کراچی میں متحدہ اور رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی کا راج یقینی ،راولپنڈی ،ملتان ،سیالکوٹ ،نارووال ،مظفر گڑھ ،راجن پور ،بہاولپور اور خوشاب میں شیر دھاڑے گا

کراچی میں متحدہ اور رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی کا راج یقینی ،راولپنڈی ...

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی 1466 میں سے700سے زائد امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ 208 یونین کمیٹیوں میں سے127یونین کمیٹیوں کے چئیرمین اور وائس چیئرمین کی نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ جماعت اسلامی ،تحریک انصاف کا اتحاد مکمل طور پر ناکام رہا۔ پیپلز پارٹی دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آگئی ہے۔ کراچی کے میئر کیلئے متحدہ قومی موومنٹ کا راستہ ہموار ہوگیا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ہفتہ کو 1520 میں سے 1466 نشستوں کے لئے پولنگ ہوئی اور 6580 امیداوروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔مجموعی طور 22 جماعتوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا اور بیشتر جماعتوں کو بدترین شکست کا سامنا رہا متحدہ قومی موومنٹ نہ صرف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی بلکہ 4 اضلاع کے ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کی حکومتیں بنانے میں بھی کامیابی رہی۔مختلف ذرائع سے حاصل اعدادوشمار کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کو ضلع وسطی کی 51 میں 50 ،ضلع شرقی کی30 میں سے23،ضلع کورنگی کی 37 میں سے 27 ،ضلع غربی کی 46 میں سے 24 ،ضلع جنوبی کی31 میں 7اور ضلع ملیر کی 13 میں سے 2 یونین کمیٹیوں پر متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کامیاب ہو گئے ہیں اس طرح مجموعی طور پر متحدہ قومی موومنٹ کو 4 ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کے ساتھ ساتھ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کراچی کے ایوان میں سادہ اکثریت سے زائد نشستیں ملی ہیں ، تاہم ایم کیو ایم کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 140سے زائد یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ پیپلز پارٹی کو مختلف اضلاع سے10 یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمینوں کی نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔تحریک انصاف کو 7اور ن لیگ کو 5جماعت اسلامی کو 5جمعیت علماء اسلام ( ف )کو 3، عوامی نیشنل پارٹی1 یونین کمیٹیوں کے چیئرمین کی نشستوں پر کامیابی ملی ہیں جبکہ چند نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔کراچی کے 6 اضلاع میں میونسپل کارپوریشن بنائی گئی ہے۔ جن میں مجموعی طور پر 209 یونین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ، پہلے مرحلے میں ان نشستوں کے انتخاب کے بعد مخصوص نشستوں پر خواتین ، مزدور ، کسان ، نوجوان اور اقلیتوں کے نمائندوں کا چناؤ ہوگا جس کے بعد ضلعی کونسل کے ارکان کی تعداد 209 سے بڑھ کر 308 ہو جائے گی۔ اس مرحلے کے بعد کراچی کے میئر کا انتخاب ہوگا۔

