کراچی کے نتائج۔ ووٹ کی طاقت کے احترام کی ضرورت

کراچی کے نتائج۔ ووٹ کی طاقت کے احترام کی ضرورت
 کراچی کے نتائج۔ ووٹ کی طاقت کے احترام کی ضرورت

  

ایم کیو ایم نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے۔ ملک کی اسٹبلشمنٹ کے لئے بہت سے سوالات پیدا کر دئے ہیں۔ اسی طرح ووٹ کی طاقت پر بھی سوال پیدا کر دئے ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کی ہار نے بھی ان کی دھاندلی کے مقدمہ کو ایک مرتبہ پھر دفن کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون و اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے گو کہ عمران خان سے استعفیٰ مانگ لیا ہے۔ لیکن استعفیٰ تو دور کی بات ہے ۔لیکن یہ بات درست ہے کہ عمران خان اور ان کے نمبر ٹو شاہ محمود قریشی کو ان کے بنیاد ی انتخابی حلقوں میں شکست ہوئی ہے۔ جس نے ان کی سیاست، انداز سیاست پر بہت سے سوالیہ نشان کھڑے کر دئے ہیں۔ جماعت اسلامی ویسے تو کے پی کے کے علاوہ پورے ملک میں بری طرح ہار گئی ہے۔ لیکن گزشتہ روز جب جماعت اسلامی کے رہنماء فرید پراچہ ٹی وی پر جماعت اسلامی کا مقدمہ لڑ رہے تھے تو مجھے حیرانی ہو رہی تھی۔ کیونکہ ان کے بیٹے نے تو شیر کے نشان پر الیکشن لڑا تھا ۔ تو وہ جماعت اسلامی کا مقدمہ کیسے لڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے بہت محنت سے اپنے بیٹے کو شیر کا نشان لیکر دیا تھا۔ حالانکہ وہ شیر کے نشان پر بھی ہار گیا

لیکن کیا ہم بحیثیت ایک جمہوری قوم ووٹ کی طاقت کا حترام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ کیا اس ملک کی اسٹبلشمنٹ بھی ووٹ کی طاقت کا احترام کرنے کے لئے تیار ہے۔ ویسے تو یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔ لیکن ہم نے بحیثیت قوم ووٹ کی طاقت کا احترام نہ کرکے ہمیشہ نقصان ہی اٹھا یا ہے۔ اس لئے اس بار ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ووٹ کی طاقت کا احترام ضروری ہے۔

ویسے تو عمومی طور پر یہ کہا جا تا ہے کہ اسٹبلشمنٹ ووٹ کی طاقت کا احترام نہیں کرتی۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جمہور ی قوتوں نے بھی ووٹ کی طاقت کے استحصال کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ کبھی ادھر تم ادھر ہم کہہ کر ووٹ کی طاقت کا استحصال کیا گیا۔ اور ابھی حال ہی میں دھاندلی کے خلاف ایک مقدمہ بنا کر دھرنوں کے ذریعے 2013 کے انتخابی نتائج کو متنازعہ بنا یا گیا۔ حالانکہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے 2013 کے انتخابی نتائج کی توثیق ہی کی ہے۔

ویسے تو بلدیاتی انتخابات میں بہت سے اپ سیٹ ہوئے ہیں۔ جن میں بدین میں ذوالفقار مرزا کی جیت، ملتان میں شاہ محمود قریشی کی ہار،سب ہی بڑے اپ سیٹ ہیں۔تحریک انصاف کی پنجاب میں اس قدر بری شکست کو بھی اپ سیٹ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے کراچی کی بات کی جائے ۔

