صحافی آفتاب کاوش کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

صحافی آفتاب کاوش کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

ری مکس ۔۔۔شاہد محمود

کسی دانشور نے کہا ہے کہ کوئی بھی اچھی بات اس دریا کی طرح ہوتی ہے جو خاموشی سے فصلوں کو سیراب اور زمینوں کو زرخیز بناتا ہوا اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے نہ کسی سے الجھتا ہے نہ کسی سے راستے کی کٹھانیوں کا گلہ کرتا ہے اور نہ کسی پر اپنے حسن عمل کا احسان جتاتا ہے۔ ایک دوسرے دانشور نے کہا ہے ایک اچھی بات اس مسافر کی طرح ہے جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ اچھی بات ہردور کے انسانوں کو اپنی افادیت سے آگاہ کرتے ہوئے آنے والی نسلوں تک بڑھتی رہتی ہے۔ ایک پنجابی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

دنیا اتے رکھ او بندیا ایسا بین کھلون

کول ہوویں تے سب پیار کرن دور ہوویں تے رون

شاعری کسی بھی زبان میں ہو اس کا حُسن کبھی ماند نہیں پڑتا شرط یہ ہے کہ شاعر نے اپنے شعر میں کوئی ایسی بات کہی ہو جو وزن رکھتی ہو اور دریا کی طرح خاموشی سے فصلوں کو سیراب کرتے ہوئے سفر کی طاقت کی حامل ہو۔ وہ شخص بھی ایک شاعر تھا۔ آفتاب کاوش جو زندگی کے اس پرآشوب دور میں بڑے حوصلے سے جتیارہا چونکہ کاوش تخلص تھا اس لئے جدوجہد ترک نہیں کی اور سفر کی مشکلات سے بھی نہیں گھبرایا حالانکہ زادراہ کم تھا۔ غالب نے کہا تھا:

بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے

میں ہوں غلام ساقی کوثر مجھے غم کیا ہے

ایسے لوگ بڑے عظیم ہوتے ہیں جو زندگی کے سفر میں بچھڑ جانے کے باوجود یادرہتے ہیں ورنہ فسق و فجور اور منافقت میں لتھڑے ہوئے اس معاشرے میں کسی کو اپنوں کی خبر لینے کی فرصت نہیں غیر کو کون پوچھتا ہے ؟ آفتاب کاوش کسی زمانے میں روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے بھی منسلک رہا تھا اس لئے صحافت اس کا پیشہ اور شاعری شوق کہلایا لیکن بتانے والوں نے بتادیا کہ وہ صرف صحافی نہیں بلکہ صاحب کردار صحافی تھا۔ وہ ایک ایسا صحافی تھا جو کم عمر ساتھیوں سے شفقت اور ہم عمروں سے احترام سے پیش آتا تھا۔ وہ ایسا صحافی تھا جس نے اپنے منظر نامے میں کبھی صحافت کو داغدار نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ ایک شجر سایہ دار کی طرح تھا بلند مرتبہ اور خاموش۔ ہمیشہ اپنے کام میں مگن اور اسے بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف یہی عادت اس کے اوصاف میں نمایاں ٹھہری۔ قابلیت تو بہتوں میں ہوتی ہے لیکن کردار کی عظمت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان کے ہمیشہ دولباس ہوتے ہیں ایک وہ جو نظر آتا ہے اس کے جسم پر پہنا ہوا اور دوسرا وہ جو اس کے کردار سے واضح ہوتا ہے۔

آفتاب کاوش سے میری زیادہ شناسائی نہیں تھی شناسائی زیادہ نہ ہوتو بات چیت بھی کم ہی ہوتی ہے ایک بار اس نے کہا تھا۔

غریب آدمی کے پاس دولت تو ہوتی نہیں صرف کردار ہوتا ہے اگر وہ چاہے تو اپنے کردار سے اپنی محرومیوں کا ازالہ کرسکتا ہے۔

