بلدیاتی عہدوں کے لئے نیلام گھر سجیں گے؟

بلدیاتی عہدوں کے لئے نیلام گھر سجیں گے؟
 بلدیاتی عہدوں کے لئے نیلام گھر سجیں گے؟

  

پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے جتنے امیدوار بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں، تقریباً اتنے ہی آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ میرے لئے تو یہ جہانِ حیرت ہے۔ مقبول سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آزاد امیدواروں کا کامیاب ہو جانا عوام کے اندر سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیئے جن کی شہرت عوام کی نظر میں اچھی نہیں تھی، اس لئے انہوں نے رد کر دیا۔ وجہ کچھ بھی ہو، آزاد امیدواروں کا اتنی بڑی تعداد میں کامیاب ہونا خطرے کی گھنٹی ہے، جو ہمارے جمہوری نظام کی جڑیں ہلا سکتی ہے۔ اس جملے پر شاید آپ چونکے ہوں کہ آزاد امیدواروں کی کامیابی خطرے کی گھنٹی کیسے ہو سکتی ہے اور اس سے جمہوری نظام کی جڑیں کیسے ہل سکتی ہیں، تو اس سوال کے جواب کا قدرے انتظار کیجئے، میئر اور ڈسٹرکٹ کونسلوں کے چیئرمینوں کے انتخاب کے وقت جو دھما چوکڑی مچے گی اور جگہ جگہ جس طرح ’’چھانگا مانگا‘‘سجیں گے، اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ ہم نے جمہوریت کو کس طرح کرپشن کا نیا خون دے کر مزید کرپٹ کر دیا ہے۔

آزاد امیدوار جتنی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں، کہیں بھی یہ ممکن نہیں کہ ان کی حمایت کے بغیر کوئی گروپ یا جماعت اپنا میئریا چیئرمین منتخب کرا سکے۔ اب ظاہر ہے بولیاں لگیں گی، ایک ایک ووٹ کی قیمت لاکھوں تک پہنچ جائے گی۔ اکا دکا آزاد امیدوار شاید کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں، مگر ان کا شامل ہونا بھی فی سبیل اللہ نہیں ہوگا۔ کوئی بھی اپنی جیتی ہوئی سیٹ کو مفت میں قربان نہیں کرتا۔ سو ہم ایک نئے زوال سے دو چار ہونے جا رہے ہیں۔کہنے کو ہم ہر بار جمہوریت کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے اور ہمارا ہر قدم پیچھے کی طرف اٹھتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ خود سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ڈسپلن کا شدید فقدان ہے۔ اس بار بھی جسے سیاسی جماعت نے ٹکٹ نہیں دیا، آزاد کھڑا ہو گیا۔ یہی صورتِ حال اب میئر اور چیئرمین کے انتخاب کے وقت دیکھنے کو ملے گی۔۔۔ مثلاً پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے اہم این ایز اور ایم پی ایز بٹے ہوئے تھے، کسی نے اپنی جماعت کی حمایت کی اور کسی نے آزاد امیدوار کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا۔ اب چیئرمین اور میئر بنانے کے لئے ہر ایک اپنے کسی عزیز کو سامنے لانا چاہتا ہے۔ جہاں جہاں آزاد امیدوار زیادہ کامیاب ہوئے ہیں، وہاں جوتیوں میں دال بٹنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔جب یہ ادارے بھی پیسے کے بل بوتے پر خریدے گئے ووٹوں سے بننے والے میئرز اور چیئرمینوں کے تسلط میں آئیں گے تو عوام کی کیا خدمت کریں گے؟ سارا زور تو پیسہ بنانے پر صرف ہوگا۔ پیسہ لگانے والے سب سے پہلے اس کی واپسی کا منصوبہ بناتے ہیں، جب یہ منصوبہ بن جاتا ہے تو پھر عوام کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا۔

یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ ہماری جمہوریت یا رائے عامہ زمینی حقائق کا عکس نظر آتی ہے؟ مثلاً اس سوال کو اس تناظر میں دیکھئے کہ حکومت نے حال ہی میں 40 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے، غریبوں پر مزید بوجھ پڑا، سروے اور رپورٹیں بھی سامنے آئیں کہ عوام کا بہت بڑا معاشی استحصال کیا گیا ہے، جس سے ان کی زندگی مزید اجیرن ہو گئی ہے۔مغربی جمہوریت کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہ عوام کے موڈ اور حالت کا گہرا اثر قبول کرتی ہے ،مثلاً اگر اس قسم کے ٹیکس انتخابات سے عین پہلے یورپ یا امریکہ میں لگائے گئے ہوتے تو رائے عامہ حکومت کے خلاف ووٹ دیتی، مگر ہمارے عوام حال مست اور مال مست کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ ہماری جمہوریت اسی لئے ثمر آور نہیں ہے کہ اس میں لوگ اپنے ووٹ کی اہمیت نہیں پہچانتے۔ وہ مختلف پریشرگروپوں، برادری ازم اور چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے اپنے ووٹ کو ضائع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ نسل در نسل منتخب ہوتے ہیں۔ ہماری جمہوری تاریخ اتنی شاندار نہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں ہمیں جمہوریت نے بہت کچھ دیا ہے۔ اصولاً تو ایک بار منتخب ہونے والے کو عوام دوسری بار ہمیشہ کے لئے رد کر دیں، کیونکہ اس کی کارکردگی ایسی نہیں ہوتی کہ وہ دوبارہ عوام کا مینڈیٹ حاصل کر سکے، مگر یہاں معاملہ ایک ہی ڈھب پر چلتا رہتا ہے۔ عوام جانتے بوجھتے ہوئے بھی مکھی پر مکھی مارتے ہیں اس لئے سیاسی جماعتیں بھی جانتی ہیں، اور ان کے مراعات یافتہ ارکان بھی کہ پاکستان میں عوام کو بے وقوف بنانا کوئی مشکل بات نہیں۔ سو وہ ہر بار چکنے چپڑے نعروں کے ساتھ میدان میں آتے ہیں اور عوام کو بے وقوف بنا دیتے ہیں۔

