ایازصادق کیخلاف انتخابی عذرداری میں کوئی عینی شاہد پیش نہیں ہوا

ایازصادق کیخلاف انتخابی عذرداری میں کوئی عینی شاہد پیش نہیں ہوا
ایازصادق کیخلاف انتخابی عذرداری میں کوئی عینی شاہد پیش نہیں ہوا

  

تجزیہ:سعید چودھری  

                        پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حلقہ این اے 122سے منتخب ہونے والے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری میں گزشتہ روز اپنا بیان قلمبند کروادیاجس پر ایا ز صادق کے وکیل خواجہ سعید الظفر نے اپنی جرح مکمل کرلی ۔ الیکشن ٹربیونل جسٹس (ر) کاظم علی ملک نے عمران خان کی اس متفرق درخواست کا فیصلہ 8دسمبر کو سنانے کا عندیہ دیا ہے جس میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی استدعا کی گئی ہے ۔اس انتخابی عذرداری کی کارروائی کئی حوالوں سے انتہائی دلچسپی کی حامل ہے ۔فاضل ٹربیونل نے ابھی تک ایاز صادق کے اعتراضات کا فیصلہ نہیں سنایا جن کے مطابق عمران خان کی انتخابی عذرداری قابل سماعت ہی نہیں ہے ۔کیا مدعا علیہ کے اعتراضات کا فیصلہ کئے بغیر متفرق درخواست پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا جاسکتا ہے ؟ کیا عینی شاہدوں کی عدم موجودگی میں دھاندلی کے الزامات کو تسلیم کرکے انتخابات کالعدم کئے جاسکتے ہیں ؟ اور یہ کہ کیا سنی سنائی باتوں کو شہادت تسلیم کیا جاسکتا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے ذریعے سامنے آئے گا ۔اس کیس کی کارروائی مکمل طور پر میڈیا نے رپورٹ نہیں کی ہے ۔عمران خان نے صرف 6گواہ پیش کئے ہیں جبکہ 36گواہوں کی شہادتیں ترک کردی ہیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے اپنی انتخابی عذرداری میں جن پولنگ سٹیشنز پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے ہیں ان میں سے کسی ایک سٹیشن کا بھی پولنگ ایجنٹ بطور گواہ پیش نہیں کیا جن 6افراد کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا ان کا تعلق دیگر پولنگ سٹیشنز سے تھا ۔اسی طرح عمران خان نے عدالت میں تسلیم کیا کہ انہوںنے خودکوئی دھاندلی ہوتے نہیں دیکھی کیوں کہ وہ اس وقت کنٹینر سے گر کر زخمی ہونے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج تھے ،ان کے بقول انہیں دھاندلی کی اطلاع ان کے چیف پولنگ ایجنٹ شعیب صدیقی نے دی ۔یہ بات خالی از دلچسپی نہیں کہ عمران خان نے اپنے چیف پولنگ ایجنٹ کی شہادت بھی عدالت میں نہیں کروائی ۔اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شعیب صدیقی خود حلقہ پی پی 147سے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے اور قانونی طور پر وہ کسی دوسرے امیدوار کے پولنگ ایجنٹ نہیں بن سکتے تھے ۔علاوہ ازیں عمران خان یہ بھی نہیں بتا سکے کہ ان کی طرف سے عدالت میں پیش کیا گیا بیان حلقی کس اوتھ کمشنر نے تصدیق کیا تھا اور یہ کہ اس اوتھ کمشنر کی شکل و صورت کیسی ہے ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے ہسپتال میں ان سے بیان حلفی پر دستخط کروائے تھے انہیں اس شخص کے بارے میں کچھ یاد نہیں ۔یہ قانون کا بنیادی تقاضہ ہے کہ انتخابی عذرداری کے ساتھ لگائے گئے بیان حلفی لازمی طور پر قانون کے مطابق تصدیق شدہ ہونے چاہئیں۔قانون شہادت کے شروع میں ہی اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کی سنی سنائی باتوں کو شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔یہ ممکن ہے کہ عمران خان پر یہ اصول لاگو نہ ہو کیوں کہ امیدوار ہر جگہ خود موجود نہیں ہوسکتا انہیں پولنگ کی رپورٹیں ایجنٹوں کے ذریعے ملتی ہیں تاہم دھاندلی کے ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے ضروری تھا کہ جن لوگوں نے عینی شاہد کے طور پر عمران خان کو دھاندلی کی اطلاع دی تھی انہیں بطور گواہ ٹربیونل میں پیش کیا جاتا ۔عمران خان انتخابی عذرداری میں لگائے گئے الزامات کے مطابق ابھی تک ایک بھی عینی شاہد پیش نہیں کرسکے جبکہ وہ خود ہی دیگر گواہوں کی شہادتیں ترک کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں اب ان کی طرف سے کوئی نیاگواہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا ۔اب کیس کے دوسرے پہلو کی طرف آتے ہیں،اعتراضات کا فیصلہ کئے بغیر فاضل ٹربیونل ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی متفرق درخواست کا فیصلہ کرنے جارہے ہیں ۔سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ مخالف فریق کے اعتراضات اور عدالتی دائرہ اختیار کا فیصلہ کئے بغیر دیگر معاملات پر حکم جاری نہیںکیا جاسکتا ،پہلے اعتراضات کا فیصلہ کرنا ضروری ہے ،اس سلسلے میںایس سی ایم آر(سپریم کورٹ منتھلی رویو) 2014کا صفحہ 1015حوالے کے لئے ملاحظہ فرمایا جاسکتا ہے ۔اس صورت حال کے پیش نظر عمران خان کی انتخابی عذرداری کی قانونی حیثیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔جب کوئی سائل اپنے موقف کے حق میں کوئی عینی شاہد ہی پیش نہ کرسکے تو پھر وہ مقدمہ جیتنے کی امید کیوں کر رکھ سکتا ہے تاہم الیکشن ٹربیونل جسٹس(ر) کاظم علی ملک کئی عذرداریوں میں اپنا نقطہ نظر دے چکے ہیں کہ اعتراضات کا فیصلہ انتخابی عذرداری کے حتمی فیصلے کے ساتھ بھی سنایا جاسکتا ہے ۔وہ متعدد کیسوںمیں اعتراضات کے باوجود دوبارہ گنتی کے عبوری احکامات بھی جاری کرتے رہے ہیں لہٰذاٹربیونل کے اس نقطہ نظر کی بناءپر اس بات کاامکان بھی موجود ہے کہ 8دسمبر کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق عمران خان کی متفرق درخواست منظور ہوجائے ۔

مزید : تجزیہ