افغان مہاجرین کی واپسی، جائز مطالبہ!

افغان مہاجرین کی واپسی، جائز مطالبہ!

وزیراعظم محمد نواز شریف نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ملاقات کے دوران مطالبہ کیا کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا پروگرام بنایا جائے۔ اس ملاقات میں افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی موجود تھے، وزیراعظم نے افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے بات کی کہ طویل عرصہ سے یہ حضرات پاکستان کے مہمان ہیں اور ان کی وجہ سے ملک پر معاشی بوجھ بھی ہے۔جہاں تک افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی کا تعلق ہے، تو ان کی آمد اس وقت ہوئی جب سوویت یونین کی فوجوں نے افغانستان میں داخل ہو کر اپنی پسند کی حکومت قائم کر دی اور وہاں پہلے خانہ جنگی ہوئی، پھر روس کو نکالنے کے لئے جہاد شروع ہوا۔ ابتدا میں جو حضرات آئے ان کی رجسٹریشن بھی کی گئی اور ان کے لئے خیبرپختونخوا میں کیمپ بھی قائم کئے گئے، جو اب بھی ہیں۔ یہ تعداد25لاکھ تھی اور ابتدا میں اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لئے پروگرام کے تحت ان کے لئے امداد بھی آئی جو بتدریج کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ ادھر ان مہاجرین کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہی۔ طالبان کے دور میں کچھ مہاجر واپس افغانستان گئے، لیکن نیٹو کی مداخلت کے بعد پھر سے واپس آ گئے، ان کا آنا جانا لگا رہا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اقوام متحدہ ہی کے پروگرام کے تحت ان کی واپسی ہوئی اور ان کو نقد امداد بھی دی گئی۔ یہ لوگ پاکستان سے تو واپس چلے گئے اور طویل سرحد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پھر واپس آ گئے اب تو ان مہاجر کیمپوں میں ان کی ایک نسل جوان ہو چکی ہوئی ہے۔

ایسے واقعات اور المیے جب بھی ہوں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان مہاجرین کی وجہ سے بھی پاکستان میں معاشی اور سماجی مسائل پیدا ہوئے۔ معاشی طور پر تو فلسفہ سیدھا ہے کہ ان کی مہمان نوازی اور موجودگی کی و جہ سے مالی بوجھ بڑھا جو برداشت کرنا پڑا، اس کے علاوہ سماجی طور پر بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں کہ یہ لوگ کیمپوں تک محدود نہ رہے اور ملک کے مختلف شہروں میں پھیل گئے، ان میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور کوئٹہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، جو افغان متمول تھے اور کچھ زاد راہ لے کر آئے تھے۔ انہوں نے تو یہاں کاروبار بھی کر لئے، حتیٰ کہ جائیدادیں بھی خریدیں اور پاکستانی شہریت کے لئے شناختی کارڈ بھی بنوا لئے۔ کئی افراد نہ صرف شناختی کارڈ، بلکہ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر کے پاکستانیوں کے طور پر بیرونی ممالک میں بھی چلے گئے تھے۔ یوں پاکستان کو ان کے کئے کے بدلے بدنامی بھی ملتی رہی۔ ان میں ایسے افراد بھی ہیں، جنہوں نے پاکستان میں سماجی برائیاں اپنائیں اور یوں معاشرتی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے رہے۔ حالات بدستور جوں کے توں ہیں، بلکہ اب تو پاکستان پر آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے آئی ڈی پی پیز کا بھی بوجھ بڑھ چکا ہوا ہے۔

ماضی بعید میں جھانکیں تو شمال(افغانستان) سے حملہ آور بھی برصغیر آتے رہے، جبکہ یہ دستور بھی رہا کہ کئی خاندان سردیوں میں کابل سے ہمارے شہروں کا رُخ کرتے اور یہاں محنت مزدوری یا کاروبار کر کے گرمیوں میں واپس لوٹ جاتے تھے، مگر اب یہ مہاجر مستقل طور پر بس گئے اور واپس نہیں جانا چاہتے، جبکہ پاکستان کی شدید ضرورت یہ ہے کہ یہ حضرات لوٹ کر اپنے آبائی گھروں کو آباد کریں۔ اس لحاظ سے وزیراعظم پاکستان نے بالکل درست مطالبہ کیا کہ اب عالمی برادری کے بقول افغانستان میں امن ہے۔ ماضی میں واپسی کی تاریخیں بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ اب اقوام عالم کو پاکستان کے ان مسائل کا ادراک کرتے ہوئے تمام مہاجرین کی واپسی کا اہتمام کرنا چاہئے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

مزید : اداریہ