امریکی معاشرے کے حیرت انگیز تضادات

امریکی معاشرے کے حیرت انگیز تضادات
 امریکی معاشرے کے حیرت انگیز تضادات

  

امریکی معاشرہ عجب تضادات کا شاہکار ہے۔ کالوراڈو میں اسقاطِ حمل کے ہسپتال پر حملے کے بعد دوسرا حملہ سان برناڈینو میں ہوا جس میں14افراد ہلاک ہو گئے۔ ہر چند روز بعد کسی سکول، کسی پُرہجوم جگہ پر کوئی امریکی گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور ہر ایسے واقعے کے بعد آتشیں اسلحہ پر پابندی کے حامی زور شور سے ’’گن کنٹرول‘‘ کی حمایت میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔آتشیں اسلحہ تک آسان رسائی ایسی وارداتوں کی محض ایک وجہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ کوئی بنیادی وجہ نہیں ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر وہ شخص جسے آتشیں اسلحہ تک رسائی ہو گی وہ ضرور کبھی نہ کبھی کسی مجمع یا کسی ہسپتال میں گھس کر لوگوں کو مار ڈالے گا۔ایسی وارداتوں کے پس پردہ دیگر کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں، لیکن ترقی یافتہ اور ورلڈ لیڈر ہونے کا دعویدار امریکہ اس پر کوئی غور نہیں کرتا، کیونکہ اس طرح اس کے معاشرے کے تضادات سامنے آتے ہیں۔۔۔رنگ، نسل،اسقاطِ حمل اور موسمی تغیرات پر ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن میں بُعد المشرقین ہے۔ انتخابات کے موقع پر ان اختلافات کو خوب ہوا دی جاتی ہے اور نام نہاد ورلڈ لیڈر کے سیاست دان اپنے اندرونی اختلافات کو کم کرنے کی کوئی سبیل کرنے کی بجائے ساری دُنیا کو بھاشن دینا ضروری سمجھتے ہیں۔

امریکی سیاہ فام اپنے اندر ایک دوسرے کو پیار سے ’’نگر‘‘ ’’Nigger‘‘ کہہ کے بلانے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے، لیکن کوئی دوسرا انہیں اس نام سے پکارے تو مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں۔گوروں کی برتری کے زیادہ تر دعویدار بھی ری پبلکن کے حامی ہیں۔کسی گورے پولیس والے کے ہاتھوں کسی کالے کے قتل پر سیاہ فاموں کی تنظیمیں اور ڈیمو کریٹس تو شور مچاتے ہیں، اکثر ری پبلکن الُٹا گورے پولیس والے کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر بوجوہ علی الاعلان ایسا نہ کر سکیں تو خاموشی کو نیم رضا نہیں، بلکہ کُلی رضا کی شکل دے دیتے ہیں۔ایک سال قبل شکاگو میں ایک جواں سال لڑکے کو ایک گورے پولیس والے نے 16گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ہم اکثر امریکیوں اور یورپین کے سچ بولنے کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے،لیکن ایک صدر سے لے کر عام امریکی اور یورپی تک جس قدر جھوٹ اور خطرناک جھوٹ بولتے ہیں، شاید اس کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہے۔

اس گورے قاتل پولیس والے نے صریح جھوٹ بول کر کہا نوجوان نے مجھ پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا اور مَیں نے اپنی حفاظت میں اُسے ہلاک کر دیا۔اگرچہ یہ جھوٹ ایسا تھا کہ کوئی تھوڑی سی سوجھ بوجھ والا بھی اس پر یقین نہیں کر سکتا تھا۔ایک چاقو سے حملہ کرنے والے نوجوان لونڈے سے جان بچانے کی خاطر ایک تربیت یافتہ کڑیل پولیس والے کو 16 گولیاں چلانا پڑیں۔ ایسی بہادر پولیس کس ملک کی ہو سکتی ہے۔محکمے نے اس بیان کو کافی سمجھا اور پولیس والا سزا سے بچ گیا۔ محکمہ جانتا تھا کہ ایسے مواقع پر پولیس کی گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگے ہوئے کیمرے میں ساری واردات محفوظ ہو جاتی ہے، لیکن کسی نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، بلکہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر دبا دیا گیا۔ پورے ایک سال بعد کسی پولیس والے نے ہی قاتل پولیس والے سے کوئی حساب برابر کرنے کے لئے یا اُس کے دعوے کے مطابق ضمیر کی خلش کی وجہ سے ڈیش بورڈ کیمرے کی ویڈیو افشا کر دی۔ کوئی حساب برابر کرنے کا خیال زیادہ درست ہو سکتا ہے، ورنہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ امریکی پولیس کے ضمیر کی خلش بھی بے حد سست رفتار ہے۔

اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ے کہ لڑکا بیچ سڑک میں ہے اور پولیس کی گاڑی کی مخالف سمت میں دور جا رہا ہے،جبکہ پولیس والا اُس پر دو گولیاں چلاتا ہے۔ لڑکا چکرا کر زمین پر گر جاتا ہے، اس کے بعد اُس پر مزید14گولیاں چلائی جاتی ہیں اس ویڈیو کے سامنے آنے پر پولیس والے پر قتل کی فردِ جرم عائد کر دی جاتی ہے۔اب سیاہ نام تنظیمیں اس پر احتجاج کر رہی ہیں کہ ریاست کی اٹارنی(سٹیٹ اٹارنی) کا استعفا لے کر اُس کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئے، یہ کیونکر ممکن ہے کہ سٹیٹ اٹارنی اس ویڈیو سے بے خبر رہی ہے۔اب کچھ ری پبلکن جھوٹ سچ اس مطالبے کی حمایت کریں گے کہ انہیں سیاہ فاموں کے ووٹ لینے ہیں۔ری پبلکن کی صدارتی مہم کے کسی رُکن نے اپنے ٹویٹ میں ’’نگر‘‘ کا لفظ استعمال کیا اور اب کئی دن بعد معافی طلب کر لی ہے، کیونکہ صورتِ حال بہت بگڑ گئی تو ووٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔۔۔اسقاطِ حمل کا معاملہ ایک اور ایسا معاملہ ہے، جس پر دونوں جماعتوں میں اختلاف کی وسیع خلیج حائل ہے۔ ڈیمو کریٹس ہر حالت میں خواتین کو اسقاطِ حمل کا حق دینا چاہتے ہیں کہ وہ پیٹ میں موجود بچے کی زندگی کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔ اسقاطِ حمل کے لئے تمام تر سہولتیں بھی فراہم کرنے کے حامی ہیں۔ اس سلسلے میں وہ صرف اسقاط کی خواہش مند خاتون کے حق میں فیصلے کو اہمیت دیتے ہیں۔

جب جب اور جس ریاست میں یہ حق خواتین کو حاصل ہو جاتا ہے، وہاں اسقاط حمل کے کلینک خود رو کھمبیوں کی طرح نمودار ہو جاتے ہیں، جگہ جگہ ان کے اشتہارات لگے ہوتے ہیں اور یہ کلینک ایک طرح سے اسقاط کی ترغیب دیتے ہیں۔ دوسری طرف ری پبلکن کسی بھی صورت میں اسقاط حمل کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ’’حامیانِ حیات‘‘ کہلاتے ہیں۔ ان کے خیال میں جب بچے میں جان آ جائے تو اُس کے بعد اسقاط حمل ایک زندہ انسان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ری پبلکن اس سلسلے میں خاتون کی صحت اور آبرو ریزی کے نتیجے میں حمل کے اسقاط کو بھی قتل انسانی قرار دیتے ہیں ،بعض اوقات اس ضمن میں مضحکہ خیز حد تک چلے جاتے ہیں۔۔۔ مثلاً گزشتہ صدارتی انتخابات کے دوران ایک ری پبلکن صدارتی امیدوار نے ،جو میڈیکل ڈاکٹر بھی ہے، یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ آبرو ریزی کے نتیجے میں کوئی عورت حاملہ نہیں ہو سکتی، حمل صرف اسی صورت میں ٹھہر سکتا ہے کہ عورت کی مرضی شامل ہو۔ ایک اور ری پبلکن رہنما کا کہنا تھا کہ حمل خدا تعالیٰ کا تحفہ ہے، خواہ آبرو ریزی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو، عورت کو اسے احساسِ تشکر کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ ری پبلکن کے یہ خیالات اسی حد تک محدود نہیں ہیں،ا ن خیالات کے لوگ اسقاط حمل کے ہسپتالوں میں گھس کر اندھا دھند گولیاں چلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔۔کالوراڈومیں یہی ہوا۔اکثر اسقاطِ حمل کے ہسپتالوں کو نذر آش کر دیا جاتا ہے یا بم لگا کر اڑا دیا جاتا ہے ،وہاں کام کرنے والے کارکنوں کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے۔

