ہوپ کے وفد کی وفاقی سیکرٹری مذہبی امور سے ملاقات،حج پالیسی پر تبادلہ خیال

ہوپ کے وفد کی وفاقی سیکرٹری مذہبی امور سے ملاقات،حج پالیسی پر تبادلہ خیال

لاہور(ڈویلپمنٹ سیل)حاجی کیمپ لاہور میں ہوپ کے چےئرمین حاجی مقبول احمد کی قیادت میں وفد کی وفاقی سیکرٹری مذہبی امور سہیل عامر مرزا سے طویل ملاقات ڈائریکٹر حج سعید احمد ملک بھی ملاقات میں موجود رہے، ہوپ کی طرف وفد میں شامل دیگر قائدین میں سابق چےئرمین حاجی شاہد رفیق،چودھری محمد اکبر،چےئرمین پنجاب احسان اللہ ،امتیازبھٹی،شفیق کاشف،جاوید اقبال،اشفاق مرزا ،حاجی احمد،عابد شیخ،حاجی ریاض شامل تھے ،حج پالیسی2016ء کے حوالے سے بعض امور زیر بحث آئے وفاقی سیکرٹری نے ہوپ کے نمائندوں کے سامنے قائمہ کمیٹی اور ارکان اسمبلی کی طرف سے سامنے آنے والے تحفظات پر بات کی اور پرائیویٹ حج سکیم کو موثر بنانے اور حج سکیم کو افورڈ ایبل بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کو کہا جس پر احسان اللہ ،حاجی احمد،شاہد رفیق،امتیاز بھٹی نے بھی فردََ فردََ پرائیویٹ حج سکیم اور سرکاری حج سکیم کے بنیادی فرق کی وضاحت کی سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کے ائیرلائنز کے کرائے کے واضع فرق پر بھی بات ہوئی ،پرائیویٹ عازمین کی ڈیمانڈ کے مطابق جمرات کے قریب مکتب اور فائیو سٹار ہوٹل کی فراہمی اور اے گریڈ مکتبوں کی قیمت اور فائیو سٹار ہوٹلز کی قیمتوں پر بھی تفصیلی بات ہوئی وفاقی سیکرٹری کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم کے پیکج کو سرکاری سکیم کے پیکج برابر لانے کی بات ہوئی جس پر وفد کے ارکان نے وفاقی سیکرٹری کو تفصیل سے آگاہ کیا پرائیویٹ حج سکیم کا حاجی سرکاری رہائشوں اور جمرات سے دور مکتب میں رہنے کا پابند ہوتا ہے جس فلائٹ پر وزارت لے جائے اس پر چلا جاتا ہے پرائیویٹ سکیم میں شارٹ حج کا کرایہ 40روزہ سرکاری عازمین سے 50ہزار روپے زیادہ ہے وی آئی پی مکتب پانچ ہزارریال کا ملتا ہے جبکہ سرکاری سکیم کا مکتب500ریال میں ملتا ہے ہوپ وفد نے پرائیویٹ حج سستا کرنے کے حوالے سے بعض امور کی نشاندہی کی جو وزارت کی دلچسپی سے ممکن ہے40سے50ہزار سستا تو ائیرلائنز کے کرائے یکساں رکھنے میں ہو سکتا ہے معلوم ہوا ہے وفاقی سیکرٹری نے ہوپ کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کیا ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے ہوپ نے بھی وفاقی سیکرٹری کو یقین دلایا ہے پرائیویٹ حج سکیم کی بہتری کے لیے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات میں بھر پور تعاون کیا جائے گا اور حاجی سے کی گئی کمٹمنٹ کو پورا کرنے کے لیے پورے وسائل بروہ کار لائے جائیں گے۔

مزید : صفحہ آخر