فائر ریسکیورز نے آتشزدگی کے 60 ہزارواقعیات میں 170 ارب کا متوقع نقصان بچایا

فائر ریسکیورز نے آتشزدگی کے 60 ہزارواقعیات میں 170 ارب کا متوقع نقصان بچایا

 لا ہور (کرا ئم سیل )ڈائریکٹرجنرل پنجاب ایمرجنسی سروس(ریسکیو1122) ڈاکٹر رضوان نصیرنے کہا ہے کہ فائرریسکیورز اور ڈرٹ ریسکیورز نے پنجاب بھرمیں60ہزار سے زائد آتشزدگی کے واقعات پر بروقت اور پیشہ وارنہ فائر فائٹنگ کرتے ہوئے 170ارب روپے سے زائد کا متوقع نقصان بچایاجس پرانہیں مبارکباد باد پیش کرتاہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز فائر ریسکیورز اور ڈرٹ ریسکیورکے ایڈوانس کورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تربیتی کورس کے شرکاء کو فائر اور دیگرپیجیدہ ایمرجنسیز سے نبردآزماہونے کی مہارتوں اور فائرسیفٹی کوڈز کی تربیت دی گئی۔ خاص طورپران ایمرجنسیز جو فائر سیفٹی کوڈز پرعملد رآمدنہ کرنے کی وجہ سے وقو ع پذیرہوتی ہیں جن سے قیمتی انسانی جانوں کاضیاع ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امرکی ہے کہ فائرسیفٹی اور لائف سیفٹی کوڈز پر سختی سے عملدرآمد کیاجائے تاکہ بلدیہ ٹاؤن کراچی اور ایل ڈی اے پلازہ جیسی آتشزدگی سے بچاجاسکے۔ مزید برآں انہوں نے تمام ضلعی ایمرجنسی افسران پرزور دیاکہ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی سے تربیت یافتہ ان فائر ریسکیورز کو فیلڈ میں رسک منیجمنٹ کرائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی ایمرجنسی افسران کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں باقاعدہ فائرریسکیو ڈرل کرائیں اور سکول ،کالجز، بلند و بالاعمارتوں اور صنعتوں میں سروے کویقینی بنائیں اور عوام اور کمیونٹی ممبرز کی تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ وہ ریسکیو سروس کے شانہ بشانہ کام کرسکیں۔پاس آؤٹ ہونیوالے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹررضوان نصیر نے کہا کہ ایسے ریفریشرکورسز سروس کے معیارکوبہتربنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کورس کے شرکاء پرزور دیاکہ وہ واپس جاکراپنے اپنے علاقہ جات میں محفوظ کلچرکے فروغ میں تبدیلی کامظہربنیں اور محفوظ معاشروں کے قیام کیلئے اپناکلیدی کرداراداکریں۔ چیف انسٹرکٹر فائر ابرارحسن نے کہا کہ پاس آؤٹ ہونے والے ریسکیورز کو ریسکیو اور فائر کی نئی مہارتوں سے آگاہ کیا گیاہے ۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی ایمرجنسی سروسز کے ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران ریسکیو اور فائر کی نئی تکنیس کو زیرِ بحث لایاگیااور اس ریفریشرکورس میں شامل کیاگیاہے۔

مزید : علاقائی