اقتصادی شعبوں کیلئے ٹیکسوں کی چھوٹ یا رعایت ختم کرنے کا سلسلہ شروع

اقتصادی شعبوں کیلئے ٹیکسوں کی چھوٹ یا رعایت ختم کرنے کا سلسلہ شروع

                  اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوششوں کے ساتھ ٹیکسوں کی چھوٹ یا رعایت رکھنے والے مختلف اقتصادی شعبوں کو دستیاب رعا یتیں ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جنرل سیلز ٹیکس کا سرکاری ریٹ17فیصد ہے تاہم حکومت نے14مختلف صنعتوں کو رعایتوں کی فراہمی کیلئے جنرل سیلز ٹیکس کے رعایتی نرخ متعارف کروا رکھے ہیں پارلیمنٹ کو ارسال کردی گئیں۔جن شعبوں کو جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ میں کمی کی سہولت دی گئی ہے ان میں ٹریکٹر کی صنعت کیلئے 10فیصد ،اسٹیل کی صنعت کیلئے جنرل سیلز ٹیکس کا ریٹ استعمال شدہ بجلی کے یونٹ کی بنیاد پر 7روپے فی یونٹ رکھا گیا ہے،اسٹیل کی صنعت کو خام مال کی فراہمی کیلئے شپ بریکنگ انڈسٹری کو جی ایس ٹی میں جو رعایت دی گئی ہے، اس کے مطابق یہ صنعت 6700روپے فی میٹرک ٹن جی ایس ٹی ادا کر رہی ہے ملک کے پانچ برآمدی شعبوں جن میں ٹیکسٹائل، لیدر پراڈکٹس، کارپٹس، اسپورٹس گڈزاور سرجیکل آلات شامل ہیں، خام مال کی درآمد پر جی ایس ٹی کی شرح2فیصد رکھی گئی ہے فیبرکس کی صنعت کیلئے خام مال پر 3فیصد شرح ہو گی،ان کے علاوہ دیگر شعبے بھی شامل ہیں۔ایف بی آر کے مطابق حکومت تین سال کے اندر ملک میں ٹیکس گزاروں کی تعداد میں 3لاکھ نئے ٹیکس گزاروں کا اضافے کی خواہاں ہے۔ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوششوں کے ساتھ حکومت نے ٹیکسوں کی چھوٹ یا رعایت رکھنے والے مختلف معاشی سیکٹرز کو دستیاب یہ رعا یتیں ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ٹیکس ادا نہ کرنے والے معاشی شعبوں کی کاروباری لاگت میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے کاروبارکی بقا کیلئے ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل ہوں، ملک کے مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس استثنیٰ مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے اور پہلی قسط کے طور پر رواں مالی سال کے بجٹ میں کچھ ٹیکس استثنیٰ سے متعلق ایس آر اوز ختم کر دیے گئے ہیں۔#/s#

مزید : کامرس