سندھ کے رائس مل مالکان نے چاول کی فروخت بند کر دی

سندھ کے رائس مل مالکان نے چاول کی فروخت بند کر دی

حیدرآباد (آن لائن)سندھ کے رائس مل مالکان نے برآمد کنندگان کی جانب سے نرخوں میں مسلسل کمی کے باعث چاول کی فروخت بند کر دی ہے۔ ایکسپورٹرز کی جانب سے چاول کی قیمت میں کمی کے باعث دھان کے نرخوں میں بھی مزید کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔چاول اور دھان کی قیمتوں میں مسلسل کمی پر رائس ملرز اور سندھ کے ہزاروں کاشت کار سراپا احتجاج بن گئے ہیں جبکہ رائس ملز کی جانب سے تین روز تک ملیں بند رکھنے اور دھان نہ خریدنے کے باعث کاشت کاروں کی تھریش کردہ لاکھوں من دھان کھیتوں میں ضائع ہو گئی۔سندھ میں حکومت کی عدم توجہ اور متعلقہ حکام کی نا اہلی کے باعث گنے کے بعد اب دھان اور چاول کی خریداری کا تنازع پیدا ہو گیا ہے جس سے سندھ کے ہزاروں کاشت کار براہ راست متاثر ہو رہے ہیں بر آمد کنندگان نے سندھ میں بڑے پیمانے پر دھان مارکیٹ میں آنے کے بعد چاول کی قیمتمیں فی بوری 100روپے مزید کم کر دیے ہیں جس کی وجہ سے دھان کی قیمتوں میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سندھ میں اس وقت 750روپے سے لے کر 800روپے فی من کے حساب سے دھان کی خریداری کیجاری ہے،مگر بر آمد کنندگان نے اچانک کسی جواز کے بغیر چاول کے نرخ مزید گرا دیے ہیں جس کی وجہ سے اب رائس ملرز کاشت کاروں سے دھان بھی کم قیمت پر خریدیں گے اور دھان کے نرخوں میں بھی 100روپے فی من کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رائس ملرز کاشت کاروں سے دھان خرید کر اس سے چاول تیار کر کے بر آمد کنندگان اور ملکی مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں مگر بر آمد کنندگان کی جانب سے چاول کے نرخوں میں مصنوعی کمی کا سلسلہ جاری ہے جس پر رائس ملرز نے احتجاجی طور پر تین روز تک اپنی ملیں بندکردی ہیں۔ رائس ملیں بند ہو نے کے باعث اندرون سندھ دھان کی خریداری بھی بند رہی جس کی وجہ سے کاشت کاروں کا لاکھوںمن دھان کھیتوں میں ہی خراب ہو گئی۔ رائس ملرز ایسوسی ایشن نے دھان اور چاول کے نرخوں میں کمی کی ذمہ داری بر آمد کنندگان پر عائد کی ہے اور کہا ہے کہ بر آمد کنندگان ہی اس بحران کے ذمے دار ہیں،ادھر کاشت کار تنظیموں نے بھی گنے کے بعد اب دھان اور چاول کے نرخوں میں کمی کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ، ایوان زراعت سندھ، سندھ آبادگار بورڈ لاڑ آبادگار فورم، سندھ آبادگار تنظیم، اسمال گروئرز ایسوسی ایشن اور دیگر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ زراعت پیشہ طبقے کے ساتھ ہو نے والی نا انصافیوں کا نوٹس لینے کے بجائے کاشت کاروں کا خون چوسنے والی مافیاکا ساتھ دے رہی ہے جس سے صوبے کے ہزاروں کاشت کار اور ان کے خاندان متاثر ہو رہے ہیں اور زراعت پیشہ طبقہ معاشی بد حالی کا شکار ہو رہا ہے ،انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور شریک چیئر مین سے اپیل کی ہے کہ سندھ میں کاشت کاروں کے ساتھ ہو نے والی ان نا انصافیوں کا نوٹس لیں۔ #/s#

مزید : کامرس