عمران ہر محاذ پر پسپا ہو چکے، عدالت میں بھی جھوٹ پکڑا گیا ،پرویز رشید

عمران ہر محاذ پر پسپا ہو چکے، عدالت میں بھی جھوٹ پکڑا گیا ،پرویز رشید ...

                           اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان ہر محاذ پر پسپا ہوچکے ہیں ، عدالت میں بالآخر ان کا جھوٹ پکڑا گیا ، حکومت نے نہیں ، تحریک انصاف نے مذاکرات ختم کیے تھے ، انہی کو اب مذاکرات کےلئے ماحول ساز گار بنانا ہوگا ، عمران خان اب یوتھ کے پیچھے چھپا چھوڑ دیں ، ان سے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ پاکستان بھی دھرنے کی وجہ سے بنا ، جس پارلیمنٹ کو جعلی قرار دیتے ہیں اسی سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لیتے رہے ، کپتان جب پیسے کےلئے قومی ٹیم پر کیری پیکر کو ترجیح دے رہے تھے تو اس وقت سیاسی کارکن شاہی قلعے کی صعوبتیں اور پیٹھ پر کوڑے کھارہے تھے‘ معاشرے کو قربانیوں سے آزادی مل چکی تو انہیں انقلاب اور آزادی کا نعرہ یاد آیا ‘ قومی اسمبلی میں 9فیصد کی نمائندگی کرنے والوں کی سینٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ، ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز تاجروں اور سول سوسائٹی کی انہیں کوئی حمایت نہیں ، ڈی چوک والوں کا نہ تو جمہوریت نہ ہی آزادی کیلئے کوئی کردار ہے ، حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل چاہتی ہے۔ وہ ہفتہ کو نیشنل پریس کلب میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صحافی برادری کو لائف سیکیورٹی‘ جاب سیکیورٹی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے پوری قوم دوچار ہے۔ اس ملک میں صحافیوں کیساتھ ساتھ سیاسی راہنمائ‘ تاجر‘ صنعتکار‘ بینکرز‘ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز قتل اور اغواءہوئے۔ ملک میں دہشت گردی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ صحافیوں سمیت پوری قوم کو اس وقت تحفظ ملے گا جب دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوگا۔ پہلی بار ریاست نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی سلامتی کے ادارے فاٹا‘ کے پی کے‘ کراچی اور بلوچستان میں جانوں کی قربانیاں دے کر جنگ لڑ رہے ہیں تو فکری محاذ پر صحافی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دونوں محاذوں پر یکجہتی سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ یہ متحدہ محاذ بنے گا تب ہی کامیابی ملے گی۔ صحافت کے قبلے کی فکری سمت بھی دوبارہ حاصل کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں چوک ہیں جن میں ایک ڈی چوک بھی ہے۔ لاکھوں چوکوں میں ٹریفک معمول کے مطابق ہے مگر پوری دنیا کو ٹی وی سکرینیں چوبیس گھنٹے ڈی چوک دکھارہی ہیں۔ باہر کی دنیا کو نہیں لگتا کہ یہ لاکھوں چوک اور اٹھارہ کروڑ آبادی والا پاکستان ہے بلکہ چند درجن افراد اور ڈی چوک ہے۔ پاکستان کی مسخ شدہ تصویر ڈی چوک سے دنیا کو دکھائی جاتی ہے۔ قومی اسمبلی میں 9 فیصد نمائندگی رکھنے والے ڈی چوک میں ہیں جن کیساتھ کوئی بار کونسل‘ سول سوسائٹی اور طالبعلم نہیں ہیں۔ ٹی وی سکرینیں 91 فیصد کو نہیں دکھارہیں بلکہ 9 فیصد کو دکھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان مسلسل اس پارلیمنٹ کو جعلی قرار دے رہے ہیں جبکہ وہ اسی سے بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے رہے ، وزیر اطلاعات نے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے بارے میں کہا کہ حکومت نے مذاکرات ختم نہیں کیے تھے پی ٹی آئی مذاکرات کی میز سے اٹھ کر گئی تھی ، عمران خان اب اپنی مذاکراتی ٹیم کو دوبارہ بات کرنے کی اجازت دیں ۔ تحریک انصاف کو مزاکرات کےلئے ماحول ساز گار بنانا ہوگا اور اس کےلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے احتجاج پروگرام کو ختم کرنے کا اعلان کریں ۔ پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان ہر محاذ پر پسپا ہوچکے ہیں ، انہیں ملک کے اندر نا تو تاجروں نہ ہی وکلاءنہ ہی سول سوسائیٹی اور نہ ہی کسی اور طبقے کی حمایت حاصل ہے آخر وہ کب تک یوتھ کے پیچھے چھپیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جماعت کو قومی اسمبلی میں بھی صرف 9 فیصد نمائندگی حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں تو ان کے پاس کوئی نمائندگی ہی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جس طرح ہر بات کا کریڈٹ خود لینا شروع کردیتے ہیں اسے دیکھتے ہوئے تو یہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ دیں کہ پاکستان بھی دھرنے کی وجہ سے بنا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر وقت انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت ملنے کے دعوے کرتے تھے ، اب جب وہ ٹربیونل میں پیش ہوئے تو ان کے پاس اپنے ہی حلقے میں کسی دھاندلی کا کوئی ثبو ت نہیں تھا اور یہ موقف اختیار کیا کہ میرے تو سر پر چوٹ لگی تھی مجھے کچھ یاد نہیں جرح کے دوران ان کا سارا جھوٹ پکڑا گیا ۔ عدالت کے بعد جب وہ میڈیا کے سامنے آئے اور ان سے ثبو ت پیش کرنے کے بارے میں سوال ہوئے تو اس کا کوئی جوا ب نہیں تھا اور بات ختم کرکے فوراً وہاں سے چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں سنجیدہ رویہ اختیا رکرکے اپنا دھرنا اور احتجاج ختم کرنا چاہیے اور بہتر یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آکر اپنا کردار ادا کریں ۔

مزید : صفحہ اول