موسمی تغیر یا کرۂ ارض کی حرارت میں اضافہ (گلوبل وارمنگ) بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے۔ری پبلکن اس کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ جیب بش نے حالیہ پیرس کانفرنس کے حوالے سے صدر اوباما کے اقدامات اور اعلانات کی مخالفت کی ہے اور کہاہے کہ کیا کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی کی شکل میں ہم اپنی ترقی میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ وہ اسے غیر حقیقی ڈھکوسلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کرۂ ارض پر حرارت میں بہت معمولی اضافہ ہو رہا ہے،جس کی وجہ انسانی عوامل نہیں ہیں، بلکہ یہ سورج کی حرارت میںآنے والے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے اور اس کے لئے فکر مندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صدارتی امیدواری کی دوڑ میں سب سے آگے اندھی دولت کے مالک ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ امریکہ کو دہشت گردی سے ہے، اس کے لئے داعش کو تباہ و برباد کر دینا چاہئے۔ اُن کا تازہ ارشاد ہے کہ ان دہشت گردوں کے اہل خانہ اور خاندان کو بھی نیست و نابود کر دینا چاہئے، کیونکہ یہ لوگ ان کی آڑ لیتے ہیں۔ ٹرمپ صدر اوباما پر تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ صدر کو معلوم ہی نہیں کہ اسے کیا کرنا چاہئے اور وہ کر کیا رہا ہے؟ ایک طرف امریکہ داعش کے خلاف ہے، جبکہ داعش بھی بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار ہے، لیکن امریکہ بشار الاسد کے باغیوں کی حمایت کرتا ہے، اور داعش اور دہشت گردوں سے صرفِ نظر کر کے موسمی تغیر اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے پر وقت اور پیسہ برباد کر رہا ہے۔

کالوراڈو میں جس کلینک پر حملہ کیا گیا، وہ خالصتاً اسقاطِ حمل کا نہیں، بلکہ خاندانی منصوبہ بندی کا تھا، لیکن ری پبلکن اسے بھی اسقاطِ حمل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ امریکی سینیٹ میں ری پبلکن کو اب اکثریت حاصل ہے ،اس کے باوجود کہ صدر اوباما نے کہہ دیا تھا کہ اگر سینیٹ نے اُن کے صحت بل کو مسترد کر دیا تو وہ ویٹو استعمال کریں گے۔ سینیٹ میں اس صحت بل میں بنیادی ترامیم کی جا رہی ہیں، جس سے اس کی افادیت بہت حد تک ختم ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے لئے بھی وفاقی فنڈز کی فراہمی کو روکا جا رہا ہے:پیرس میں ہونے والی گلوبل وارمنگ کانفرنس کے بعد امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد پاس کی ہے جس میں بعض سینیٹروں نے اسے ڈھکوسلہ قرار دیا ہے،بعض کا خیال ہے کہ موسمی تغیر واقع ہو رہا ہے، لیکن یہ قدرتی امر ہے، اس میں انسانی عمل اور کارخانوں وغیرہ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ صرف مس سپی کے ایک سینیٹر نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے۔ اگر سینیٹ تسلیم ہی نہیں کرے گی کہ انسانی عوامل موسمیاتی تغیر کا باعث ہیں اور اس سے کرۂ ارض کی حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے تو گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کے اقدامات اور امریکی صدر کے وعدے اور دعوے کیسے پورے ہوں گے اور ان اقدامات کی منظوری کیسے دی جا سکے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔

مزید : کالم