نارووال،ڈسکہ،راولپنڈی،ملتان،مظفر گڑھ،بہاولپور،راجن پور، سیالکوٹ (نمائندگان،بیورورپورٹ) بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پنجاب کے 12اضلاع میں سے راولپنڈی ،ملتان ،سیالکوٹ ،نارووال،مظفر گڑھ،راجن پور بہاولپوراور خوشاب میں مسلم لیگ ن نے میدان مار لیا اور حکومت بنانے کی یقینی پوزیشن میں آگئی ہے،جبکہ رحیم یار خان میں پیپلزپارٹی اکثریت حاصل کرکے اپنی مقامی حکومت کی پوزیشن میںآگئی ہے ۔دوسری طرف لیہ اور جھنگ میںآزاد اراکین نے میدان مار لیا وہاں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو مقامی حکومتوں کیلئے آزاد اراکین سے جوڑ توڑ کرناہوگا۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن نے بارہ اضلاع کی 2507نشستوں میں سے1069 سیٹیں اپنے نام کر لیں، آزاد امیدوار 1021 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، تحریک انصاف 264 سیٹوں کے ساتھ تیسرے اور پیپلز پارٹی 100 سیٹوں کے چوتھے نمبر پر ہے ۔مسلم لیگ ق نے25سیٹیں حاصل کیں۔جبکہ دیگر جماعتوں نے28سیٹیں حاصل کیں۔پہلے اور دوسرے مرحلے کی طرح تیسرے مرحلے میں بھی آزاد امیدواروں کا زور رہا اور وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی ٹی آئی کی تیسری، پوزیشن برقرار ہے جبکہ پیپلز پارٹی کو دعوؤں کے باوجود اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق، عوامی تحریک اور دیگر جماعتیں اس بار بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔پیپلز پارٹی نے رحیم یار خان کی 139میں سے 78نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ن لیگ30نشستوں کے ساتھ دوسرے اور آزاد امیدوار 27نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو صرف چار نشستیں مل سکیں جبکہ میونسپل کارپوریشن میں ن لیگ نے میدان مار لیا اور 54میں سے 23نشستیں حاصل کیں۔پیپلز پارٹی کو چار اور پی ٹی آئی کو دو نشستیں مل سکیں۔ملتان میں ن لیگ33نشستوں کے ساتھ سب سے آ گے ہیں، آزادامیدواروں نے 17نشستیں اپنے نام کیں جبکہ پی ٹی آئی 12نشستوں کے دوسرے نمبر پر ہے اور پیپلز پارٹی نے 1نشست پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن 44نشستوں کیساتھ پہلے نمبر پر رہی جبکہ آزاد امیدواروں نے 36نشستیں جیتیں، پی ٹی آئی 3اور پیپلز پارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں ہی کامیاب ہو سکی ہے۔مظفر گڑھ میں اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد 56،ن لیگ 45 اور پی ٹی آئی نے 6نشستوں پر میدان مارلیاہے۔راجن پورمیں آزاد 18،ن لیگ 32،پی ٹی آئی 16اور پی پی 2نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔اٹک میں 7نشستوں میں سے تین کے نتائج موصول ہو گئے ہیں جس میں سے دو سیٹیں ق لیگ نے حاصل کیں جبکہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب ہو گیاہے۔بہاولپورمیں ن لیگ 13نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ 4نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں اورپی ٹی آئی بھی 12سیٹوں پر میدان مارنے میں کامیاب رہی ہے۔ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ نے 9اور آزادامیدواروں نے 7نشستوں پر میدان مارلیاہے جبکہ پی ٹی آئی اور جے یوآئی ایف نے ایک ایک نشست حاصل کر لی ہے۔جھنگ میں آزاد امیدوار 70نشستوں پر میدان مارنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ ن لیگ 19سیٹیں حاصل کر چکی ہے اور تین نشستوں پر دیگر جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں۔خوشاب میں آزادامیدواروں نے 16اور ن لیگ نے بھی 16نشستیں اپنے نام کیں۔لیہ میں آزاد امیدواروں نے 21اور مسلم لیگ ن نے 19نشستیں جیت لیں۔ کراچی کی 117 نشستوں کے غیر سرکاری تنائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق 138 نشستوں پر ایم کیوایم نے میدان مارلیاہے جبکہ 32 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے،جماعت اسلامی 11،آزاد امیدوار 9 ،پی ٹی آئی 7 اور ن لیگ8 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔نارووا ل میں غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع نارووال کی98یونین کونسلوں میں پاکستان مسلم لیگ(ن)38۔پاکستان تحریک انصاف18اور42آازاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مونسپل کمیٹی کی55وارڈز میں ن لیگ29۔پاکستان تحریک انصاف6اور20امیدوار آزاد کامیاب ہوئے ہیں تحصیل نارووال کی32یونین کونسلوں میں غیر حتمی غیر سرکاری پاکستان مسلم لیگ ن نے14۔تحریک انصاف2اور16آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں تحصیل نارووال کی یونین کونسل نمبر30بوبک مرالی سے محمدریاض بوبک(ن)۔یوسی31سدووالا اونچامحمد الیاس(ن)۔یوسی35چندووال ذوالفقار علی(ن)۔یوسی36بولا باجوہ صاحبزداہ خان محمد عامر خان(ن)۔یوسی37ڈونگیاں سے امجد اقبال(ن)۔یوسی39خان خاصہ سے سیلم رضا(ن)۔یوسی41داتے وال سے رانا محمد عظیم(ن)۔یوسی43ہلووال رانامحمدیعقوب(ن)۔یوسی44منگولے عبدالغفور(ن)۔یوسی45گدیاں رانا محمدحفیظ خان(ن)۔یوسی46بدوملہی چوہدری امجد فاروق(ن)۔یوسی50دھرگ میانہ سجاد مہیس(ن)۔یوسی54مانک سے میاں محمد ریاض(ن)۔یوسی مہار شریف ملک طارق اعوان(ن) کامیاب ہوئے ہیں جبکہ یوسی40ندوکے محمد ندیم نثار(پی ٹی آئی)۔یوسی 51کوٹ لکھا سنگھ محمدافضل پاکستان تحریک انصاف سے کامیاب ہوئے ہیں آزاد امیدوار وں کی لسٹ درج ذیل ہیں یوسی27 سے رانا اطہر ندیم۔یوسی28سے خواجہ ایم سہیل۔یوسی29سید اعجاز حسین شاہ۔یوسی32سے رانا غلام فرید۔یوسی35سے برسٹر عادل کاہلوں۔یوسی34سے محمد ابوبکر۔یوسی38سے محمد اسلم۔یوسی42سے ایم شکیل اعوان۔یوسی46سے چوہدری امجد فاروق گجر۔یوسی47سے محمد حمزہ۔یوسی48سے ایم شہباز محسن۔یوسی49سے چوہدری سخاوت علی۔یوسی52سے کنوروحید خان۔یوسی53محمد ندیم خان۔یوسی55محمد ریاض گورایہ۔یوسی57سے شفیق واہلہ اور58سے اشرف رندھاوا سے کامیاب ہوئے ہیں میونسپل کمیٹی نارووال کی 25 وارڈوں میں مسلم لیگ ن نے 12 نشتیوں پر12 آزاد اور ایک پی ٹی آئی کا امیدوار کامیاب ہوا۔ تفصیلات کے مطابق وارڈ نمبر 1 میں رانا شہزاد علی (ن )وارڈ نمبر 2 میں شاہد رفیق(ن) وارڈ نمبر 3 میں حاجی امانت علی (ن) وارڈ نمبر 4 میں توصیف الرحمًن(آزاد) وارڈ نمبر 5 میں خواجہ ظہیر بٹ(ن ) وارڈ نمبر 6 ظہیر الحسن تتلہ(آزاد)، وارڈ نمبر 7 محمد احمد خاں(ن) وارڈ نمبر8 محمد یاسین(آزاد) وارڈ9 ملک محمدیونس(آزاد) وارڈ نمبر10ملک ندیم (آزاد)وارڈ نمبر 11 نوید بٹ(آزاد) وارڈ نمبر 12 شوکت گجر(آزاد) وارڈ نمبر 13 پیرسید اظہر الحسن گیلانی(ن ) وارڈ نمبر 14 ایوب بٹ(ن ) وارڈ نمبر 15 میاں ریاض (ن )وارڈ نمبر 16 سعید خاں (ن) وارڈ نمبر 17 شیخ ثائر علی (ن) وارڈ نمبر 18 رانا لال بادشاہ(پی ٹی آئی)وارڈ نمبر 20 حافظ طلعت محمود (آزاد) وارڈ نمبر 21 منیر بھٹی (آزاد) وارڈ نمبر 22 حاجی نذر عباس (آزاد) وارڈ 23 عابد محمود بٹ (آزاد) وارڈ نمبر 24 محمد اقبال ساگر(آزاد) وارڈ نمبر 25 سید ندیم حیدر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ڈسکہ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں تحصیل ڈسکہ کی31یونین کونسلوں اورمیونسپل کمیٹی ڈسکہ کی 30وارڈوں میں انتخابات مکمل ہوگئے میونسپل کمیٹی ڈسکہ میں 16آزاد امیدوار اورپاکستان مسلم لیگ ن14نشستیں حاصل کر سکی جبکہ یونین کونسلز کی 31نشستوں میں سے مسلم لیگ ن پہلے ،آزاد امیدوار دوسرے اور پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر رہی میونسپل کمیٹی کی 30وارڈوں میں کل ووٹ 90ہزار 242ہیں جن میں مردوں کے 50ہزار 597اور خواتین کے 39ہزار 645ووٹ جبکہ تحصیل کی31 یونین کونسلوں میں کل ووٹ 3لاکھ 50ہزار 787ہیں جن میں مردوں کے 2لاکھ 7ہزار 353اور زنانہ 1لاکھ 43ہزار 452شامل ہیں ٹرن آؤٹ تقریبا 60%رہا سارا دن پولنگ اسٹیشنوں پر چھوٹی موٹی جھڑپوں کے علاوہ پولنگ مکمل طور پر پرامن رہی تاہم یونین کونسل گوئندکے کے علاقہ برج چیمہ میں ووٹ کاسٹ کر نے کے تنازعہ پر دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپ ہو ئی جس کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کے تین اور مسلم لیگ ن کے دو کارکن معمولی زخمی ہو ئی پورا دن رینجرز اور پولیس شہر بھر میں گشت کرتی رہی ڈسکہ شہر میں سب سے زیادہ نشستیں کشمیری برادری نے7،مغل برادری نے 5،جٹ برادری نے 4 ،مہراورراجپوت برادری نے3،3نشستیں حاصل کیں مسلم لیگ ن سٹی ڈسکہ کے صدر افضل منشاء ،مسلم لیگ کے سرپرست توحید اقبال بٹ ،سابق ایم پی اے اشفاق وائیں ،موجودہ ایم پی اے کے بھائی عارف باجوہ جیت گئے جبکہ 7سابق کونسلربھی منتخب ہو ئے جبکہ سابق ایم لی اے یحیی گل نواز کے بھائی عثما ن گلنواز شکست کھا گئے اس کے علاوہ شکست کھانے والے سابق کونسلر صوفی محمد شریف ،خواجہ عابس رضا ،اطہر لون ،ماسٹر نذیر احمد بھٹی ،ماسٹر نذیر بھٹی ،چوہدری سجاد علی ،شعیب مدثر ،چوہدری عنصر علی ،امان اللہ مغل،سید ارشد شاہ ،رانا طیب امین ،کوثر سندھو ،حافظ سجاد ،حاجی ملک اشرف ،سلمان ٹھروہی،چاچا الیاس ،رانا رفیق کریم اللہ شامل ہیں تحصیل ڈسکہ کی 31یونین کونسلز میں غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق یونین کونسل نمبر57 کنڈن سیان میں سعید اللہ سیان (آزاد)یونین کونسل گوجرہ نمبر56میں مختار