کسی شہباز کی وہ بھی ہیں آرزو کرتے!

کسی شہباز کی وہ بھی ہیں آرزو کرتے!
 کسی شہباز کی وہ بھی ہیں آرزو کرتے!

  

چڑیا نے یہ کہانی ان دنوں میں سنائی تھی جب فی الحال پی ٹی آئی کے لیڈر شاہ محمود قریشی کے والد سجاد حسین قریشی پنجاب کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ کہانی کو بامعنی بنانے کے لئے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ وہ پنجاب کے پندرہویں گورنر تھے اور انہیں یہ ذمہ داری لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی سے منتقل ہوئی تھی جو صرف گورنر ہی نہیں تھے بلکہ صوبے کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی رہے تھے۔ چڑیا نے بتایا کہ ایک دفعہ ان کے کسی ہمدرد نے قریشی صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ بھی اپنے پیش رو گورنر کی طرح لاہور میں جیلانی پارک (جو ریس کورس پارک کے نام سے مقبول ہے) جیسے تفریحی مقامات بناکر اپنا نام کیوں نہیں روشن کرتے؟ اس پر قریشی صاحب نے بڑی بے بسی سے جواب دیا تھا کہ وہ تو بھائی مختار کل تھے۔ انہوں نے پورے پنجاب کا شجرکاری کا بجٹ لاہور کو سرسبز بنانے میں لگا دیا۔ مجھے تو ایک پیسہ بھی ادھر سے ادھر کرنے کے لئے اسمبلی سے پوچھنا پڑے گا۔ کہانی کی صداقت میں تو کوئی شبہ نہیں کیونکہ چڑیا کو آپ قریشی صاحب کی ناک کا بال سمجھیں۔ ہاں البتہ جیلانی صاحب نے ایسا کیا تھا یا نہیں اس بارے میں تو پنجاب کا محکمہ شجرکاری ہی وضاحت کرسکتا ہے لیکن وہ ایسا کیوں کرے گا؟ اور اب اس کی ضرورت بھی کیا رہ گئی؟

کہانی سنانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ گورنر غلام جیلانی کے بعد لاہور سے محبت کے قصے اس کے کسی میئر کی وجہ سے نہیں بلکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے حوالے سے مشہور ہوئے جو پنجاب کے دارالحکومت کو ایک قابل فخر شہر بنانے کا تہیہ کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پتہ نہیں وہ لاہور کو ترقی دینے کے لئے اتنی رقم کہاں سے لا رہے ہیں؟ اپنی ایک چڑیا تو ہروقت ان کے کندھے پر بھی بیٹھی رہتی ہے اور اس نے ان کے انداز کارکردگی کے بارے میں بہت سی دلچسپ کہانیاں بھی سائی ہیں جو فی الحال کسی اور وقت کے لئے چھوڑتے ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کہانی لاہور کی ترقی کے لئے اِدھر اُدھر سے رقم جوڑنے کے بارے میں نہیں۔ چڑیا کو البتہ اس کالم کے ذریعے یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کراچی والے اب لاہور کو رشک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں اور اپنے شہر کے لئے بھی جو کبھی عروس البلاد ہوا کرتا تھا لیکن ایک دفعہ پھر اجڑی ہوئی بیوہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، شہباز شریف جیسے کسی دیوانے کی آرزو کرتے ہیں۔ اس صورت حال نے سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے لئے بڑی مشکلات کھڑی کردی ہیں کیونکہ وہ نہ تو عروساؤں کے معاملے میں شہباز شریف کا مقابلہ کر پا رہے ہیں اور نہ ہی عروس البلاد کے معاملے میں۔

کوئی تقابل ہو بھی تو کیسے ہو؟ حقائق یہ ہیں کہ اُدھر لاہور کو پیرس بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اِدھر کراچی موہنجو دڑو (مردوں کا ٹیلا) بنتا جا رہا ہے۔ بات صرف کراچی تک محدود نہیں، صورت حال سے باخبر لوگ بتاتے ہیں کہ پورے سندھ میں چاہے وہ شہری علاقہ ہو یا غیر شہری سڑکوں سمیت بنیادی سہولتوں کی حالت خستہ ہی دکھائی دیتی ہے۔ اور تو اور قائم علی شاہ کے اپنے شہر خیرپور کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ وزیراعلیٰ کا شہر ہے۔ یہ اس لحاظ سے اچھی بات ہے کہ انہوں نے اپنے شہر کی ترقی کے لئے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی، لیکن شخصی اقتدار کے گرد گھومنے والے ہمارے معاشرے میں لوگ طعنے تو دیتے ہی ہیں۔ قائم علی شاہ زندگی کی ٹیسٹ کرکٹ میں اسی (80) رنز بنانے کے بعد بھی وکٹ پر چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ وہ سیاست کے ون ڈے میں بھی نصف سنچری مکمل کرچکے ہیں، جس کے دوران انہوں نے کئی وفاقی وزارتوں کے چوکے اور سندھ کی وزارت اعلیٰ کے دو چھکے لگائے لیکن پارٹی کے حالات اور کراچی کی مخصوص صورت حال نے ان کے تمام سیاسی کیریئر کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

