مذاکرات کی کامیابی؟

مذاکرات کی کامیابی؟
مذاکرات کی کامیابی؟

  

پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) (یا حکومت) کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے دونوں جماعتوں کے رہنما کیمرے کی آنکھ سے چھپ کر ایک دوسرے سے معاملات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب نتیجہ نکل آئے گا تو سب کو بتا دیا جائے گا، یعنی چاند چڑھے کل عالم دیکھے۔۔۔ اگر کوئی اس ’’خفیہ ڈپلومیسی‘‘ کی تائید نہ کرے تو بھی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے دور ہونے، اور ایک دوسرے کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھنے کے باوجود، ایک دوسرے سے معاملہ کرنے کی اہمیت سے انکار نہیں کر پا رہیں۔ عمران خان کا ’’پلان سی‘‘ اگر مختلف شہروں کو جام نہ کر سکے تو بھی ہنگامہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شہری آبادیوں میں ایسے نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اپنے کپتان کے حکم پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں منظم کارکن صرف جماعت اسلامی کے پاس ہوا کرتے تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان ’’ایوبی آمریت‘‘ کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی دھن میں تھے تو بار بار ان کی نظر جماعت کے کارکنوں پر جا ٹھہرتی تھی، وہ انہیں للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے اور اس نعمت سے محروم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر جماعت اسلامی کی اہمیت واضح کرنے میں لگے رہتے۔ اس وقت جلسوں میں دریاں بچھانے یا کرسیاں لگانے تک کے لئے سیاسی کارکنوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ یہ کام معاوضے پر کرنے والی کمپنیاں اس وقت اس طرح نہیں پائی جاتی تھیں جس طرح آج دیکھنے میں آتی ہیں۔ ایوب خان کے خلاف جدوجہد میں جماعت اسلامی کے کارکن، دوسری سیاسی جماعتوں کے خوب کام آئے۔ اب ان کا جوش و خروش کچھ ماند پڑ چکا ہے لیکن کئی دوسری جماعتیں اپنی تنظیمی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کر چکی ہیں۔ ان میں ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کا مقام اپنا ہے اور جماعت الدعوۃ کا اپنا۔ طاہر القادری صاحب نے یکے بعد دیگرے دو دھرنے دے کر اپنی جماعت کی تنظیمی صلاحیتوں کا جو نقش جما دیا ہے، اس کا اعتراف ان کے مخالفین کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ جماعت الدعوۃ کا دائرہ طاہر القادری سے کہیں وسیع ہے۔ اس میں ’’اقتداری سیاست‘‘ کے جراثیم بھی فی الحال پیدا نہیں ہوئے لیکن اس کی تنظیم سب کا لوہا کاٹ رہی ہے۔ میدانوں سے لے کر پہاڑوں تک اس کے کارکن جنوں کی طرح کام کرتے اور رکاوٹوں کو عبور کرتے چلے جاتے ہیں۔ لاہور میں ابھی ابھی ختم ہونے والے اس کے تین روزہ اجتماع میں لاکھوں افراد کی شرکت نے اس کی تنظیمی حیثیت کو کچھ اور نمایاں کر دیا ہے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان اور ان کے رفقاء جماعت اسلامی کی تنظیم سے استفادہ کرتے ہوئے پارلیمانی سیاست کی بحالی میں لگے رہے، لیکن پیپلز پارٹی نے میدان میں آ کر نئے سیاسی کارکنوں کا جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ اس کے جیالے شہرتِ خاص کے مالک تھے اور زمین کو ہلاتے چلے جاتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے بعد، مسلم لیگ (ن) ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جس نے اپنے ماضی کو زندہ کر دکھایا۔ اس نے قومی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور باہمت کارکنوں کی نئی کھیپ سامنے آئی۔ میاں نواز شریف کی ایک آواز پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ سکتے تھے اور فضا کو دہلا سکتے تھے۔

کئی برسوں کی محنت شاقہ کے بعد عمران خان اور ان کی تحریک انصاف نے کارکنوں کے نئے جتھے پیدا کر لئے ہیں۔ اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو انہوں نے یوں مسمرائز کیا ہے کہ وہ کسی کو خاطر میں لانے پر تیار نہیں ہیں، کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کی دلیل کا جواب دیتے ہیں، اپنی ہانکتے چلے جاتے اور اپنے سوا ہر شخص کو کرپٹ اور منافق قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ عمران خان کے یہ ’’فوجی دستے‘‘ ہر جگہ موجود ہیں اور ہنگامہ اٹھانے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ انہی کی بدولت وہ کسی بھی شہر میں چند روز کے نوٹس پر ہزاروں (اور لاکھوں) افراد کو اکٹھا کر لیتے ہیں اور انہی کے بل بوتے پر وہ ایک سو پندرہ، سولہ یا سترہ دن سے کنٹینر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دور دور سے آتے، دھرنے میں حاضری لگاتے اور نئے آنے والوں کے لئے جگہ خالی کر جاتے ہیں۔

یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ مسلم لیگ (ن) کا حلقہ اثر باقی نہیں رہا، وہ بھی اپنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دوسری جماعتوں کے اپنے حلقہ ہائے اثر ہیں اور انتخاب کے میدان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ خوب اچھی طرح کرکے دکھا سکتے ہیں لیکن جو جماعت اقتدار میں ہو، اس کی مشکل یہ ہوتی ہے کہ جلسے کا مقابلہ جلسے سے اور ہنگامے کا مقابلہ ہنگامے سے کرنا اس کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اپنی ترجیحات اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور اپنے حریفوں کے سجائے ہوئے اکھاڑے میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ جگہ ایسی ہے کہ یہاں پہنچنا تو آسان ہے لیکن یہاں سے بخیر و خوبی برآمد ہونا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت (یا حکومتی پارٹی) توجہ ہنگامے کو غیر موثر بنانے پر لگائے رکھتی ہے، اس کا مقابلہ حکمت اور صبر سے کرتی ہے، للکار اور پکار سے نہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف جب 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے تحریک کا آغاز کیا تو پیپلز پارٹی کے کارکن سمٹ کر رہ گئے۔ کئی ا یک نے قوت کا مظاہرہ کرنے کی ٹھانی بھی تو قیادت نے اسے روک دیا۔ تصادم کا خطرہ مول لینے کی تاب اسے نہیں تھی۔ نتیجہ یہ کہ پاکستان قومی اتحاد کے نعرے گونجتے چلے گئے اور یہ تاثر عام ہو گیا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ جب مارشل لاء نے بھٹو مرحوم کو اقتدار کے ایوان سے نکال باہر کیا تو ملک بھر میں حلوے کی دیگیں چڑھائی گئیں، مٹھائیاں بانٹی گئیں، کوئی نعرہ احتجاج کہیں سے بلند نہ ہوا لیکن چند ہی ہفتے بعد جب بھٹو صاحب اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کو مارشل لاء حکام نے اپنی ’’حفاظتی تحویل‘‘ سے آزاد کیا تو ان کے حامیوں کا احساسِ زیاں بیدار ہو چکا تھا۔ لاہور میں استقبالی ہجوم ایسا تھا کہ اسے دیکھ کر مخالف پیلے پڑ گئے۔ اس احیاء نے ملکی سیاست پر جو اثرات مرتب کئے ان کا جائزہ تفصیل کا متقاضی ہے۔ اس حقیقت کا انکار بہرحال نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو اقتدار کے خاتمے نے ان کے مخالفوں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ ان کا جوش و خروش پیپلز پارٹی کی اٹھتی آندھی کے سامنے ماند پڑ گیا تھا۔

تحریک انصاف ہر چند کہ 1977ء کے پاکستان قومی اتحاد کی سی طاقت (اور استدلال) نہیں رکھتی، لیکن اس کی جارحانہ حکمت عملی نے اچھی خاصی جگہ کو گھیر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی طاقت اپنے آپ کو سنبھالے ہوئے ہے کہ آگے بڑھ کر وار کرنا اس کے مفاد میں نہیں۔ اس کی حکمت عملی دفاعی ہے۔ یہی اس کی حیثیت کا تقاضا ہے ۔۔۔ جو مذاکرات شروع ہیں۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ وہ نتیجہ خیز ہوں۔۔۔ سپریم کورٹ کا کمیشن قائم ہو، تحریک انصاف کو منظم دھاندلی ثابت کرنے کا موقع ملے۔۔۔کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں حالات آگے بڑھیں (یا پیچھے ہٹیں) اگر اس راستے کو شوقِ ہنگامہ آرائی کی نذر کر دیا گیا تو پھر(زیادہ سے زیادہ) جو کچھ ہو گا، اس کی تفصیل میں جانے کی نہیں، اس سے پناہ مانگنے کی ضرورت ہے۔

(یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اور روزنامہ ’’ دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم