گوجرانوالہ،انتظامیہ خود ساختہ مشینی دودھ کی فروخت روکنے میں ناکام

گوجرانوالہ،انتظامیہ خود ساختہ مشینی دودھ کی فروخت روکنے میں ناکام

گوجرانوالہ(بیورورپورٹ)ڈسٹرکٹ گوجرانوالہ میں بڑے پیمانے پر انتہائی خطرناک خودساختہ مشینی دودھ کی فروختگی کادھندہ تسلسل سے جاری ہے جس کے استعمال سے شہریوں کی بڑی تعدادخاص کربچے‘بیشترموذی اورجان لیوا امراض میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ سرکاری اداروں نے انسانی صحتوں کے قاتلوں کے خلاف قانونی ایکشن لینے کی بجائے پراسرارخاموشی اختیارکررکھی ہے ایک خصوصی سروے رپورٹ کے مطابق شہراوراس کے گردونواح میں درجنوں مقامات پر پابندی شدہ خشک دودھ میں خطرناک کیمیکل پاؤڈرملاکرلوہے کے پلانٹس پرزہریلامشینی دودھ تیارکرکے اسے بڑے پیمانے پرفروخت کیاجاتا ہے جبکہ بیسیوں دودھی دھن لکشمی اکٹھی کرنے کے چکرمیں شہراوراس کے بیرونی علاقہ جات میں لگی کریم نکالنے والی مشینوں پردودھ کی کریم اوربلائی بیچ کراس کے پھوک میں مختلف اجزا شامل کر کے اسے فروخت کیا جاتا ہے۔مذکورہ خطرناک اورزہریلے کیمیکل ملے دودھ کے استعمال سے سینکڑوں شہری انتڑیوں‘ معدہ‘ گردے ‘پھیپھڑے ‘جگر‘یرقان‘مثانہ‘پٹھوں کی کمزوری‘تپ دق سمیت دیگرمہلک اورجان لیوا امراض کانشانہ بن رہے ہیں جبکہ مذکورہ نقلی اورخطرناک دودھ کی بڑی مقدار دیگر اضلاع میں سپلائی کی جاتی ہے جسے گھروں کے ساتھ ساتھ مٹھائیاں بنانے ‘فاسٹ فوڈ ‘بیکریوں اور دیگرکئی کھانے پینے کی بننے والی اشیاء میں استعمال کیاجاتا ہے۔ بیشترسرکاری اہلکارایسے اڈوں سے باقاعدہ منتھلیاں وصول کرتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر