر شاہی کو اپنے ڈھب پر چلانا بھی جانتے تھے۔ تاجر اور صنعت کار سیاست دان کو تو اپنے منافع سے غرض تھی۔ جب سیاست، کاروبار اور نوکر شاہی کا گٹھ جوڑ ہوا تو بڑے بڑے گُل کھِلنے لگے۔جنرل ضیاء کے زمانے میں ہی مولوی بھی سیاست میں آ گئے۔ چالاک نوکر شاہی نے مولویوں کو بھی مال پانی بنانے کی راہ دکھا دی۔ چالاک سیاست دانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ماتحت نالائق اور جونئیر افسروں کو تعینات کروائیں تاکہ وہ افسر اپنی مراعات کو قائم رکھنے کے لئے اُن ہوشیار سیاستدانوں کی غلطیاں نہ پکڑ سکیں بلکہ سیاستدانوں کو خوش رکھنے کے لئے اُن کی نہ صرف خوشامدکریں بلکہ اُن کا ہر قسم کا حکم بجا لائیں۔ مکمل نوکر شاہی کا نمونہ بن جائیں ۔ پاکستان میں اس وقت نوکر شاہی عروج پر ہے۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ تاجر، مولوی ،فوجی جرنیل اور سیاستدانوں کا نوکر شاہی سے ایسا میلاپ ہوا کہ آج ہم اپنے پاکستان میں اِنتشار اور بد انتظامیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

مزید : کالم