کوہ نورہیرے کی اصل قیمت! (1)

کوہ نورہیرے کی اصل قیمت! (1)
کوہ نورہیرے کی اصل قیمت! (1)

  

لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو پابند بنائے کہ ملکہ برطانیہ کے تاج میں نصب کوہ نور ہیرا واپس لانے کے لئے اقدامات کرے۔ درخواست میں ملکہ برطانیہ ، برطانوی ہائی کمیشن، وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔ چند دن پہلے بھارتی صنعت کاروں کے ایک گروپ نے بھی برطانوی قانونی فرم روبرک لوئیس کنگ کی وساطت سے ملکہ برطانیہ کو نوٹس بھیجا ہے کہ وہ ہندوستان کی ملکیت کوہ نور ہیراانڈیاکو واپس کریں یا پھر عالمی عدالت انصاف میں قانونی کاروائی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔پاکستان کا موقف اس سلسلے میں یہ رہا ہے کہ چونکہ یہ ہیرا اس وقت کی پنجاب حکومت جس کا دارلحکومت لاہور تھا ،سے چھین کر برطانیہ لے جایا گیا تھا سو ’’کو ہ نور‘‘پاکستان کو ملنا چاہئے ۔ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ ہیرا ہمیشہ ہندوستان کی ملکیت رہا اور چھینا بھی مفتوح سکھ حکومت سے گیا سو یہ اس کو ملنا چاہئے ۔ سکھ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ہیرا آخری سکھ مہاراجہ دلیپ سنگھ سے لیا گیا اس لئے اس پر سکھوں کا حق ہے۔ ایک وقت میں افغانستان بھی اس کا دعوے دار تھا، اس کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ہیرا احمد شاہ درانی اور اسکی اولاد کی ملکیت رہا۔ احمد شاہ درانی کے پوتے شاہ شجاع سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جبراً لیا سو اس کا حق دار افغانستان ہے ۔ایران نے کبھی دعویٰ تو نہیں کیالیکن اگر ملنے کی امید ہوتو وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ نادرشاہ ایرانی تھا اور ہندوستان سے ’’کوہ نور‘‘ لوٹ کر سیدھا ایران ہی آیا تھاچنانچہ اسے ایران کو ملنا چاہئے ۔

’’کوہ نور‘‘ اس ہیرے کو یہ نام نادر شاہ نے دیا۔ یہ ہیرا تقریباً ایک ہزار سال پہلے گولکنڈا، جنوبی ہند کی ایک کان سے نکالا گیا تھا۔ مشہور راجہ بکرما جیت کی تحویل میں اس کا پتہ ملتا ہے ۔ بعد میں یہ کئی راجوں کی ملکیت رہا،پھر مشہور جنرل ملک کافور نے اسے حاصل کرکے سلطان علاؤ الدین خلجی کو پیش کیا۔ برسوں یہ خلجی خاندان کی ملکیت رہاپھر ابراہیم لودھی کے پاس اسکی خبر ملتی ہے جس کو شکست دے کر شہنشاہ ظہیرالدین بابر نے اسے اسکی ماں سے حاصل کیا۔ ’’توزک بابری‘‘ میں بابر نے اسکی اونچی قیمت کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر اس کو فروخت کیا جائے تو پوری دنیا کے انسانوں کو دو دن کا کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔مغلیہ خاندان کی ملکیت یہ ہیرا بادشاہ محمد شاہ جس کو اس کی عیاشیوں کی نسبت سے ’’محمد شاہ رنگیلا‘‘ کہا جاتا ہے ، کے پاس آیا۔ 1739 ء میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کرکے لاکھوں خلق خدا کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نادر شاہ نے محمد شاہ کا سارا خزانہ اورمشہور زمانہ ’’تحت طاؤس‘‘ اپنے قبضے میں لے لیا اور بادشاہ کو برقرار رکھ کر یہ سب کچھ ایران لے جانے کی تیاری کرنے لگا۔ ایک مخبر نے نادرشاہ کو بتایا کہ اصل چیز تو بادشاہ نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھی ہے ۔نادرشاہ نے ایک تقریب منعقد کی اور اس تقریب میں کہا کہ محمد شاہ آج سے میرا بھائی ہے۔ ہماری رسم ہے کہ جس کو بھائی کہہ دیں ، اسکی پگڑی اپنے سر اور اپنی پگڑی اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں ۔ یہ کہہ کر نادر شاہ نے محمد شاہ کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر فوراً اسکی پگڑی اپنے سر رکھ لی اور اپنی اسکے سر، یوں یہ نادر ہیرا نادر شاہ کے ہاتھ لگ گیا۔

