ایکشن سے بھر پور فلموں کا اثر کمسن بچوں کے ہاتھوں سکنڈائیر کا طالب علم قتل

ایکشن سے بھر پور فلموں کا اثر کمسن بچوں کے ہاتھوں سکنڈائیر کا طالب علم قتل

چارسدہ (بیورورپورٹ)سٹی تھانہ کے حدود قاضی خیل میں سکنڈ ایئر کے طالب علم کو کمسن بچوں نے قتل کر دیا۔24گھنٹے کے اندر کم سن ملزمان کے ہاتھوں دو طالب علموں کے قتل میں کم سن چار ملزمان الہ قتل سمیت گرفتار۔مار دھاڑ ،ایکشن سے بھر پور فلمیں اور اسلحہ کی سرعام نمائش کی وجہ سے بچوں کا ذہن خراب ہو رہا ہے ۔ سیاست دانوں اور بااثر لوگوں نے اسلحہ کی سرعام نمائش چھوڑ دی تو غریب کا بچہ کبھی اسلحہ نہیں اٹھائے گا۔ سپارک کے کوآرڈنیٹر ظہور احمد کا موقف۔ تفصیلات کے مطابق سٹی تھانہ کے حدود قاضی خیل میں گزشتہ رات سکنڈ ایئر کے طالب علم میاں کامران باچا ولد منیر باچا کو کمسن دوستوں تیرا سالہ خالد اور چودہ سالہ علی نے گولیاں مار کر قتل کر دیا جبکہ گزشتہ روز بھی نستہ میں نویں جماعت کے طالب علم کو دو کمسن طالبعلموں عباس اور واجد نے قتل کیا ۔ ایسے وارداتوں کے بعد عموماً ملزمان علاقہ غیر یا دوسرے شہر فرار ہوتے ہیں مگر مذکورہ دو نوں وارداتوں میں مبینہ ملوث کمسن ملزمان آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ تین کم سن بچوں کو سٹی تھانہ کے ایس ایچ او عمران خان نے ان کے گھروں پر چھاپہ مار کر الہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ کمسن ملزمان اتنے ناسمجھ تھے کہ کم از کم الہ قتل غائب کر دیتے جبکہ نستہ میں کم سن قاتل عباس کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا توکم سن ملزم نے دیدہ دلیری دکھا کر درجنوں پولیس اہلکاروں سے اکیلے مقابلہ شروع کیا اور کافی دیر فائرنگ کے تبادلہ بعد کم سن ملزم کو پولیس نے اسلحہ سمیت زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ اس حوالے سے سپارک کے ضلعی کوآرڈنیٹر ظہور احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اسلحہ کی سرعام نمائش ، مار دھاڑ اور ایکشن سے بھر پور فلمیں ، سیاست دانوں ، وزراء اور بااثر لوگوں کے ارد گرد مسلح سیکورٹی کی بھر مار بچوں کے نفسیات پر منفی اثر ڈالتے ہیں ۔اکثر وبیشتر شادی بیاہ کی تقریبات اور جلسے جلوسوں میں کم سن کارکنان قیادت کو دیکھ کر اسلحہ کی نمائش کو فیشن سمجھتے ہیں اور جب بھی معمولی حادثہ پیش آتا ہے تو ایسے کمسن بچے گولی چلانے سے دریغ نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد بالخصوص والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ ناخوش گوار واقعات کا تدارک کیا جاسکے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر