محکمہ ایکسائز کی ملی بھگت سے مختلف ہوٹلوں میں روزانہ لاکھوں کی شرب کی غیر قانونی فروخت ا نکشاف

محکمہ ایکسائز کی ملی بھگت سے مختلف ہوٹلوں میں روزانہ لاکھوں کی شرب کی غیر ...

لاہور(رپورٹ ،محمد یو نس با ٹھ) شہر کے مختلف ہوٹلوں میں محکمہ ایکسائز نے انتظا میہ سے ساز باز کر کے شراب کی غیر قا نونی اور کھلے عا م فروخت شروع کر رکھی ہے ،پر مٹ کا خیا ل نہیں رکھا جا تا اور شراب کی بو تل 3ooروپے سے 5 ہزار روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔ مختلف ہو ٹلوں میں روزانہ 35ہزار سے زائد بو تلیں فروخت ہو نے کا انکشا ف ہواہے جبکہ محکمہ ایکسائز کا عملہ شراب مہنگے داموں اور غیر قا نو نی فروخت کر نے کے عوض روزانہ مبینہ طور پر ایک لا کھ ر وپے سے زائد رقم مختلف ہو ٹلو ں کی انتظا میہ سے وصو ل کررہا ہے۔ با خبر ذرائع سے معلوم ہواہے کہ شہر بھر کے چھو ٹے اور بڑے ہو ٹلو ں میں محکمہ ایکسائز کے تعا ون سے شراب کے غیر قانو نی فروخت ہورہی ہے ۔تما م بڑ ے یعنی فائیو سٹار ہو ٹلو ں پرمحکمہ ایکسائز کا عملہ تعینات ہو نے کے با وجود وہا ں پر بھی شراب مہنگے دا مو ں فروخت کی جا رہی ہے اور اس غیر قا نو نی کا م میں محکمہ ایکسائز کا عملہ ملوث ہے اوروہ اس مکرو ہ دھند ے کے عوض مبینہ طور پر رشوت وصول کر تا ہے۔شہر کے مختلف ہوٹلو ں میں فروخت ہونے وا لی شرا ب کے متعلق ذرائع نے دعو یٰ کیا ہے کہ روزانہ 35ہزار سے زائد بو تلیں فروخت ہو رہی ہیں ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 8ہزار سے زائد غیر مسلمو ں کے لیے شراب کے پر مٹ بھی جا ر ی کیے گئے ہیں جبکہ جو شراب فروخت ہو رہی ہے اس کی فروخت پر مٹ سے کہیں زیا د ہ ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہر کے مختلف علا قو ں میں محکمہ ایکسائز کے انسپکٹروں نے شراب کی فروخت کے لیے اپنے سیل پوائنٹ بھی بنا رکھے ہیں جہا ں غیر قا نو نی فروخت ہو تی ہے۔اس مکرو ہ دھند ے کے لئے انھو ں نے کئی شرابیو ں کو سا تھ ملا رکھا ہے ۔فائیو سٹار ہوٹل کی بار میں تعینا ت محکمہ ایکسائز کے ایک اہلکار نے بتا یا کہ ہما رے اپنے ہی محکمے کے ملاز مین نے محکمے کا ستیا نا س کر دیا ہے ۔ اگرٹھیک طر یقے سے پر مٹ کے مطا بق ہو ٹلو ں کو ان کے کو ٹہ کے مطا بق شراب کی فراہمی کی جا ئے تو محکمہ ایکسائز کو ایک منا سب اور اچھا ریو نیو حاصل ہو سکتا ہے، ہو ٹلو ں پر شراب کی غیر قا نو نی فروخت میں محکمہ ایکسائز کا عملہ سو فیصد ملوث ہے اور اس سے محکمے کی بد نا می ہو رہی ہے ۔اس مکروہ دھند ے میں محکمہ ایکسائز کا چھوٹا عملہ ہی نہیں بڑے افسران بھی ملو ث ہیں، سیکر ٹر ی ایکسائز کو اس با ت کا نو ٹس لینا چا ہیے۔

مزید : صفحہ آخر