جب نادر شاہ نے اس ہیرے کو پہلی بار دیکھا تو حیرانی کے عالم میں اسکے منہہ سے بے ساختہ نکلا،’’کوہ نور‘‘ یعنی روشنی کا پہاڑاسکے بعد اس ہیرے کو ’’کوہ نور‘‘ ہی کے نام سے پکارا جانے لگا۔نادر شاہ اپنے ساتھ اسے ایران لے گیا۔ایران جاکر لاکھوں انسانوں کا قاتل نادرشاہ ذہنی طور پر ٹھیک نہ رہا۔ شکی مزاج اور حد سے زیادہ ظالم بن گیایہاں تک کہ اپنے سگے بیٹے کو محض شک کی بناء پرآنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر اندھا کر دیا۔ اسکے عتاب سے اسکے ماتحت افسر بھی محفوظ نہ تھے سو اس کے ذاتی محافظوں نے 19 جون 1747ء کو اس پر حملہ کرکے اسکا سر تن سے جدا کرکے اس کے ایک بہادر جرنیل احمد شاہ درانی کو اس کا جانشین بنا دیا۔ یوں ’’کوہ نور‘‘ احمد شاہ کے پاس آگیا۔ احمد شاہ درانی نے بعد ازاں جدید افغانستان کی بنیاد رکھی ۔ احمد شاہ درانی کو تاریخ میں اب احمد شاہ ابدالی ،افغان قوم کا بابا یعنی باپ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسکا بیٹا تیمور شاہ بادشاہ بنا جس کے 21 بیٹے تھے جو باپ کے مرنے کے بعد سبھی بادشاہت کے امیدوار تھے لیکن بادشاہ اسکا بیٹا زمان بنا۔ شاہ زمان کے بھائی محمود نے اس کا تختہ ا لٹ کر اسکی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر بھائی کو اندھا کرادیا جو کہ اس زمانے کی عام سزا تھی۔1803ء میں محمود کا تختہ الٹ کراس کا بھائی شجاع بادشاہ بنا اور ’’شاہ شجاع الملک ‘‘ کہلایا۔ 1809 ء میں شاہ شجاع برطانوی مشن سے ملاقات کے لئے پشاور آیا ہوا تھا کہ محمود پھر اپنی بادشاہت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ پنجاب میں رنجیت سنگھ کی حکومت تھی ۔ قسمت کئی آزمائشوں کے بعد معزول شاہ شجاع اور اسکی بیوی وفا بیگم کولاہور لے آئی ۔ لاہور آنا بھی شاہ شجاع کے لئے بڑی آزمائش بن گیا کیونکہ رنجیت سنگھ کو علم تھا کہ ’’کوہ نور‘‘ شاہ شجاع کے پاس ہے ۔ شاہ شجاع اور اسکی وفا بیگم کا اس لالچ میں بظاہر والہانہ استقبال ہوا اور انہیں رہائش کے لئے مشہور مبارک حویلی دی گئی ۔ شروع کے اچھے سلوک کے کچھ دن بعد شاہ شجاع سے’’کوہ نور‘‘ کا مطالبہ شروع کردیا گیا۔ لالچ بھی دیئے گئے لیکن شجاع نے اسکی اپنے پاس موجودگی سے انکار کردیا۔ کبھی ترغیب سے، کبھی سختیوں سے شجاع کو آمادہ کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوئی تو شجاع کو نظر بند کردیا گیا۔ کبھی خوراک روک لی جاتی تو کبھی قتل کی دھمکی دی جاتی ۔ شاہ شجاع نے آخرکار جان اور عزت کا خطرہ محسوس کرکے رنجیت سنگھ کا مطالبہ پورا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔(جاری ہے)

