گورنر ،وزیراعلی پنجاب میں اختلاف 5وائس چانسلرز کا تقرر لٹک گیا

گورنر ،وزیراعلی پنجاب میں اختلاف 5وائس چانسلرز کا تقرر لٹک گیا
گورنر ،وزیراعلی پنجاب میں اختلاف 5وائس چانسلرز کا تقرر لٹک گیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)گونرپنجاب نے 5سرکاری جامعات کے وائس چانسلر پر تحفظات کااظہار کر دیا ،وزیراعلی کی منظوری کے باوجود ایک ہفتہ بعد بھی وائس چانسلر ز کاتقرر نہ ہو سکا ۔تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کی 5سرکاری جامعات مں مستقبل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا معاملہ ایک ہفتے سے تعطل کا شکار ہے ۔جس کی وجہ سے جامعات کے تعلیمی وانتظامی امور چلانے میں دشواری کاسامنا ہے ۔وزیر اعلی نے سرچ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ 28نومبر کو حتمی انٹرویو زکیے جس کے بعد وزیراعلی سیکریٹ سے سمری گونر پنجاب کو ارسال کی گئی ۔فائینل کیے گئے پانچ وائس چانسلر ز میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے لیے پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد ،یو ای ٹی ٹیکسلا کے لیے پروفیسرڈاکٹر نیاز احمد ،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے لیے پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم شامل ہیں ۔گونر پنجاب نے سرچ کمیٹی پر عدم اطمینان ،تحفظات اورقانونی پیچیدگیوں کے باعث ایک ہفتے بعد بھی واجس چانسلرز کی تعیناتی کی سمری پر دستخط نہیں کیے۔ذرائع کے مطابق وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے قائم کردہ شرائط کو ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر سرور نے چیلنج کر رکھاہے جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ وائس چانسلر کی تعیناتی ک لیے چانسلر سے مشاورت اور امیدوار کی عمرپیسنٹھ سال سے کم ہو ۔ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب چانسلر کی حیثیت سے وائس چانسلرز کی تقرری کی سمری پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں ۔دوسری جانب حکومت پنجاب نے گورنر کی مںظور کے بغیر ہی تقرریاں کرنے ک لیے ایڈ ووکیٹ جنرل کو ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔محکمہ ہائر ایجوکیشن نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اپیل کی ہے کہ جسٹس قادر عزیز شیخ ک عدالتی احکامات پر کیس کی سماعت دوبارہ سے شروع کی جائے تاکہ 5جامعات میں وائس چانسلرز کی مستقل تعیناتی فوری طور پر ہو سکے ۔وائس چانسلرز کی مستقل تعیناتیاں نہ ہونے کی وجہ سے استاتذہ اور طلباءمیں بھی غیر یقینی کی صورتحال پیداہو گئی ہے ۔

مزید : لاہور