جمہوریت اور طویل سیاسی بحران

جمہوریت اور طویل سیاسی بحران
جمہوریت اور طویل سیاسی بحران

  

پھر وہی صورت حال درپیش ہے، پھر وہی سوال سامنے کھڑا ہے۔ مرغی پہلے آئی تھی یا انڈہ؟ اس کا دو ٹوک جواب کل ملا تھا، نہ آج ملے گا۔ یہ دنیا تک اس سوال کو حل کئے بغیر چل رہی ہے تو آپ مذاکرات کو بھی آگے بڑھائیں اور پہلے یا بعد کی ضد چھوڑ دیں۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں، اشارہ کس طرف ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات شروع کرنے پر عمومی اتفاق کے باوجود بات اس نکتے پر اڑ گئی ہے کہ پہلے تحریک انصاف اپنا پلان سی ختم کرے اور دوسری طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پہلے جوڈیشل کمشن بنایا جائے، تب یہ پلان ختم ہو گا اس بحث میں پڑے رہے تو ساری عمر دونوں میں مذاکرات شروع نہیں ہو سکیں گے۔ اگر معاملات نے پہلے ہی طے ہو جانا ہے، تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا ہے۔ مذاکرات تو کئے ہی اس لئے جاتے ہیں کہ متنازعہ مسائل کا حل نکالا جائے۔

نیتوں کا تو پتہ نہیں،لیکن بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ اگر دونوں فریق مذاکرات شروع کرنے پر راضی ہیں تو پھر دودھ میں مینگنیاں کیوں ڈال رہے ہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کیوں نہیں جاتے، جو کچھ نکلے گا وہیں نکلے گا اور اختلافات بھی ہوئے، تو وہیں سامنے آئیں گے۔ شاید ختم بھی ہو جائیں، مگر اس طرح سے یہ بیل کیسے منڈھے چڑھ سکتی ہے کہ آپ سفر کا آغاز ہی نہ کریں اور منزل کے صحیح یا غلط ہونے کی دہائی دیتے رہیں اس میں کیا حرج ہے کہ پاکستان تحریک انصاف آج مذاکرات شروع ہونے پر پلان سی ملتوی کر دے اور اس میں بھی کوئی حرج نہیں، اگر حکومت تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاجی شیڈول کے باوجود مذاکرات کا آغاز کر دے۔ اس قسم کی بے معنی کھینچا تانی سے تو لگتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو زیر دام لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مقصد صرف وقت حاصل کرنا ہے۔اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ جب دو متحارب فریقوں میں مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں تو حالات میں کشیدگی خودبخود کم ہو جاتی ہے۔ مذاکرات کا آغاز ہو تو احتجاج میں بھی کمی آ جائے گی اور حکومت کا پلڑا بھی بھاری ہو جائے گا، لیکن فی الوقت تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے مذاکرات ایک ثانوی چیز ہیں، دیگر معاملات اہم ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کچھ بھی نہ دینا پڑے اور تحریک انصاف احتجاج اور دھرنا چھوڑ کر واپس چلی جائے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا موڈ کچھ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک سے ہر قیمت پر حکومت کو گھر بھیجنا چاہتی ہے، تاکہ نئے انتخابات منعقد ہو سکیں۔ یہ دونوں خواہشیں ہی قبل از وقت لگتی ہیں، انہیں جب چند حقائق کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے، تو پھر سب سے پہلے ان حقائق کا کھوج لگانے کی کوشش کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔ حیرت زدہ کر دینے والی بات تو یہی ہے کہ بنیادی ایشو پر دونوں کا اتفاق ہو چکا ہے، دونوں اس نکتے پر متفق ہیں کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی، مگر اس کے لئے جو کمشن بنایا جانا ہے اُس پر دونوں میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔

مَیں جب دونوں کے اس اختلاف پر غور کرتا ہوں تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں۔ یہ دونوں فریق شاید اس کمشن کو کاٹھ کا اُلو سمجھے بیٹھے ہیں، جس نے خود کچھ نہیں کرنا، بلکہ جو کچھ کہا جائے گا کر گزرے گا۔ اس وقت اختلافی نکتہ یہ ہے کہ کمشن کے نیچے جو تحقیقاتی ٹیم بنے اس میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوںیا نہ ہوں، حکومت کہتی ہے نہ ہوں، کیوں نہ ہوں، اس کا کوئی مسکت جواب حکومت کی طرف سے نہیں دیا گیا، صرف یہ کہہ دینا کہ فوج کو ملوث نہ کیا جائے۔ ایک جملہ معترضہ تو ہو سکتا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ جوڈیشل کمشن ان ایجنسیوں سے صرف تحقیقی و تکنیکی مدد لے گا، ڈکٹیشن نہیں، پھر اہم بات یہ بھی ہے کہ تحقیقاتی اداروں کے پاس یہ اختیار نہیں ہو گا کہ وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کر دیں، انہیں ریکارڈ اور موجود شواہد کے مطابق اپنی تحقیقات کرنی پڑے گی، اس لئے اگر کچھ ہوا ہی نہیں تو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ جوڈیشل کمشن سپریم کوٹ کے ججوں پر مشتمل ہو گا، جنہیں آسانی کے ساتھ کسی غیر معیاری یا تعصبانہ تحقیق سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر جوڈیشل کمشن کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ تحقیقاتی کمشن میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کو بھی شامل کر سکتا ہے، تو اس میں کیا حرج ہے۔ حکومت اس پر کیوں معترض ہے۔ اب اگر اس کا دوسری طرف سے جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف کی یہ ضد بھی خاصی غیر مناسب لگتی ہے کہ وہ ہر صورت تحقیقاتی ٹیم میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل کروانا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کا جوڈیشل کمشن ایک بہت بڑا اور اعلیٰ اختیاراتی کمشن ہو گا، وہ ہر ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکے گا اور اس کی تحقیقی ٹیموں اور دستیاب مواد پر بھی نظر ہو گی، اس لئے بادی النظر میں ایسا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ اس کمشن کو حقائق تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔ ہاں البتہ اس کمشن کی مدت پر تحریک انصاف کو زور دینا چاہئے تاکہ ایک خاص وقت میں حقائق سامنے آ سکیں۔

ابھی تو مذاکرات شروع نہیں ہوئے، جب ہوں گے تو ایک ایسا نکتہ بھی ہے، جس پر ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا امکان ہے۔ یہ تو سب کو یاد ہے کہ گزشتہ مذاکرات میں سب سے متنازعہ مطالبہ یہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔ اب اگرچہ یہ مطالبہ ختم ہو گیا ہے، مگر ایک اور رنگ سے اس کی موجودگی برقرار ہے۔ مثلاً عمران خان کا مطالبہ یہ ہے کہ اگر دھاندلی ثابت ہو جائے تو وزیراعظم مستعفی ہو جائیں، جس بات نے مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کرنا ہے۔ وہ یہی مطالبہ ہے۔اگر مذاکرات کے بعد معاہدے میں یہ شق شامل کی جاتی ہے تو جھگڑا اس بات پر ہو گا کہ جوڈیشل کمشن کس نوعیت کی دھاندلی کا انکشاف کرے کہ حکومت مستعفی ہو جائے۔ کیا کمشن کے پاس جو ریفرنس بھیجا جائے گا اس میں یہ نکتہ بھی ہو گا کہ فلاں نوعیت اور پیمانے کی دھاندلی پر حکومت کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ ظاہر ہے یہ بات اتنی سادہ اور آسان نہیں۔ جوڈیشنل کمشن کو حکومت برطرف کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، وہ تو صرف حقائق و شواہد کے مطابق اپنی رائے دے گا۔ اس رائے کو دونوں فریق اپنی اپنی عینک سے دیکھیں گے اور پھر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو جائے گا۔ شاید ایک یہ وجہ بھی ہے کہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہو پا رہا اور شروع ہو بھی گئے، تو بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ دونوں کسی ایک متفقہ معاہدے تک پہنچ سکیں۔ یوں ہر دو صورتوں میں ایک نہ ختم ہونے والا جھگڑا بالکل سامنے کی حقیقت نظر آ رہا ہے۔

اس صورت حال کا آئیڈیل حل تو یہ ہے کہ دونوں فریق ایک ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں۔ تحریک انصاف حکومت کی آئینی مدت کو چیلنج کرنے کی بجائے دھاندلی کی شفاف تحقیقات اور ثابت ہونے کی صورت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرے۔ اگر جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات میں دھاندلی ثابت ہو جاتی ہے، تو حکومت پر ویسے ہی ایک دباؤ پڑے گا اور شاید اسے وقت سے پہلے انتخابات کرانے پڑیں۔ تاہم اگر اسے بنیادی مطالبے کے طور پر مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے تو کسی معاہدے تک پہنچنے میں آسانی رہے گی، اسی طرح حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ تحقیقات کے لئے خفیہ ایجنسیوں کے شمولیت کے مطالبے پر زیادہ سخت موقف اختیار نہ کرے۔ اس کا سارا فوکس جوڈیشنل کمشن کو بااختیار اور مضبوط بنانے پر ہونا چاہئے۔ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ حکومت نے دھرنا سیاست پر قابو پا لیا ہے اور معاملات اس کے قابو میں ہیں، مگر ایسا ہے نہیں۔ پلان سی کے حوالے سے اب تک جو ردعمل سامنے آیا ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلنے جا رہی ہے۔ پہلے ہی گزشتہ چار ماہ سے حالات بے یقینی کا شکار ہیں اب اگر ان میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے، تو پھر کوئی انہونی بھی ہو سکتی ہے۔ کاش دونوں فریق اس بات کو سمجھیں اور معاملات کو ایک بار پھر پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانے کی بجائے بحران کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اتنی بھی مضبوط نہیں کہ اسے طویل بحرانوں کی نذر کرنے کا تماشا دیکھا جائے۔

مزید : کالم