وزارت خزانہ کی ٹیکسٹائل پالیسی 2014.19 میں تجویز کردہ مراعات اقدامات کی مخالفت

وزارت خزانہ کی ٹیکسٹائل پالیسی 2014.19 میں تجویز کردہ مراعات اقدامات کی مخالفت ...

                    اسلام آباد ( آن لائن)وزارت خزانہ نے وزارت ٹیکسٹائل کی طرف سے ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19میں تجویز کردہ مراعات اور اقدامات کی مخالفت کر دی ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ نے وزارت ٹیکسٹائل کی طرف سے تجویز کردہ اقدامات اور مراعات کیلئے درکار 80ارب روپے دینے سے انکار کردیا ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اکثرتجاویز بلاجواز ہیں۔ واضح رہے کہ وزارت ٹیکسٹائل کا نئی پالیسی میں ٹیکسٹائل برآمدات کو دگنا کرکے 13ارب ڈالر سے 26ارب ڈالر کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ ویلیو ایڈیشن کی برا?مدات کو بھی بڑھا کر ایک ارب ڈالر سے 2ارب ڈالرکرنے کامنصوبہ بنا یا ہے۔ اس کے علاوہ نئی پالیسی میں مشینری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا بھی شامل ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14میں شروع کیے گئے مختلف اقدامات کی تقابلی جائزے کے بغیر نئی پالیسی کے مجوزہ اقدامات کی منظوری نہیں دی جاسکتی۔ اس کے علاوہ وزارت کی طرف سے ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کیلئے طویل المدت فنانسنگ سہولت کے تحت مانگے گئے 14ارب روپے بہت زیادہ رقم ہے اور اتنی بڑی کا رقم کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم کے تحت رکھے گئے 13ارب روپے کی بھی مخالفت کی گئی ہے جبکہ ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کیلئے رکھے گئے 8ارب روپے بھی اس اسکیم کیلئے زیادہ بتا ئے گئے ہیں اور سیکٹر میں اس کی اتنی سرمایہ کاری کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے علاوہ نئی پالیسی میں وزارت کی طرف سے تجویز کردہ برانڈ ڈیو لپمنٹ فنڈ کی تحت 2ارب روپے پبلک پالیسی کے زمرے میں نہیں آتے۔ وزارت کی طرف سے تجویز کردہ ڈیوٹی ڈرابیک ، سیلز ٹیکس اور ٹیرف میں کمی کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جو وزارت خزانہ کی بجائے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)اور وزارت تجارت سے متعلق ہیں۔ واضح رہے کہ ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14میں وفاقی حکومت نے 188ارب روپے مختص کیے تھے۔

 اور وزارت خزانہ نے صرف 26ارب روپے جاری کیے تھے۔ ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14میں اتنی کم رقم جاری ہونے کے باوجود ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 9.6ارب ڈالر سے بڑھ کر 13.7ارب ڈالر رہی ہیں۔#/s#

مزید : کامرس