اس تناظر میں اگر ان سے شہباز شریف کی مثال دے کر بات کی جائے تو وہ چڑ کر یہی کہیں گے کہ شہباز شریف کی گردن بھی اگر کراچی کی طرح دہشت گردی کی گرفت میں آئی ہوئی ہوتی تو پھر دیکھتا کہ وہاں میٹرو بس چلتی ہے یا ٹارگٹ کلنگ اور ٹارگٹ کلرز کو مارنے کا میٹر چلتا ہے۔ سید قائم علی شاہ بھی اگرچہ جیلانی ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان کا حال گورنر سجاد حسین قریشی سے مختلف نظر نہیں آتا۔ چاہنے کو تو وہ بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی مرضی سے شاید ہی کچھ کر پاتے ہیں مثلاً یہ کہ انہوں نے تو اپنی طرف سے سات سو ارب روپیہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں پر لگا دیا لیکن ان میں سے بہت کم منصوبے زمین پر نظر آتے ہیں اور جو آتے ہیں وہ بھی پوری طرح حرکت میں نظر نہیں آتے۔ یہ حالات دیکھ کر لوگ باگ انتظار میں ہیں کہ بلدیاتی الیکشن مکمل ہوں تو شاید صورت حال بدلے اور کراچی کو ایک دفعہ پھر کوئی نعمت اللہ خان یا مصطفی کمال مل جائے، لیکن سادہ لوح لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگروہ اتفاقاً مل بھی گیا تو کیا کمال کر پائے گا کیونکہ کمال نے جو کمال کیا تھا تب کی بات اور تھی۔ مرکز میں پرویز مشرف بیٹھے تھے جن کی کراچی میں دلچسپی ایسی ہی تھی جیسی نوازشریف کی لاہور میں ہے۔

پیسہ ورلڈ بنک کا تھا جو بہت عرصے سے رکا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ مقابلے کی ایک فضا بھی تھی جو جماعت اسلامی کے اس وقت کے میئر نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے پورے شہر کی سڑکیں کھدوا کر اور کھجور کے درخت کناروں پر لگا کر پیدا کردی تھی، بلکہ اس وقت شہر کی صورت حال بالکل ویسی ہی ہے جیسے نعمت اللہ ایڈووکیٹ کے میئر بننے سے پہلے تھی۔ سڑکیں ادھڑی پڑی ہیں، گٹر جگہ جگہ ابلنے کے لئے بے قرار ہیں۔ پانی سرکاری افسر کی طرح تھوڑی دیر کے لئے آتا ہے۔ کبھی آتا ہے کبھی نہیں آتا۔ ہر طرف کوڑے کے ڈھیر یوں نظر آتے ہیں۔ گویا یہ بھی شہر کے قابل دید مقامات میں سے ایک ہیں جسے محفوظ رکھنے پر پوری توجہ دی جا رہی ہے۔ ان حالات میں جبکہ بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات صوبائی حکومتوں نے چابکدستی سے اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ جس طرح قائم علی شاہ وفاق کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں کہ وفاق صوبے کی ترقی کے لئے اس کا حصہ نہیں دے رہا، اس طرح شہر کا میئر بھی یہی دہائی دیتے ہوئے وقت گزارے گا کہ صوبائی حکومت اسے کچھ نہیں دے رہی۔ ہاں البتہ بلدیاتی انتخابات کا ایک فائدہ ضرور ہوگا کہ اس سے مقامی سطح پر افراد یا پارٹیوں کی مقبولیت کا ہر کسی کو اندازہ ہو جائے گا، جسے پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ کے عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوسکیں گی۔

مزید :

کالم -