بل(پی ٹی آئی ) یونین کونسل نمبر59 گوئندکے میں قاضی شبیر احمد (مسلم لیگ ن ) یونین کونسل نمبر58 میترانوالی میں چوہدری امتیاز احمد چیمہ ،یونین کونسل نمبر51 کانواں لٹ میں جمشید ساہی ایڈووکیٹ (آزاد) یونین کونسل نمبر66 بھڑتھانوالہ میں غضنفربسراء (مسلم لیگ ن)،یونین کونسل نمبر54 آدمکے چیمہ میں چوہدری ذوالفقار احمد(مسلم لیگ ن)،یونین کونسل نمبر68 بڈھا گورائیہ میں حاجی محمددین بٹ(مسلم لیگ ن)،یونین کونسل نمبر50 سیوکی میں ذوالفقار ناگرہ ،یونین کونسل نمبر64منڈیکی گورائیہ میں آفتاب شاہد گورائیہ (آزاد)یونین کونسل نمبر65 سیان میں فاروق وڑائچ ،یونین کونسل نمبر55 بمبانوالہ میں چوہدری رسالت گجر (مسلم لیگ ن)،یونین کونسل نمبر61 گلوٹیاں خورد میں عامر شہزاد،یونین کونسل نمبر62گلوٹیاں کلاں میں ملک جمیل اختر(مسلم لیگ ن)، یونین کونسل نمبر52حسنات الحسن شاہ شامل ہیں۔تحصیل اٹھارہ ہزاری کی یونین کونسلوں کے نتائج سے مقامی مسلم لیگی ایم پی اے کو شدید دھچکا پہنچا ہے 11میں سے صرف 2میں ایم پی اے میاں محمد اعظم چیلہ کے حمایت یافتہ چئیرمین و وائس چئیرمین کے امیدوار کامیاب ہوسکے ان کی آبائی یونین کونسل واصو آستانہ میں ان کے بھانجے میاں محبوب احمد سخت مقابلے کے بعد جیتے ہیں جبکہ’’جبوآنہ گروپ‘‘ جس کی قیادت سابق ایم پی اے فیصل حیات جبوآنہ کے پاس ہے نے آٹھ سیٹیں حاصل کیں حلقہ پی پی ۔82میں فیصل جبوآنہ کے حامی کل دس یونین کونسلوں میں چئیرمین کے امیدوار کامیاب ہوئے ا ن کے اکثر امیدوار بھاری ووٹوں کی اکثریت سے جیتے ہیں یونین کونسل رشید پور میں سابق قائمقام ضلعی ناظم نواب بابر علی خان سیال نے 15سو ووٹوں کی برتری سے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی ان کے پینل میں شامل تمام کونسلر بھی کامیاب ہو گئے ہیں البتہ میونسپل کمیٹی اٹھارہ ہزاری میں چیلہ گروپ نے11میں سے7سیٹیں لے لیں تمام امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیا جبوآنہ گروپ کے امیدواروں کی پوزیشن شروع میں کمزرو نظر آتی تھی مگر فیصل حیات جبوآنہ اور گروپ کے دیگر رہنماؤں نے کامیاب حکمت عملی سے بھرپور انتخابی مہم چلا کر پانسہ پلٹ دیاایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر حلقوں میں’’چیلہ گروپ ‘‘کے حامی ایک سے زائد پینل میدان میں تھے جنہیں وہ یکجا نہ کر سکے جبکہ دوسری جانب ایم پی اے موصوف نے زیادہ تر خاندان کی ایک ایسی شخصیت کے مشوروں پر انحصار کیاجن کی علاقے میں شہرت اچھی نہ تھی اس بنا پر خاندان کے دوسرے دھڑے سے صلح بھی ان کے کام نہ آئی اور میاں جا وید یاسین چیلہ اور میاں حبیب الرحمان چیلہ ان کی مخالفت میں ڈٹے رہے پولنگ کے دوران عین دوپہر کو ایم پی اے کے دست راست میاں ظفر چیلہ کا گرفتار ہو جانا بھی ان کیلئے نقصان دہ رہا اس واقعہ اور شکست کی بنا پر چیلہ گروپ کا گراف کافی گرا ہے صلح کے نتیجہ میں میاں حبیب الرحمان چیلہ آف واصو کو میونسپل کمیٹی اٹھارہ ہزاری کی چئیرمین شپ کا امیدوار بنایا گیا مگراس مرحلے پر بھی انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

مزید : صفحہ اول