این اے 122میں مبینہ دھاندلی ،عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں اپنا بیان قلمبند کروا دیا

این اے 122میں مبینہ دھاندلی ،عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں اپنا بیان قلمبند ...

               لاہور(نامہ نگار)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 انتخابی دھاندلی کیس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان گزشتہ روزالیکشن ٹربیونل کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرانے کے لئے پیش ہوئے ۔عمران خان آدھا گھنٹہ تاخیرسے پہنچے ،الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم ملک نے عمران خان سے کہاکہ حلف اٹھائیں،جس پرعمران خان نے کہا، جوکچھ کہوں گا سچ کہوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں اگرجھوٹ بولوں توخدا مجھ سے ناراض ہو،بعدازاں عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد جمع کروائے گئے بیان حلفی پردستخظ کیے اوراپنابیان قلمبند کرواتے ہوئے بتایاکہ این اے 122میں بڑے پیمانے پردھاندلی ہوئی، متعدد پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تبدیل کیے گئے ،جبکہ پولنگ ایجنٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں ،سردارایازصادق کے وکیل بیرسٹراسجد نے عمران خان کے بیان پرجرح کرتے ہوئے سوال کیاکہ جب پولنگ ایجنٹس کو دھمکیاں دی گئیں تو متعلقہ پولیس کو کیوں آگاہ نہیں کیاگیا اوردھاندلی کی شکایت ریٹرننگ آفیسرکو کیوں درج نہیں کروائی ،عمران خان نے کہاکہ بیگز کھولیں سب ثبوت مل جائیں گئے ،سردارایازصاق کے وکیل بیرسٹراسجد نے کہاکہ عمران خان نے این اے 122میں دھاندلی سے متعلق ایک ثبوت بھی پیش نہیں کیا عدالتیں محض الزامات پر فیصلہ نہیں کرتیں ،فاضل جج نے عمران خان کا بیان قلمبند کرنے کے بعد این اے 122کے ووٹ ناداراسے تصدیق کروانے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا ۔الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم علی ملک نے انتخابی عذر داری کیس میں عمران خان کو شہادت قلمبند کرانے کے لئے طلب کر رکھا تھا،اس انتخابی عذر داری میں عمران خان کی جانب سے 8گواہان پہلے ہی اپنا بیان قلمبند کرا چکے ہیں،عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 کے انتخابی نتائج کو الیکشن ٹربیونل لاہور میں چیلنج کر رکھا ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق انتخابی دھاندلی کے ذریعے انتخابات جیتے انہیں نااہل قرار دیا جائے،عمران خان کی آمد کے موقع پر الیکشن ٹربیونل میں داخلے کے لئے خصوصی پاسز کے زریعے داخلے کی اجازت دی گئی ہو گی جبکہ صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ۔

مزید : صفحہ اول