رنجیت سنگھ کو یہ خبر ملی تو اسکی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ یکم جون 1813 ء کو مہاراجہ رنجیت سنگھ چھ سو گھڑسواروں کے جلوس کے ہمراہ ہیرا وصول کرنے مبارک حویلی پہنچا۔ فقیر عزیز الدین اور دوسرے سرکردہ درباری بھی راجہ کے ہمراہ تھے۔بدنصیب اور جلاوطن شاہ شجاع نے لاہور کے حکمران کا استقبال کیا لیکن دونوں بادشاہ تقریباً ایک گھنٹہ خاموش بیٹھے رہے ۔ رنجیت سنگھ کی بے چینی قابو سے باہر ہونے لگی تو شاہ شجاع کے اشارے سے اسکے ایک خواجہ سرا نے اندر جاکر کپڑے میں لپٹاہوا ’’کوہ نور‘‘ لاکر شاہ اور مہاراجہ کے درمیان رکھ دیا۔ رنجیت سنگھ نے پوٹلی کھول کر ہیرا نکالا اور حیرانی کے عالم میں اپنی واحد آنکھ کے سامنے گھما کر دیکھتا رہا پھر شاہ شجاع سے پوچھا کہ یہ ہیرا کس قدر قیمت کا ہوگا۔ شاہ شجاع نے جو قیمت بتائی وہ میں آپ کو اس کالم کے آخر میں بتاتا ہوں لیکن یہ قیمت سن کر مہاراجہ اٹھا اور ہیرے کو پوٹلی میں باندھ کر شکریے کا یا کوئی الوداعی کلمہ کہے بغیر جلدی سے کمرے سے نکل گیا۔

27 جون 1839ء کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کا انتقال ہوگیا۔ اس نے مرنے سے قبل وصیت کی کہ’’ کوہ نور‘‘ کو جگن ناتھ کے مندر یا گورو رام داس کے ادارے کو خیرات کے طور پر دے دیا جائے لیکن اسکی وفات کے بعد خزانے کے انچارج مصر بیلی رام نے ایسا نہ کرنے دیا۔رنجیت سنگھ کے بعد کھڑک سنگھ مہاراجہ بناجو ایک نالائق اور افیم کا عادی انسان تھا۔جس کو اسکے بیٹے نونہال سنگھ اور اسکی رانی بیوی چند کورنے عضو معطل بنا کر رکھ دیا۔5 نومبر1840ء کو کھڑک سنگھ اڑتیس سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔اسکے اگلے روز اسکی آخری رسومات کے دن نونہال سنگھ بھی ایک سازش کا شکار ہوکر چل بسا۔ رانی چند کور ۔ شیر سنگھ اور 1843 میں آخری مہاراجہ دلیپ سنگھ۔ یہ سب ناہل حکمران ثابت ہوئے ۔ ناکامی کی بڑی وجہ اختیارات پر وزیروں کا حاوی ہونا اور وزیروں کا فوج کے ’’انڈر پریشر ‘‘ ہونا۔اندر خانے دربار میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ فوج کی کسی طریقے’’اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے‘‘ چنانچہ فوج کو کمزور کرنے لئے اسے انگریزوں سے لڑا دیا گیا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی بھی ’’اینٹ سے اینٹ بج گئی‘‘ (یہ سب ایک الگ کالم کا متقاضی ہے جو انشاء اﷲ پھر کسی وقت) ۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے صرف دس سال کے اندرکرپٹ اور نااہل حکمرانوں نے فوج ، قوم ، اپنی حکومت اور اپنی عزت سب کی حقیقی معنوں میں ’’اینٹ سے اینٹ بجا دی‘‘ اور1848 ء میں سکھ یا پنجاب حکومت کا خاتمہ کرکے اسے انگریزی عمل داری میں شامل کرلیا گیا۔ کمسن مہاراجہ دلیپ سنگھ کو برطانیہ جلاوطن کردیا گیا ۔ اس سے ’’کوہ نور‘‘ لے کر ضبط کرلیا گیا ۔

