سری لنکا میں پاک بھارت کرکٹ سیریز شروع ہونے کا قوی امکان

سری لنکا میں پاک بھارت کرکٹ سیریز شروع ہونے کا قوی امکان

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

بنکاک میں پاک بھارت سکیورٹی مشیروں کی اچانک اور غیر متوقع ملاقات پر بات تو بعد میں کرتے ہیں اس سے پہلے ایک بریکنگ نیوز یہ ہے کہ سری لنکا میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کھیلے جانے کا قوی امکان پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈوں نے تو سیریز کھیلنے پر اتفاق کیا تھا لیکن بھارتی بورڈ نے اسے اپنی حکومت کی اجازت سے مشروط کردیا تھا۔ یہ اجازت تو اب تک نہیں ملی لیکن اس دوران دو تین اہم پیش رفتیں ضرور ہوگئی ہیں۔ پہلی پیش رفت پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعظم نریندر مودی کا مصافحہ اور چند لمحوں کی بات چیت تھی جس میں زیادہ سے زیادہ حال احوال ہی پوچھا جاسکتا ہے یا چند جملوں کا ہی تبادلہ ہوسکتا ہے لیکن یار لوگوں نے اس ملاقات کے مصرعہ طرح پر دو غزلے اور سہ غزلے کہنے شروع کردیئے۔ بہت سوں کو برف پگھلنے کے نتیجے میں بہنے والا پانی بھی نظر آگیا اور کچھ تو وہ تھے جو اس بات کا راگ چھیڑ بیٹھے تھے سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا‘ دوسری پیش رفت چند روز قبل یہ ہوئی کہ سرحد پار سے یہ اطلاع آئی کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج ہاٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آئیں گی۔ اتوار کو ایک تیسری پیش رفت بنکاک میں ہوئی‘ جہاں کے ’’شعلے‘‘ نوجوان فلم بینوں کے دلوں کی دھڑکن ہوا کرتے ہیں‘ وہاں سے پاکستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کی اچانک اور غیر متوقع ملاقات کی خبر آئی۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’راز و نیاز‘‘ کا جو سلسلہ پیرس میں وزرائے اعظم کے درمیان شروع ہوا تھا وہ چلتے چلتے بنکاک پہنچ گیا ہے۔ جب یہ ملاقات ہو رہی تھی اسی روز لاہور میں بھی ایک اہم پیش رفت کرکٹ کے حوالے سے ہوئی۔ بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر شاہد ملک کے گھر پی سی بی کے چیئرمین شہریار ایم خان اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر سی راگھوان کی ملاقات ہوئی جہاں اس امر پر اتفاق رائے پایا گیا کہ دونوں ملکوں میں جو کرکٹ سیریز سری لنکا میں کھیلنے کا طے کیا گیا ہے اسے بھارتی حکومت کی منظوری حاصل ہو جائے گی‘ امکان یہ ہے کہ چند روز میں اس کا اعلان بھی ہو جائے گا۔

بنکاک میں ’’خوشگوار اور تعمیری ماحول‘‘ میں دونوں ملکوں کے قومی سکیورٹی مشیروں کی جو چار گھنٹے طویل بات چیت ہوئی وہ ’’مسئلہ کشمیر‘ دہشت گردی‘ کنٹرول لائن پر کشیدگی اور خطے میں امن و سلامتی کے امور‘‘ پر محیط تھی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے جولائی میں اوفا (روس) میں جو ملاقات کی تھی اس کے نتیجے میں ایک دس نکاتی اعلان بھی جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) نئی دہلی میں ملاقات کریں گے۔ بھارت نے اگست میں اعلان کیا کہ یہ ملاقات تو ہوگی لیکن اس میں مسئلہ کشمیر زیر بحث نہیں آئے گا کیونکہ یہ جامع مذاکرات کا موضوع ہے جو ابھی بحال نہیں ہوئے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں بات چیت صرف دہشت گردی تک محدود رہے گی۔ اس وقت پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز تھے‘ جنہوں نے اعلان کیا کہ کشمیر پر بات چیت نہیں ہوگی تو پھر ملاقات بھی نہیں ہوگی‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس گرما گرم فضا کے اثرات نیویارک تک بھی پہنچے‘ جب ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے نریندر مودی اور وزیراعظم نواز شریف موجود تھے اور ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے ہونے کے باوجود دونوں کا سرراہ ٹاکرا بھی نہ ہوا نہ کہیں مصافحہ ہوسکا‘ البتہ ایک اجلاس میں جب دونوں کی نظریں چار ہوئیں تو ہاتھ ہلاکر بغیر کوئی لفظ بولے ہیلو ہائے کرلی گئی‘ یا پھر سر کی جنبش سے جواب دے دیا گیا۔ اب پیرس میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد یہ دو اہم واقعات ہوئے ہیں‘ ایک تو سشما سوراج عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام آباد آ رہی ہیں‘ اگرچہ ان کا یہ پاکستان کا باقاعدہ دورہ نہیں ہے لیکن وہ بہرحال پاکستان کے دارالحکومت میں تو موجود ہوں گی اس لیے عین ممکن ہے کہ باہمی معاملات بھی زیر بحث آئیں۔ بنکاک کی ملاقات اور سشما سوراج کی آمد سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ اگر بات چیت ہوگی تو اس میں متنوع موضوعات ہوں گے‘ کشمیر بھی ایک موضوع ہوگا اور کنٹرول لائن کی کشیدگی بھی زیر بحث آئیگی‘ خطے کا امن و سلامتی تو بہرحال اس سے پیوست ہے۔ ان سارے موضوعات کے ساتھ دہشت گردی بھی ایک موضوع ہے‘ جس کا پاکستان زیادہ شکار ہے اور ایسی اطلاعات منظرعام پر آچکی ہیں کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی ہیں اس کیلئے تربیت یافتہ دہشت گرد چمن کے راستے پاکستان آتے ہیں اور ان کی تربیت میں افغانستان میں بھارتی قونصل خانے ملوث ہیں۔ اس ملاقات کے بعد امکان ہے کہ سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ملاقاتوں اور جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو جائے گا۔ جہاں تک بھارتی وزیر خارجہ کا تعلق ہے‘ ان کی آمد کا بنیادی مقصد اگرچہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت ہے تاہم سائیڈ لائن پر پاکستانی حکام سے بھی ملاقاتیں ہونے کا امکان ہے جو مذاکرات کی باضابطہ بحالی پر منتج ہوسکتی ہیں۔

مزید : تجزیہ