آس بندھتی اور پھر توڑ دی جاتی ہے، مذاکرات مشکوک؟

آس بندھتی اور پھر توڑ دی جاتی ہے، مذاکرات مشکوک؟
آس بندھتی اور پھر توڑ دی جاتی ہے، مذاکرات مشکوک؟

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

ارادے باندھتا ہوں، توڑ دیتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔قارئین یہ جو دھرنے اور مذاکرات کے حوالے سے خبریں آتی اور نشر ہو جاتی ہیں ان کے پس منظر میں پھر کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ایک لمحہ میں آس بندھتی ہے تو دوسرے ہی مرحلے میں یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے۔ گزشتہ روز تک سب خیریت تھی اور مذاکرات کا فیصلہ ہوا اور صرف تاریخ کا تعین ہونا تھا۔ ہم نے گزارش کی تھی کہ بیان بازی نہ کی جائے لیکن کوئی نہیں سنتا، چنانچہ ایک بار پھر ان بیانات کی وجہ سے معاملہ بگڑتا نظر آ رہا ہے، اگرچہ زیادہ شواہد یہی ہیں کہ بات چیت آج یا کل میں شروع ہو جائے گی، لیکن یہ جو گولہ باری دو روز میں ہوئی اس نے وسوسے پیدا کر دیئے ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تو اب خود اپنے حامی حضرات کی نظروں میں بیان بدل چیئرمین بن گئے ہیں کہ ایک لمحہ میں وہ بہت ہی مثبت بات کہتے اور پھر اس سے مکر جاتے ہیں، یہ شاید اس پس پردہ قوت کا کمال ہے جو آرام سے بہانہ کرکے کراچی میں تشریف فرما ہے اور یہاں لہریں چلا رہی ہے، ابھی ایک ہی روز قبل عمران خان نے کہا تحریک انصاف مذاکرات کے لئے ہر وقت تیار اور دستیاب ہے، ادھر سے اسحاق ڈار نے بتایا کہ چیف الیکشن کمیشن کی تقرری کا فیصلہ ہونے کے فوراً بعد مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ یہ طے ہونے کے بعد یہی تصور کیا جاتا ہے کہ جو بھی ایک دوسرے کے دل اور ذہن میں ہو وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر سامنے آئے گا اور آمنے سامنے ہونے کی وجہ سے تبادلہ خیال ہوگا اور ایک دوسرے کے تحفظات دور کئے جائیں گے لیکن یہ کیا کہ عمران خان نے کہا جوڈیشل کمیشن (ان کی مرضی کے مطابق) بننے اور اس کے کام شروع کرنے تک پلان سی جاری رہے گا اور وہ پہلے مرحلے میں 8دسمبر (پیر) کو فیصل آباد ضرور جائیں گے۔ دوسری طرف سے اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران خان اپنا احتجاج ملتوی کریں تو اتوار ہی کو مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں، اس پر اکتفا نہ کیا گیا اور کہا گیا کہ انتخابی دھاندلیوں کے لئے جو ڈیشل کمیشن قائم ہونے پر حکومت کو اعتراض نہیں اور حکومت تیار ہے، لیکن اس میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے بطور رکن شامل نہیں کئے جا سکتے کہ یہ عدلیہ کے کام میں مداخلت ہوگی۔

اس بیان بازی کی وجہ سے پھر فضا خراب ہوئی اور عمران خان کی طرف سے بھی کہا گیا کہ 18دسمبر کو وہ پلان ڈی شروع کر دیں گے اور اسی روز بتائیں گے کہ یہ کیا ہوگا یہ سب باتیں عام لوگوں کے سامنے کرنے والی نہیں ہیں، آمنے سامنے بیٹھ کر کریں تو وضاحت بھی ممکن اور اتفاق رائے بھی ہو سکتا ہے، لیکن پبلک میں سب کچھ کیا جائے تو حالات خراب ہی ہوتے ہیں یہ درست نہیں ہو پائیں گے۔ ہمارا اب بھی یقین ہے کہ مذاکرات انہی دنوں میں شروع ہو جائیں گے اور فریقین اس ادارے اور نیت سے بیٹھیں گے تو مسائل بھی حل ہوتے چلے جائیں گے۔

یہاں حال ہی میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی سرگرمیوں کا ذکر بے جا نہ ہوگا وہ علالت کی اطلاع دے کر اپنے خلاف چلنے والے کسی بھی مقدمہ میں پیش تو نہیں ہوتے۔ لیکن گھر پر مزے میں ہیں اب انہوں نے ملاقاتیں شروع کر رکھی ہیں اور ارشادات سے بھی نوازتے رہتے ہیں، وہ بھی کہتے ہیں نئے الیکشن کرائے جائیں، اب تو انہوں نے بلاوجہ قومی سلامتی کونسل کے نام سے فوج کے کردار کا ذکر کر دیا، اب وہ ہر روز بولنے لگے ہیں ایسے میں عمران خان اور چودھری برادران کو ان سے اظہار لاتعلقی کرنا چاہیے اور جمہوریت کے لئے کھلے دل سے موقف اپنانا چاہیے۔ ان تمام امور کی درستگی کے لئے نیت، ارادہ اور قومی سوچ کی ضرورت ہے۔فریقین کو اس کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید : تجزیہ