میجر شبیر شریف شہید کا یو م شہادت منایا گیا

میجر شبیر شریف شہید کا یو م شہادت منایا گیا

لا ہور (کرا ئم سیل )نشان حیدر پانے اوربھارتی فوج کے سامنے چٹان بنے رہنے والے پاک فوج کے میجر شبیر شریف شہید کا گز شتہ روز 44 واں یوم شہادت منایا گےا تھا ۔لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں جنرل آفیسر کمانڈنگ فداحسین اورمیجر جنرل سجاد علی نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے میجر شبیر شریف شہید کی قبر پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔میجر شبیر شریف شہید 28 اپریل 1943 کو گجرات کے قصبے کنجاہ میں پیدا ہوئے تھے۔میجر شبیر شریف شہید قوم کا وہ سپوت جس نے اکیلے ہی دشمن کے 43 سپاہی اور چار ٹینک تباہ کرنے کے ساتھ پندرہ دن تک بھارتی فوج کو سبونا نہر پر روکے رکھا ، جام شہادت نوش کیا اور اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر کے حق دار ٹھہرے۔وطن کی مٹی گواہ ہے کہ چھ دسمبر کا دن پوری قوم کے لئے باعث ِفخر ہے ، ایک اور بہادر سپوت 28 سالہ کڑیل جوان ملک پر قربان ہو گیا۔ میجر شبیر شریف وہ فوجی جس نے 1971 میں بہادری کی وہ داستان رقم کی کہ دشمن پر لرزہ طاری کر دیا۔ 43 دشمن فوجی اور چار ٹینک تباہ کرنے کے بعد ہیڈ سلیمانی سے چھ کلومیٹر دور بھارت کی جانب سبونا نہر کے بند پر کھڑے اس شیر نے اپنے جوانوں کو کچھ اس طرح لڑایا کہ دشمن پندرہ دن تک ایک انچ بھی ٓآگے نہ بڑھ سکا۔ شہید کے ساتھی بھی ان کی بہادری کے قائل ہیں۔ میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر واحد فوجی افسر تھے جن کو ستارہ جرات اور نشان حیدر ملا جبکہ دوران تربیت انہیں اعزازی شمشیر بھی دی گئی۔ ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جس کے پاس دو نشان حیدر ہیں۔ ان کے ماموں میجر عزیز بھٹی شہید بھی نشان حیدر کے حق دار ٹھہرے۔ میجر شبیر شریف شہیدکے چھوٹے بھائی اس وقت چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ہیں ، شہید کے ساتھی ان کو زندہ دل فوجی افسر اور بہت خوش دل انسان مانتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول