ٹیکسٹائل پالیسی میں مراعاتی سکیمیں متعارف کرائی جائیں: سہیل پاشا

ٹیکسٹائل پالیسی میں مراعاتی سکیمیں متعارف کرائی جائیں: سہیل پاشا

فیصل آباد (بیورورپورٹ) پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے نئی پانچ سالہ ٹیکسٹائل پالیسی کے اعلان اور اس پر جلد عملدرآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ نئی ٹیکسٹائل پالیسی میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی اور برآمدات کی ترقی کیلئے اصلاحی اقدامات اور مراعاتی سکیمیں متعارف کرو اکر جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکسٹائل برآمدات کو اگلے پانچ سال میں 26 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتاہے۔ یہاں میڈیاسے بات چیت کے دوران انہوں نے کہاکہ اگلے پانچ سال کیلئے ٹیکسٹائل پالیسی ترقی پسندانہ اور حقیقت کے قریب ہو تاکہ جی ایس پی پلس کی صورت میں ملنے والی رعایت سے بھرپور فائدہ اٹھا کر نہ صرف ٹیکسٹائل برآمدات کو بڑھایا جا سکے بلکہ صنعتی و پیداواری عمل کو بھی تقویت ملے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پالیسی کی روشنی میں فنڈز کی کمی کے باعث ٹیکسٹائل انویسٹمنٹ سپورٹ فنڈ، لوکل ٹیکسز ڈرا بیک،آر اینڈ ڈی ری فنڈ کلیمز کی ادائیگی سمیت دیگر کئی سکیمیں بے نتیجہ رہیںحتیٰ کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے اربوں روپے اس وقت بھی لوکل ٹیکسز ڈرا بیک ری فنڈ کی مد میں واجب الادا ہیں،اسی طرح زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر حقیقی برآمدی اہداف مقرر کئے گئے جو ناقابل حصول رہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی پانچ سالہ ٹیکسٹائل پالیسی میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی اور لوڈ شیڈنگ سے مکمل استثنیٰ دیا گیا۔

 مگراس پر عملدرآمد نہ ہوسکا اور ٹیکسٹائل کی صنعت کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا رہاجس کے باعث بے شمارصنعتی ادارے یاتو بند ہو گئے جبکہ باقی ماندہ بھی انتہائی کم استعداد پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل پالیسی میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرنے اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے دعوے بھی کئے گئے مگر نتائج اسکے برعکس نکلے ۔انہوں نے کہا کہ اگلی پانچ سالہ ٹیکسٹائل پالیسی میں سکیموں کے اعلان کی بجائے ان پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور صنعت دوست پالیسیاں متعارف کروائی جائیں تاکہ انکے مثبت نتائج برآمد ہو سکیں۔

(fd/tar/zri 1525 :14)

مزید : کامرس