کراچی کے حوالے سے سب سے بڑا پراپیگنڈا یہی تھا کہ کراچی کے عوام کو ایک آزاد اور منصفانہ ماحول میں ووٹ دینے کی اجازت نہیں۔ بلکہ یہ کہا جا رہا تھا کہ لوگ اور ان کے ووٹ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے ہاتھوں میں یر غمال ہیں۔ یہ کہا جا تا تھا کہ عسکری ونگز اتنے متحرک و فعال ہیں۔ کہ ان کے مقابلے میں کوئی انتخابی مہم چلائی ہی نہیں جا سکتی ۔ ٹارگٹ کلنگ سے ایک سیاسی جماعت نے اپنے مخالفین کو ایک پلاننگ کے ساتھ صاف کر دیا ہے۔ اس لئے اب کوئی جان کے خوف سے مقابلے پر انتخاب لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ بات صرف اسٹبلشمنٹ نہیں کہہ رہی تھی بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں یک زبان ہو کر یہ بات کہہ رہی تھیں۔ اس طرح اس ضمن میں ملک کے سیاسی ماحول میں اتفاق رائے موجود تھا۔ اور اس ضمن میں اسٹبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہ ہو گا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ کہ کراچی کے حالات بھی خراب تھے۔ امن و امان کا مسئلہ تھا۔ بھتے کا مسئلہ تھا۔ ٹارگٹ کلنگ روزانہ کا معمول تھا۔ بنک ڈکیتیاں تھیں۔ اور اس سب کا سیاسی طور پر ایم کیو ایم کو ہی ذمہ دار ٹھہرا یا جا تا تھا۔ اس لئے یہ تاثر بھی مضبوط تھا کہ کراچی آپریشن ایم کیو ایم کے خلا ف ہے۔ اسی تاثر کو سامنے رکھ کر ہی کراچی آپریشن کی میڈیا مہم ترتیب دی گئی۔ میڈیا مہم اس لئے لکھ رہا ہوں ۔ کیونکہ رینجرز کے ٓاپریشن کے دوران جن بھی ملزمان کے خلاف جو بھی الزمات لگائے گئے ہیں۔ ان کو ابھی عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے اکثر ملزمان یا تو جیل میں ہیں یا رینجرز کی حراست میں ہیں۔ لیکن ابھی عدلیہ نے اس سارے معاملے کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا یا ہے۔ اس لئے ابھی اس کو میڈیا مہم ہی کہا جا سکتا ہے۔ جس میں صولت مرزا کا پھانسی کی کالی کوٹھری سے بیان بھی شامل تھا۔ ہر روز ایک خبر آتی رہی ہے کہ فلاں ٹارگٹ کلر کو پکڑ لیا گیا۔بھتہ خور پکڑا گیا۔ سیکٹر انچارج پکڑا گیا۔ اسلحہ پکڑا گیا۔یہ بات بھی درست ہے کہ نظام انصاف میں خرابیاں ہیں۔ اور یہ ایک بنیادی وجہ ہے۔

لیکن اس سب کے بعد ہوا کیا۔ شاید پورے ملک کے عوام نے تو اس میڈیا مہم کا بہت اثر لیا۔ اور ایم کیو ایم کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار ہوگئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کراچی کے عوام نے اس ساری میڈیا مہم کا کوئی اثر نہیں لیا۔ انہوں نے بار بار ایم کیو ایم کو ووٹ دیکر کیا پیغام دیا ہے۔ اس پیغام کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیا کراچی کے عوام کہہ رہے ہیں کہ وہ کبھی یر غمال نہیں تھے۔ ان کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹبلشمنٹ غلط بیانی کر رہی تھیں۔را کی دخل اندازی کی داستانیں بھی غلط ہیں۔ وہ ہمیشہ سے اپنی مرضی سے ایم کیو ایم کو ووٹ دے رہے تھے۔ اور دیتے رہیں گے۔ کیا اب ہم کراچی کے عوام کی ووٹ کی طاقت کے آگے سرنگوں ہو جائیں گے۔ کیا کراچی کے عوام اہل پاکستان کو اپنی بات سمجھانے میں کا میاب ہو گئے ہیں۔ یا ہم اب بھی ان کی ووٹ کی طاقت کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ میں پریشان ہوں کہ کیا اہل کراچی کو پاکستان کے مفاد کی سمجھ نہیں۔ کیا ہم ان کی بات نہیں سمجھ رہے۔ یا وہ ہماری بات نہیں سمجھ رہے۔ لیکن ووٹ کی طاقت کے آگے سرنگوں ہونا ہی جمہوریت ہے۔ باقی سب سیاسی جماعتوں کو اپنی بات اہل کراچی کو سمجھانے کے لئے مزید محنت کرنا ہو گی۔ انہیں بھی ہار نہیں ماننی چاہئے۔ اور اپنا سفر جاری رکھنا چاہئے۔

مزید : کالم