کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

  

میری رہائش ایک قصبہ میں ہے، اور یہ سہولت میسر ہے کہ جب بھی شہری زندگی کے جھمیلوں سے اُکتا جاتا ہوں تو چند منٹ کی مسافت پر کھلے کھیت، سر سبز و شاداب فصلیں اور قریب ہی ایک بہتا ہوا نالہ جہاں کبھی صاف ستھرا پانی سارا سال بہتا تھا اور سردیوں کی دھوپ میں نیم گرم پانی میں نہا کر نئی زندگی ملتی تھی اب یہ نالہ شہر کے گندے پانی اور گندگی کے ڈھیروں سے اٹا ہوا ہے جوں ہی اس نالے کو عبور کرتا ہوں تو درختوں کے ایک جھنڈ میں ’’بابا نورا‘‘ کی ایک کمرہ پر مشتمل سادہ سی رہائش گاہ ہے جب بھی تھکی زندگی سے نجات پانے کو جی چاہتا ہے بابا نورا کے ڈیرہ پر حاضری سے نئی زندگی ملتی ہے۔ اللہ کا یہ بندہ اپنی مختصر سی زرعی زمین میں برسوں سے رہائش پذیر ہے نیم، دھریک، شیشم، پیپل، جامن، برگد کے چند درختوں میں ایک دو چیڑ کے بلند بالا درخت بھی اس کے مسکن کی خبر دیتے ہیں۔ ہینڈ پمپ کا ٹھنڈا میٹھا پانی اب بھی سیون اپ کوکا کولا اور پیپسی کو شرماتا ہے اور دل دماغ کو طراوٹ بخشتا ہے۔ بابا نورا کی دھیمی اور دلنشین انداز میں گفتگو زندگی کے حقائق کو قرآن و حدیث کی روشنی میں عملی ز ندگی کے مصائب کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور ولولہ تازہ جنم لیتا ہے۔

بابا نورا کی ڈھلتی جوانی کے بعد بیوی کی اچانک وفات نے اس کی زندگی میں ایک خلاپیدا کر دیا مگر وہ اپنے بیٹے حسین کی محبت کے سہارے زندگی کے شب و روز سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس کی زندگی پاکستان اور اسلام سے محبت کے گرد گھومتی ہے۔ چند سال پہلے کشمیر کی آزادی کی لہر اُٹھی تو اپنے اکلوتے بیٹے کو جہاد کے لئے مقبوضہ کشمیر میں جانے اور غاصب ہندو سے آزادی کی جنگ لڑنے والے بہن بھائیوں کی مدد کے لئے جانے کی اجازت دے دی، بڑھاپے کے اس سہارے کو رخصت کرتے ہوئے اسے کوئی ملال نہ ہوا۔ تین چار سال وقتاً فوقتاً اُسے کسی ذریعہ سے اپنے بیٹے کی خیریت کی اطلاع ملتی رہی بعد ازاں یہ سلسلہ بھی رک گیا ہے مجاہدین کے ذریعہ یہ خبر ملتی ہے کہ اس کا بیٹا کشمیر کی آزادی کے لئے جام شہادت نوش کر چکا ہے اور اس کا لہو کشمیر کی وادی میں زعفران کے سرخ رنگ میں شامل ہو چکا ہے جبکہ بابا نورا آج بھی یہی کہتا ہے کہ میرا حسین اس کربلا سے واپس آئے گا اس کے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم ہوگا اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی کامرانی کے شادیانے بجائے گا۔!

بابا نورا کے کمرہ میں بجلی کی وائرنگ موجود ہے ایک ٹیوب ایک بلب ایک پنکھا کے کنکشن بھی ہیں، بابا ہیٹر، واشنگ مشین، ایئرکنڈیشنر سے بے نیاز انسان ہے لیکن چند سال پہلے انہوں نے بجلی کا کنکشن کٹوا دیا سبب یہ بتایا کہ بار بار بجلی چلی گئی، بجلی آ گئی کی آوازوں سے وہ بیزار ہو چکا ہے اس کے کمرہ میں جرمنی کی قدیم لالٹین اس کی نگاہوں کی روشنی کے لئے کافی ہے جبکہ اس کا دل پہلے ہی روشن ہے۔۔۔کل جب بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوا تو پہلی دفعہ ان کی زبانی اس دعا کی خواہش پر حیرت ہوئی کہ بیٹا دعا کریں مجھے زندگی تین سال مزید مہلت دے: سوچا شاید بابا جی نے خواب دیکھا ہے کہ ان کا فرزند کشمیر کی آزادی کا پروانہ لے کر آنے والا ہے!۔۔۔ڈرتے ڈرتے بابا جی سے دریافت کیا کہ بابا جی کیا خوش خبری ہے؟ جو تین سال زندگی کی مہلت کی خواہش ہے۔