تب مجھے احساس ہوا ہے کہ ایک شاعر اور صحافی کے علاوہ اس کے اندر ایک فلاسفر بھی موجود ہے جو ظاہری اور باطنی معاملات میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ غالباً یہی وہ باطنی حسن تھا جس نے میڈم ناصرہ عتیق کو متاثر کیا تھا۔ میں نے زندگی میں بھی آفتاب کاوش کو اکثر محفلوں میں ان کے قدم بہ قدم پایا اور اب جب وہ میڈم ناصرہ عتیق اور ہم سے رخصت ہوچکے ہیں تب بھی ان کے ہم رکاب محسوس کیا۔ بات یکطرفہ نہیں ہوتی، میڈم ناصرہ عتیق نے ہمیشہ کم مایہ لوگوں سے روابط رکھنے میں لطف زندگی محسوس کیا اور ان کے ظاہر اور پس پردہ اعمال ان کی فراخ دلی اور انسان دوستی سے بھرے پڑے ہیں۔ حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد تو ان میں انسانیت کی محبت کا ایک ایسا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا ہے جن کوالفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ صحافتی حلقوں کے علاوہ ان کی دیگر انجمنوں کے پلیٹ فارم سے جو کارخیر سرانجام دیئے جارہے ہیں ان کا انہوں نے کبھی ذکر نہیں کیا لیکن کارخیر بھی ان چاند ستاروں کی طرح ہوتا ہے جو رات کے مسافروں کی ان کی منزل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔ پانچ دسمبر 2015ء کو میڈم ناصرہ عتیق نے صحافی شاعر اور دانشور آفتاب کاوش کی یاد میں تعزیتی ریفرنس لاہور پریس کلب میں منعقد کرکے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ جہاں وہ شعبہ صحافت اور پریس کلب سے محبت اور اخلاص کا رشتہ مستحکم رکھے ہوئے ہیں وہاں اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی فراموش کرنے کو گناہ سمجھتی ہیں۔ اس تقریب کے دو حصے تھے ایک قرآن خوانی اور دوسرا آفتاب کاوش کے بارے میں ان کے دوستوں اور تعلق داروں کے احساسات وجذبات کا اظہار پہلے حصے میں حاضرین پر وجداور دوسرے میں احساس تشکر کی کیفیت طاری رہی اس تقریب میں آفتاب کاوش کے ایک دیرینہ ساتھی ایزوعزیز کو ساہیوال سے بلایا گیا تھا جبکہ مرحوم کا بیٹا بھی اس تعزیتی ریفرنس میں مدعو تھا۔ ان کے دوست نے ان کی ادبی اور سماجی زندگی کے حوالے سے خطاب کرنے کے علاوہ ان کی ادبی خدمات سے بھی آگاہ کیا جبکہ دیگر خطاب کرنے والوں میں کہنہ مشق صحافی چودھری بخت گیر ، محسن جعفر ، انوار قمر، ناصر نقوی اور صدر پریس کلب ارشد انصاری شامل تھے۔ ان سب افراد نے جہاں آفتاب کاوش کی صحافتی زندگی اور ان کے کردار پر روشنی ڈالی وہاں میڈم ناصرہ عتیق کی طرف سے اپنے دیرینہ ساتھی آفتاب کاوش کے لئے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کرنے کی دل کھول کر داد دی اور اس روایت کو آگے بڑھانے پر زور دیا تاکہ بچھڑے ہوئے صحافیوں کی روح کے لئے تسکین کا سامان ہو اور یہی ’’وہ بات‘‘ تھی جس کا میں نے کالم کے شروع میں ذکر کیا ہے۔ تقریب کے اختتامی مراحل میں صدر پریس کلب ارشد انصاری نے مرحوم آفتاب کاوش کے بیٹے کو ایک خطیر رقم کا چیک دیتے ہوئے حاضرین مجلس کو یہ احساس دلایا کہ لاہور پریس کلب ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے ساتھیوں کو بعد از مرگ بھی یاد رکھتا ہے۔ پریس کلب کی جانب سے یہ کام بھی بلاشبہ ’’کارخیر‘‘ کے زمرے میں آتا ہے خصوصاً ان خاندانوں کے لئے جہاں مرحوم صحافی خاندان کا واحد کفیل ہو اور خاندان کے افراد کے پاس جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے کوئی اور وسیلہ یا ذریعہ نہ ہو جو کچھ میڈم ناصرہ عتیق نے کیا وہ ایک اچھی بات تھی اور جو صدر پریس کلب نے کیا وہ ایک اچھی روایت ہے جسے اسی شان وشوکت کے ساتھ جاری رہنا چاہئے۔

مزید : کلچر