اگر ہم سیاسی وحدت کی بات کریں تو وہ ہمارے ہاں ہر نئے دن کے ساتھ پارہ پارہ ہوتی نظر آتی ہے، حالانکہ ایک فیڈریشن کی حیثیت سے ہمیں سیاسی وحدت کی اشد ضرورت ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں کے ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھرنے سے یہ وحدت مزید پارہ پارہ ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے ہماری سیاسی جماعتیں وفاقی جماعتوں کی بجائے صوبائی اور علاقائی جماعتیں بن چکی ہیں۔ پیپلزپارٹی سکڑتے سکڑتے صرف اندرونِ سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے ،جوکسی زمانے میں چاروں صوبوں کی زنجیر سمجھی جاتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کا دائرہ صرف پنجاب تک سکڑ گیا ہے، حتیٰ کہ وہ پولنگ کے دن کراچی میں اپنا مرکزی دفتر بند کر کے بیٹھ گئی۔ تحریک انصاف میں کچھ دم خم باتی ہے اور وہ خیبرپختونخواکے علاوہ پنجاب اور سندھ میں بھی نظر آ رہی ہے ،مگر اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط نہیں کر سکی۔ باقی سب جماعتیں تو پہلے ہی چھوٹے چھوٹے دائروں کی اسیر ہیں، اب ان بلدیاتی انتخابات سے تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں جو صوبائی سطح تک ایک مضبوط اکائی سمجھی جاتی تھیں، وہ بھی آزاد امیدواروں کے ہاتھوں زچ ہو گئی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کو جتنی سیٹیں ملی ہیں، تقریباً اتنی ہی آزاد امیدوار لے گئے ہیں، گویا پنجاب میں اکثریت کا دعویٰ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ دوسری طرف پہلے خیبرپختونخوا، پھر اسلام آباد اور اب سندھ میں بھی یہی صورت حال دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنا اثر کھو رہی ہیں۔ لوگ ان کی کارکردگی سے مایوس ہیں اور آخری سہارے کے طور پر انفرادی شخصیات کو آزما رہے ہیں۔مجھے پی ٹی آئی کے بہت سے رہنماؤں سے مکالمے کا موقع ملتا ہے۔ وہ اس خبط میں مبتلا ہیں کہ بلے کے نام پر وہ کھمبا بھی کھڑا کریں گے تو لوگ اس کو ووٹ دیں گے۔ اس خبط کی وجہ سے شاہ محمود قریشی کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملتان میں تحریک انصاف خاطر خواہ نشستیں نہیں لے سکی اور مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا۔

اگر جمہوریت کو و مزید بدنام ہونے سے بچانا ہے اور اس کی کچھ حرمت برقرار رکھنی ہے تو پھر تمام سیاسی جماعتوں کو یہ طے کرنا پڑے گا کہ وہ میئر اور چیئرمین شپ کے انتخاب کے لئے منڈیاں نہیں لگائیں گی۔ آزاد چیئرمین جس طرف جانا چاہتا ہے، اسے مرضی سے جانے دیا جائے۔ لیکن مجھے پتہ ہے میری اس بات پر سب کی ہنسی چھوٹ جائے گی۔ ایسی آئیڈیل جمہوریت پاکستان میں کہاں سے آئے گی، جہاں سینٹ کارکن بننے کے لئے دو دو کروڑ میں ووٹ خریدے جاتے ہوں، وہاں میئر یا چیئرمین ضلع کونسل بننے کے لئے لاکھوں روپے کی بولی تو لگانی ہی پڑے گی۔ اس بولی سسٹم کے بعد جو لوگ بلدیاتی اداروں کے بڑے بڑے عہدے سنبھالیں گے،وہ عوام سے اپنے سرمائے کا حساب بھی ضرور لیں گے یوں برسوں بعد بحال ہونے والا بلدیاتی نظام بھی جوش و خروش سے قطاروں میں لگ کر ووٹ ڈالنے والے معصوم پاکستانیوں کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہی ثابت ہو گا۔

مزید : کالم