بابا جی یوں تو سیاسی سرگرمیوں سے دلچسپی نہیں رکھتے تاہم واحد مصروفیت اخبار بینی ہے اخبار نکالا اور فرمانے لگے کل وزیر اعظم نے یہ خوش آئند وعدہ کیا ہے کہ آئندہ دو سالوں کے بعد پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو جائے گا اور قوم لوڈشیڈنگ کے نام کو بھول جائے گی۔پاکستان کو مستقل طور پر اندھیروں سے نکال دیں گے! گیس کے بحران کے بارے بھی میاں برادران کا یہ فرمان ہے کہ روس، ازبکستان اور ایران سے گیس پائپ لائن کے ذریعہ گیس کی فراہمی کے بعد یہ شکایت بھی ختم ہو جائے گی ۔بابا جی کی رجائیت پسندی پر خوش ہوئی ، انہوں نے کہا کہ 2013ء کے الیکشن کی مہم زوروں پر تھی کہ موجودہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بڑی ترنگ میں یہ کہا تھا کہ اگر ہمیں حکومت ملی تو چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کر سکوں تو میرا نام بدل دینا۔ لوڈشیڈنگ تو ختم نہ ہو سکی اور شہباز شریف کا نام بھی بدلا نہ جا سکا البتہ وہ وزیر اعلیٰ سے خادم اعلیٰ کے چھاتہ تلے آ گئے۔

اسی وقت ان کے برادر بزرگ نوازشریف نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے بھائی کا یہ وعدہ جذباتی اور الیکشن کے وعدوں کا شاخسانہ ہے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے چھ ماہ کے بعد ہی وعدہ پورا نہ کر سکنے پر قوم سے معافی مانگی تھی! اب چونکہ چین کے تعاون سے نندی پور، نیلم جہلم پروگرام دیگر درجنوں پراجیکٹ شروع ہو چکے ہیں لہٰذا نوازشریف نے بجا طور پر یہ وعدہ کیا ہے کہ 2018ء تک لوڈشیڈنگ کا نام بھی کوئی نہیں سنے گا۔بابا نورا سے میں نے عرض کیا کہ گزشتہ اڑھائی تین سال میں مرکز اور صوبوں میں حکومتوں کے قیام کے بعد توانائی کے بجلی اور گیس کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا تو آئندہ دو سالوں میں بھی یہ ممکن نہ ہوگا۔ حکمران طبقہ یہ کہے گا کہ اپوزیشن کی غیر جمہوری سرگرمیوں کی وجہ سے تعمیر و ترقی کے تمام منصوبے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے! قوم ہمیں ایک بار پھر 5 سال کا موقع دے ہم پچھلی غلطیوں کا ازالہ بھی کریں گے۔ آئندہ الیکشن کے وعدوں پر تھر کول سے بجلی اور گیس کی فراہمی کا وعدہ بھی ایک معقول بہانہ ہوگا۔

بابا جی سے کہا! خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا

لیکن بابا جی جو قائد اعظمؒ کی مسلم لیگ میں تحریک آزادی میں ورکر تھے، آج بھی مسلم لیگ کے عاشق ہیں! انہوں نے کہا بیٹا! مسلم لیگ نے یہ وطن بنایا، مسلم لیگ ہی اس کو بچائے گی اور سنوارے گی۔ جہاں قوم گزشتہ دو اڑھائی سال سے نہیں گزشتہ ساٹھ سال سے وعدہ فروا پر زندہ ہے تو کیوں نہ ہم اڑھائی سال اللہ تعالیٰ سے اور مانگ لیں میرے اس کمرہ میں ایک بار پربجلی کابلب، ٹیوب اور پنکھا نہ ختم ہونے والی لوڈشیڈنگ سے نجات پا جائیں گے۔ میری یہ کٹیا بھی دور سے روشن نظر آئے گی۔کون ہے جو حکمرانوں سے پوچھ سکے کہ تمہارے وعدے ملک میں امن کے قیام کے وعدے خوش حالی کے وعدے، بیروز گاری کے خاتمہ کے وعدے رشوت، کرپشن، سود، شراب کے خاتمہ کے وعدے اور قائد اعظمؒ اور اقبالؒ کے ملک کو لاالا اللہ کی روشنی میں امن کا گہوارہ بنانے کے وعدے کہاں گئے؟ کب پورے ہوں گے غالب کی ر وح نے سوال کیا:

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

مزید : کالم