3 جولائی 1850ء کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے چیئرمین نے یہ ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو پیش کردیاجو آج کل موجودہ ملکہ برطانیہ کے شاہی تاج کی زینت ہے ، جس کے حصول کے لئے جناب بیرسٹرجاوید اقبال جعفری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اب تک اس ہیرے کی واپسی کے لئے 786خطوط پاکستانی حکام اور ملکہ ایلزبتھ کو لکھ چکے ہیں ۔میری دعا ہے کہ جناب اقبال جعفری کی کوششیں رنگ لائیں اور ’’کوہ نور‘‘ پاکستان کو مل جائے لیکن یہ خاکساراس سلسلے میں کوئی خاص پرجوش نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے اگر’’کوہ نور‘‘ پاکستان کی حکومت کو مل گیا تو ایک امکان یہ ہے کہ یہ ہیرا ’’آئی ایم ایف‘‘ کو گروی رکھ کر اسکے عوض قرض لے لیا جائے گا۔ اب قرض تو اوپر والے کھا پی جائیں گے اور بھگتیں گے جناب جعفری، یہ خاکسار اور آپ سب ۔ تو جو تازہ ترین ضربیں جواسحاق ڈار صاحب نے لگائی ہیں ، ابھی تواس پر ہی ’’ٹکوریں‘‘ ہو رہی ہیں ۔ٹماٹر ہانڈی میں ڈالنا چھوڑ دیا ہے اور دہی خریدنا بند کردیا ہے کیونکہ اسحاق ڈار صاحب فرماتے ہیں کہ یہ امیر لوگ کھاتے ہیں۔ شائید ان کی لغات ہی ’’دو نمبر ‘‘ہے جس میں امیر کے معنی غریب اور غریب کے معنی امیر کے ہے ۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ ہیرا گفٹ آئٹم کے طور پر رکھ لیا جائے لیکن یہاں بھی رسک ہے کہ کسی مقتدر ہستی کی بیگم کی نظر پڑگئی تو اس نے اپنے شوہر کو مجبور کردینا ہے کہ یہ کوئی ترکی کے صدر کی بیگم کا دیا ہوا ہار تھوڑی ہے جو شور مچے گابس ایک پتھر کا ٹکڑا ہی تو ہے ۔ نیت اس مقتدر ہستی کی بھی ایسے ہی ہونی ہے ۔ گمان یہی ہے کہ دس ہزار ارب روپے مالیت ’’کوہ نور‘‘کی کلیرنس سیل لگا کر اسکے دس بارہ زیرو اڑا کر قومی خزانے میں کوئی دس بارہ لاکھ جمع کراکر یہ ہیرا غائب کردیا جائے گایا اسکی جگہ چائنہ سے منگوا کر دو نمبر ہیرا رکھ دیا جائے گا۔

تیسرا امکان یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اس ہیرے کو فروخت کرکے کھربوں ڈالر لے لئے جائیں اور قوم کو تین چار ماہ بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف دے دیا جائے ۔ بعد میں ’’ایان علی اور ہمنوا زندہ باد‘‘ سمندر میں لانچیں بھی چلتی ہیں جو ڈالر دوبئی اور لندن پہنچا دیں گی اور یہ کھربوں ڈالر ’’الٹے بانس بریلی کو‘‘ کے مصداق پھر باہر پہنچ جائیں گے ۔سو جناب اقبال جعفری سے گزارش ہے کہ وہ زیادہ خوش نہ ہوں کہ ہیرا مل جائے گاتو قوم کے دلدر دور جائیں گے ۔ جس قسم کی کہانیاں جناب ذولفقار مزرانے سنائی ہیں، قارون کا خزانہ بھی ان لوگوں کے لئے کم ہے ۔ مناسب یہی ہے کہ درخواست واپس لے لیں ۔ شائید قدرت نے ہماری قسمت میں واقعی کوئی اہل شخص بھی رکھاہو ، اس وقت تک انتظار کرلیں ۔

کہا جارہا ہے کہ ’’کوہ نور‘‘ ہیرے کی قیمت دس ہزار ارب روپے ہے لیکن یہ تو اندازہ ہے ۔ اصل قیمت وہ ہے جو شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ کو بتائی تھی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ’’کوہ نور‘‘ لے کرحیرانی، خوشی اور تجسس سے اس کو اپنی اکلوتی آنکھ سے دیکھنا شروع کیا توساتھ ہی شاہ شجاع سے پوچھا کہ اسکی کتنی قیمت ہوگی ۔ شاہ شجاع نے جواب دیا کہ ’’ اس کی قیمت لاٹھی ہے۔ میرے بزرگوں نے لوگوں کو لاٹھی مار کر ان سے چھینا تھا، تم نے مجھ کو لاٹھی مار کر چھینا ہے، کوئی اور زبردست ایساآئے گاکہ وہ تم کو لاٹھی مار کر چھین لے جائے گا‘‘ شاہ شجاع کا کہا درست ثابت ہوا ۔ برطانیہ کی لاٹھی رنجیت سنگھ کے جانشین پر کاری ضرب سے لگی اور ’’کوہ نور‘‘ اس کا ہوا۔برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2013ء میں اپنے دورہ بھارت میں واضح کردیا تھا کہ ’’کوہ نور‘‘ واپس نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان ہویا انڈیا، افغانستان ہویا سکھ مہاراج ۔ کسی کی لاٹھی اگر برطانیہ سے مضبوط ہے تو ’’کوہ نور‘‘ مل سکتا ہے وگرنہ ’’کوہ نور‘‘ کے صرف خواب ہی دیکھیں کیونکہ خواب ہی ہم غریبوں کا مقدر ہیں اور تسلی کی بات یہ ہے کہ خوابوں پر نہ تو حکومت پابندی لگا سکتی ہے اور نہ ہی جناب اسحاق ڈار کوئی ٹیکس!!

مزید :

کالم -